خود کش دھماکے میں ہزارہ برادری کے 61 افراد ہلاک

Print Friendly, PDF & Email

کابل ۔ افغانستان میں احتجاجی مظاہرے کے دوران ہونے والے 2 بم دھماکوں میں 61 افراد ہلاک جب کہ 200 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بجلی کے منصوبے میں ہزارہ برادری کے علاقوں کو نطر انداز کیے جانے کے خلاف ہزارہ برادری کے ہزاروں افراد احتجاج کررہے تھے کہ اچانک زور دار دھماکا ہوگیا جس سے مظاہرے میں بھگدڑ مچ گئی، اسی دوران دوسرا دھماکا بھی ہوا جس کے نیتجے میں اب تک 61 افراد ہلاک جب کہ 200 سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔   ادھر افغان حکام نے 61 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہیں جہاں کئی افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جب کہ تمام افراد کو طبی امداد دی جارہی ہیں۔  وزارت داخلہ کے مطابق دھماکوں کے حوالے ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا تاہم شواہد سے لگتا ہے کہ دھماکے خود کش تھے جبکہ مظاہرے میں عوام کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث ہلاکتوں میں بھی مزید اضافے کے خدشہ ہے۔ دھماکوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کرلی ہے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ گزشتہ چار گھنٹے سے ہزارہ برادری کا احتجاج جاری تھا جس کے بعد مظاہرین احتجاجی کیمپ لگانے کی تیاریاں کررہے تھے ، اسی دوران زور دار دھماکا ہوگیا۔ افغان خبر رساں ادارے خامہ پریس کے مطابق گزشتہ روز ہی افغان نیشنل آرمی کے کمانڈوز نے داعش کے گڑھ سمجھے جانے والے مشرقی صوبہ ننگر ہار میں آپریشن شروع کیا تھا۔ طلوع نیوز کے مطابق افغان طالبان نے اس حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا۔ رپورٹ میں پولیس کے حوالے سے کہا گیا کہ ایک خود کش بمبار دھماکا کرنے میں کامیاب رہا جبکہ دوسرا بم خراب نکلا جبکہ تیسرے خودکش بمبار کو دھماکا کرنے سے پہلے ہی ہلاک کردیا گیا. عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ایک خود کش بمبار برقع پہنا ہوا تھا، زخمی ہونے والوں میں تین پولیس چیفس بھی شامل ہیں. واضح رہے کہ بجلی کے مذکورہ منصوبے کے خلاف ہزارہ برادری کا یہ دوسرا احتجاج ہے اور اس میں پرتشدد واقعات کا خدشہ پہلے ہی ظاہر کیا گیا تھا۔ یہ منصوبہ ایشیائی ترقیاتی بینک کا حمایت یافتہ ہے اور اس میں ترکمانستان، ازبکستان، تاجکستان، افغانستان اور پاکستان بھی شامل ہیں۔ اس منصوبے کا ابتدائی روٹ بامیان صوبے سے ہوکر گزررہا تھا جہاں ہزارہ برادری کی اکثریت ہے تاہم 2013 میں اس وقت کی حکومت نے اس کا راستہ تبدیل کردیا تھا۔ مظاہرے میں شریک رہنمائوں نے روٹ کی تبدیلی کو ہزارہ برادری کے ساتھ امتیازی سلوک قرار دیا۔ مظاہرے میں شامل افراد افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے خلاف نعرے لگارہے تھے اور امتیازی سلوک مردہ باد اور تمام افغان باشندوں سے یکساں سلوک کا مطالبہ کررہے تھے۔ افغان صدر اشرف غنی نے بھی اس واقعے کی مذمت کی ہے، افغان صدارتی دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ پر امن احتجاج ہر شہری کا حق ہے اور اس مظاہرے کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ سیکیورٹی انتظامات کے باوجود موقع پرست عناصر مظاہرین کے آڑ میں داخل ہوگئے اور خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ دوسری جانب وزیراعظم نوازشریف نے بھی کابل دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی تمام صورتوں کی مذمت کرتے ہیں جبکہ دکھ اورغم کی اس گھڑی میں افغانستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں یہ ہمارے مشترکہ دشمن ہیں ان کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے لئے مشترکہ اور ٹھوس کوششیں کرنی ہوں گی۔

 861 total views,  2 views today

Short URL: http://tinyurl.com/gl7v72v
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *