عوام، جان گئے ہیں

Hafeez Khatak
Print Friendly, PDF & Email

The public have known The public have known The public have known The public have known The public have known The public have known The public have known The public have known The public have known

تحریر: حفیظ خٹک

وطن عزیز کی بائیس کڑور سے زائد عوام میں منفرد وہ شخص ہے، بے حال اور معاشرے کی بے حد و حالی جو اچھے حال کی جانب لے جانے جا عزم کر کے آگے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اک بڑی آبادی والے ملک کے سیاستدانوں کے ساتھ ہی نظام حکومت چلانے والوں نے اس ایک فردکو دیکھ کر اس کا جائزہ ہی نہیں بغور جائزہ بھی لیا تاہم پھر بھی انہیں یہ پاکستانی نظام حکومت کیلئے مناسب نہیں لگ رہا ہے۔شاید یی وجہ ہے کہ اس کے سبھی محالفین اسے نت نئے ناموں سے پہچانتے ہیں۔
قیام پاکستان سے اب تلک کے رہنماؤں کے کرداروں کو سمجھنے کیلئے ان کے کرداروں کا جائزہ لیں تو اس ایک فرد جیسے لوگ کم ہی ملیں گے۔ وطن عزیز میں آنے والے حکمرانوں کو، سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذہبی و دیگر جماعتوں کو بھی دیکھیں تو اس ایک فرد سے مماثلت نہیں مل پاتی ہے۔صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ اس کے حق میں ہر آنے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ جب حقداروں کی تعداد بڑھ رہی ہے تو لامحالہ اس کے محالفین کی تعداد کم ہونے کے ساتھ ہی ان میں اتحاد برھ رہا ہے اور وہ سب ایک ہی صف میں کھڑے ہورہے ہیں۔
عمران خان، جس نے اب تلک پانی ساری زندگی میں جھکنے سے پرہیز کیا، خدا کے سوا اس شخص نے کسی کے بھی سامنے زیر ہونا تسلیم نہیں کیا، اس کا کردار اس کے ہر عمل کی عکاس ہے۔ اپنی زندگی میں اس نے اک نہیں بلکہ کئی اک اہداف رکھے اور اللہ وحدہ لاشریک پر یقین رکھتے ہوئے ان اہداف کے حصول کیلئے اس نے جدوجہد کی۔ اس عمران خان کی یہ جدوجہد تاحال جاری ہے اور ہر طرح کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی وطن عزیز پاکستان کیلئے اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے جدوجہد جاری ہے۔
اس ملک کے سابق وزیراعظم اور کرکٹ کے عظیم کھلاڑی عمران خان کی والدہ مرحومہ شوکت خانم کینسر کے موذی مرض مبتلا ہوئیں اور اسی مرض کے باعث ان کی زندگی کا اختتام ہوا۔عمران خان نے اس وقت ہی یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ اپنی والدہ کے نام پر سرطان ہی کا ایک ہسپتال بنائے گا اور اس ہپستال میں مریضوں کا مفت علاج بھی ہوا کرے گا۔ کرکٹ کا عالمی کپ جیتنے کے بعد اس شخص نے اپنے اس ہدف کی جانب قدم اٹھایا اور وہ وقت جلد ہی آیا جب پوری قوم کے ساتھ دینے کے بعد لاہور میں اس ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھا گیااور اس کی جلد تکمیل کے ساتھ اس میں مریضوں کا علاج معالجہ شروع ہوا۔ اس ہدف کے حصول کے بعد عمران خان نے ملک کی صورتحال کو درست کعنے کیلئے اپنی اک سیاسی جماعت تحریک انصاف کے نام سے شروع کی، پاکستان تحریک انصاف کے سفر کو آج چھبیس برس ہوگئے ہیں اور یہ برس اس جماعت کی اک ایسی داستان بن چکی ہے کہ جسے مستقبل میں طلبہ کو پڑھایا جایا کرے گا۔
عمران خان نے شوکت خانم ہسپتال کے بعد نمل یونیورسٹی کا بھی بنیاد رکھنے کے ساتھ اس کو تعمیر کیا اور بہترین تعمیری معیار کی فراہمی کے ساتھ وہ ادارہ ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستان کی عوام نے ہمیشہ حقداروں کا ساتھ دیا، عوام کے سامنے جو کچھ سیاستدانوں نے رکھا اس کو عوام نے تسلیم کیا اور ان کی یہ تسلیمات مدتوں جاری رہیں۔ ماننے کے اس صفت کے باعث عوام نے سیاسی جماعتوں کے قریب سے نہیں پرکھا اور انہیں ہمیشہ ان کی باتوں پر ان کے دعووں پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے اوپر حکمران بنایا۔ اس عمل کے مثبت کم اور منفی نتائج زیادہ سامنے آئے۔ عمران خان نے وطن عزیز کی سیایسی جماعتوں کی حقیقتوں کو عوام کے سامنے رکھا، ان کے کرداروں کو ان کی کارکردگیوں کو سامنے لاتے رہے جس کے مثبت اثرات آہستہ آہستہ سامنے آتے رہے اور پھر وہ وقت بھی آگیا کہ جب عمران خان نے وطن عزیز کی بھاگ دوڑ سنبھالی۔
اپنے دورحکومت میں ملک کے اندر اور باہر نامساعد حالات کے باوجود اپنے کھیل کے میدانوں کی کپتانی کا کردار ادا کیا اور بہترین کپتان کی حیثیت سے تاریخ ساز کام کئے۔ یقینا عوام ان کاموں کو کبھی نہیں بھول پائے گی اور یہی وجہ ہے کہ آج تحریک انصاف کا کپتان عوام کے دلوں میں رہہ رہا ہے۔
چند روز قبل عمران خان کے اوپر قاتلانہ حملہ ہوا اور اللہ ہی فضل کرم سے ان کی جان بچی، ان حالات میں وطن عزیز سمیت دنیا بھر مقیم پاکستانیوں و عام انسانوں نے ان کی صحتیابی کیلئے دعائیں۔ اسی ذات عظیم کی مہربانیوں کے سبب عمران خان کو گولیاں لگنے کے باوجود اللہ نے ان کی جان بچائی اور آج بھی وہ عوام کیلئے وطن عزیز کیلئے جہدوجہد کر رہے ہیں۔
ماہ نومبر کے آخری دنوں میں انہوں نے قوم کے راولپنڈی بلایا، قوم کو بلانے کا واحد مقصد انتخابات کے مطالبے کی تکمیل تھا۔ ہر شعبہ زندگی میں ملک کے حالات کی خرابی کی درستگی کیلئے نئے انتخابات اور پھر نئی حکومت کا قیام ازخد ضروری ہے۔ مہنگائی اور معیشت کی ابتر صورتحال میں حکومت میں موجود سیاسی جماعتوں کی کارکردگی سے عوام مایوس ہوچکی ہے۔ عمران خان کی کال پر عوام نے لبیک کہا اور لاکھوں کی تعداد میں اسلام آباد کے قریب راولپنڈی میں سب جمع ہوئے۔ اسی اجتماع میں عمران خان بھی زخمی حالت میں آئے، اس وقت بھی انہوں نے کسی کا سہار ا نہیں لیا اور اپنی مدد آپ کے تحت اسٹیج پر آئے۔
ان کی ہمت و جرائت کو دیکھتے ہوئے تقریب میں اک عجب جذباتی سا ماحول بن گیا تھا۔
عمران خان نے اس روز اپنی انفرادیت کا بھر پور مظاہرہ کرتے ہوئے تمام اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا جسے عوام نے پسند کیا۔ کئی دنوں اور کچھ مہینوں کا سازوسامان ساتھ لانے والی عوام نے عمران خان کے اس فیصلے کو قبول کیا۔ حکومت وقت نے جس انداز میں اس اجتماع کو اور اس جلسہ عام کو روکنے کیلئے انتظامات کئے تھے وہ سب دھرے کے دھرے رہہ گئے اور عمران خان اپنے بہترین سیاسی فیصلے کا مظاہرہ کیا اور عوام کے دل جیت لئے۔
عمران خان کی اب تلک کی جانے والی جدوجہد کا جائزہ لینے کے بعد یہ واضح ہوتا ہے کہ حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے فیصلے کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں اور اسی کامیابی کی توقع اس فیصلے کے بعد بھی کی جاسکتی ہے۔۔۔

Short URL: https://tinyurl.com/2ef4xnfv
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *