شاعری: احمد نثارؔ

غزل: مِثل گھٹاؤں کی پائی جب جن کے کالے بالوں نے

شاعر : احمد نثارؔ ، شہر پونہ، مہاراشٹر، انڈیا Email : ahmadnisarsayeedi@yahoo.co.in مِثل گھٹاؤں کی پائی جب جن کے کالے بالوں نے عمر گذاری پیاسے وہ کر اُن کے چاہنے والوں نے وہ بھی خاصر ہم بھی خاصر ساری دنیا

غزل: تِرا خیال مِرا مسکنِ خیال بنا

شاعر : احمد نثارؔ تِرا خیال مِرا مسکنِ خیال بنا تِرا جمال مِرا گلشنِ خیال بنا خیالِ یار سے معراج ہوگئی میری خیالِ شوق تِرا خرمنِ خیال بنا سمٹ کے رہ گئے تیرے تخیلات جہاں میرے خیال میں تو چلمنِ

غزل: نہ حاکمی کے لئے اور نہ ہی شاں کے لئے

شاعر: احمد نثارؔ  شہر پونہ، مہاراشٹر، بھارت Email : ahmadnisarsayeedi@yahoo.co.in نہ حاکمی کے لئے اور نہ ہی شاں کے لئے جہاں میں آیا ہے تو صرف امتحاں کے لئے کسک ہے سوز ہے آہ و فغاں کی سیلانی تمام درد

غزل: اُس دشمنِ جاناں کو نہ پھر یاد کروں گا

شاعر : سید نثار احمد (احمد نثارؔ )۔ اُس دشمنِ جاناں کو نہ پھر یاد کروں گا ہر گز نہ غمِ دل کو کبھی شاد کروں گا جب میرے دلِ زار کی سنتا نہیں تو بھی نہ زار کروں گا

غزل: راستوں میں قافلے کا نقشِ پا رہ جائے گا

شاعر: احمد نثارؔ ، شہر پونہ، مہاراشٹر، بھارت راستوں میں قافلے کا نقشِ پا رہ جائے گا سب مسافر چل پڑیں گے راستہ رہ جائے گا زندگی محسوب کرتی ہی رہی رمزِ نہاں آنکڑے مٹ جائیں گے اور ضابطہ رہ

زندگی

شاعر : سید نثار احمد (احمد نثارؔ )۔ (شہر پونہ، مہاراشٹر، بھارت) دنیا کی اس ہجوم میں تنہا ہے زندگی گلشن میں ایک گل کی تمنا ہے زندگی در در بھٹکنے والوں کا صحرا ہے زندگی جیسے کسی فقیر کا

قلم

دیدہ نم ہوکر قلم یہ کرگیا تحریر ہے یہ میری تحریر گویا کہ میری تصویر ہے میں نے جو لکھا میرا کچھ بھی نہیں میں کچھ نہیں جو بھی لکھا خالقِ لولاک کی تقریر ہے میری تحریریں دلِ کاغذ سے