کتابی حوصلہ افزائی کرنے والوں کے حوصلے کو سلام

Zafar Iqbal Zafar
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: ظفر اقبال ظفر

ایف جے رائٹرز فورم کے زیر اہتمام الحمراء آرٹ کونسل لاہور میں گولڈ میڈل تقریب کا انعقادکالم نگار فیچر رائٹر مصنف ظفر اقبال ظفر کی کتاب ظفریات کو منفرد اہمیت پر گولڈ میڈل دیا گیافضیلت جہاں رائٹرز فورم کے زیر اہتمام الحمراء آرٹ کونسل مال روڑ لاہور میں بہترین کتابوں کے مصنفین کو گولڈ میڈ ل پہنا کر حوصلہ افزائی کی گئی جس میں ملک بھر سے مقابلہ کتب 2023کے لیے حاصل ہونے والی کتابوں کو نامور ادبی قلمی شخصیات کی نگرانی میں معیار کو پرکھتے ہوئے گولڈ میڈ ل کے لیے نامزد کیا گیا تھا جس میں کالم نگار فیچر رائٹر مصنف ظفراقبال ظفر کی کتاب ظفریات کو منفرد اہمیت کی خاصیت پرسینئر ادبی قلمی شخصیات کے ہاتھوں گولڈ میڈل سے نوازا گیا مصنف ظفر اقبال ظفر کا کہنا ہے کہ میری یہ کتاب خدا کی عطا کی وہ جھلک ہے جو میرے اندر کئی منظر رونما رکھتی ہے اس کتاب سے منسلک جن آسمانی کیفیات کو اپنے دل و دماغ پر نازل ہوتے ہوئے پایا انہیں لفظوں میں قید کرنے کی زمہ داری نبھانے میں لگا رہا خیال خیال لفظ لفظ جوڑ کر تحریریں بنتی ہیں اور تحریر تحریر جوڑ کر کتاب بنتی ہے میری اس خدائی نعمت کی کتاب کو پی ڈی ایف فائل میں ہی اندرون اور بیرون ممالک کے سینکڑوں قارئین کی طرف سے جو داد وصول ہوئی وہ بھی میرے لیے ایوارڑ کا درجہ رکھتی ہے اور قارئین کی داد خالص سچائیوں کی عکاسی اس لیے ہوتی ہے کہ وہ ذاتی تشہیر کے حصول سے پاک ہوتی ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس ملک پاکستان میں قلم و کتاب سے منسلک ادبی احباب مصنفین کی حوصلہ افزائی میں اپنی جیب سے خرچ کرکے ادب کو زندہ رکھنے میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں انہی میں ایک نام ایف جے رائٹر فورم کا بھی ہے جس نے تنقید کے تیر برداشت کرتے ہوئے مقابلہ کتب 2023کا انعقاد کروایا اور کامیابیوں کے جھنڈے گاڑتے ہوئے اس جہاد کو جاری رکھنے کا اعلان کیا جس پر میں ڈاکٹر چوہدری تنویر سرور کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں بلا شبہ اس تقریب کی کامیابی میں متضمین کا بڑا ہاتھ ہے جس میں نمایا ں نام ملک امداد الہی اور مہر اشتیاق احمد جیسے دیگر دوستوں کا ہے جنہوں نے مصنفین کو عزت بخشنے کے مرحلے پر تنظیم و تقریب کے روح رواں بانی و چیرمین ڈاکٹر تنویر سرور کی عزت بڑھائی۔کامیابی اور عزت ہمیشہ اُن لوگوں پر مہربان رہتی ہے جو اپنے مخلص دوستوں کی اہمیت سے انصاف کرتے ہوئے قدر دانی کا دامن نہیں چھوڑتے۔قلم و کتاب ایک مقدس پیشے کا نام ہے اور یہ عباد ت جیسا کام ہے اس لیے اس میں نیتوں کا بڑا عمل دخل ہے ادب خدا کی طرح نظر نا آنے والے اُس احساس کا نام ہے جو اپنے خدمت گزاروں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا انہیں عزت دینا لوگ اپنی عزت ماننے لگتے ہیں۔میری کتاب ظفریات کو گولڈ میڈل ملنا کتاب کی قدردانی کا نام ہے اور اس طرح کی قدردانی کرنے والے ہر ادبی ہیرے کو سلام پیش کرتا ہوں جو لوگ ادب سے پیار کرتے ہیں وہ کتابیں پڑھتے ہیں اور جن سے ادب کو پیار ہو جاتا ہے وہ کتابیں لکھنے لگتے ہے اس کام کی ابتدا پڑھنے سے ہی شروع ہوتی ہے کتاب قدم اٹھائے بغیر آپ کو جہانوں کی سیر کروانے کا نام ہے۔اعتراف خدمت کے ساتھ ساتھ اہمیت قلم و کتاب پر بات کرنا لازم اس لیے سمجھتا ہوں کہ میری خواہش ہے ہر پڑھنے والا لکھنے کی جانب قدم بڑھائے اور جن عزتوں کی لذت اللہ نے مجھے چکھائی ہے وہ بھی اس سے مستفید ہوں سوشل میڈیا کے اس نشہ آور ماحول میں کتاب و ادب کی ترویج کا کام جہاں آسان ہوا ہے وہاں لازم بھی ہوا ہے ہمیں کتاب سے موجود اور آنے والی نسلوں کوجوڑنے کی زمہ داری پر بھی گہری نظر رکھنی ہے جیسے خدا نے قلم جیسا ہتھیارتھمایا ہے اُسے تحریر وکتاب کی حفاظت سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔یہ ادب ہی ہے جو انسان کو بات کرنے کا سلیقہ سیکھاتا ہے انداز بیان عطا کرتا ہے کہ زبان کے لفظ دل کی دہلیز پرپہنچ کر رُوح کو پاکیزگی بخشتے ہیں ہر لکھاری اپنی پہچان اپنی تحریر میں رکھتا ہے اور میرا اسلوب یہ ہے کہ ایسا لکھا جائے جو ہر دور میں اصلاح کی راہ ہموار کرئے اچھا ادب پڑھنے والے جب گفتگو کرتے ہیں تو ایسے لگتا ہے کوئی اپنے دامن میں جگنو چھپا کے لایا اور اندھیروں میں چھوڑ کر چلا گیا لکھاری اپنے خیال کو لفظوں میں تصویر بنانے کا فن رکھتا ہے اور اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ جھوٹی عزتیں تخلیق کرنے کی بجائے سچی کاوشوں پر محنت کی جائے تو عزتیں خود آپ کے وجود کا طواف کرتی ہیں۔لکھاریوں کی خوصلہ افزائی کرنے کا حوصلہ رکھنے والوں کے اقدامات قلم و کتاب سے منسلک احباب کوکھلی فضا میں سانسیں لینے کا ماحول سونپتے ہیں تاکہ وہ جن آفاقی روشنی سے اپنے زہنوں کو روشن کرتے ہیں ان سے معاشرے کو روشناس کروائیں۔قلم وکتاب پر بے لوث حوصلہ افزائی کرنے والے ادب کے گلشن کے وہ مالی ہیں جو چاہتے ہیں معاشرہ خوشگوار احساس کے ساتھ خوشبودار ماحول میں پروان چڑھے ان کے اپنے ہاتھ دوران آبیاری زخمی بھی ہوں مگر معاشرے کے زخموں کے لیے مرہم بنانے کے عمل سے پیچھے نہیں ہٹتے میں ایسے درویشوں کے ہاتھوں کو چوم کر نہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں

zafaryaat gold madil pic
Short URL: https://tinyurl.com/2oohar9j
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *