انعام القرآن ٹرسٹ پاکستان کا پیغام

Zafar Iqbal Zafar
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: ظفر اقبال ظفر

انعام القرآن ٹرسٹ پاکستان کے زیر اہتمام لاہور گلبرگ کے نجی ریسٹورینٹ میں پرنٹ اینڈ الیکٹرونک میڈیا سے وابستہ کالم نگاروں صحافیوں کے لیے نشست کا انعقاد ہوا تفصیلات کے مطابق ترجمان انعام القرآن ٹرسٹ جناب امداد الہی کی دعوت پر معاشرے کی اصلاح میں قلم سے جہاد کرنے والے لکھاریوں کو اکٹھا کیا گیا جنہیں انعام القرآن ٹرسٹ پاکستان کے روحانی مقاصد کی جدوجہد سے آشنا کروایا گیا تاکہ ان قلمکاروں کے زریعے شعوری تبلیغ کا پیغام پہنچایا جائے جس سے دنیاوی مقاصد سے وابستہ دینی حلقے کے دئیے گئے زخموں پر مرہم رکھا جائے اور ان کو خدا کے حقیقی پیغام سے وابستہ کرنے والی کتاب القرآن سے جوڑا جائے تاکہ عام مسلمانوں میں قرآن پاک کو ترجمے سے پڑھنے کا وہ شعور اجاگر ہو کہ جب ان سے کوئی دین سے دنیا کمانے والا فرقہ پرست مولوی قرآن و حدیث سے ہٹ کر بات کرے تو یہ خود اس کی روک تھام کرتے ہوئے مسلم معاشرے کو ابہام سے بچا کر اسلام کے حقیقی تعارف کو پیش کر سکیں تاکہ نہ صرف مسلم معاشرہ بلکہ غیر مسلم بھی اسلام کے خوبصورت چہرے دیکھتے ہوئے خیر و سلامتی کامیابی کے مذہب اسلام سے اپنی زندگیوں کو منور کر سکیں مسلم معاشرے کو فرقوں میں تقسیم کرنے والوں کا خاتمہ صرف اس طرح ممکن بن سکتا ہے کہ جہالت کے اندھیرے اللہ اور رسول اللہ ؑ کے فرمان سے مٹائے جائیں اور اس عمل کو قرآن پاک کی تعلیمات سے ہی کامیاب بنایا جا سکتا ہے اس شعوری جہاد کا نام انعام القرآن ٹرسٹ ہے جو ہر انسان و مسلمان کو قرآن کے انعام سے ملانے کے لیے دن رات کام کر رہا ہے علمی خزانے کے ساتھ ساتھ انعام القرآن ٹرسٹ غریبوں یتیموں مسکینوں سمیت ضرورت مند انسانوں کی مدد کرنے پر بھی گامزن ہے اور ملک بھر سمیت دنیا بھر میں جہاں جہاں مسلمانیت و انسانیت حسن سلوک کی طرف نگاہیں جمائے بیٹھی ہے ان تک ہر ممکن مدد پہنچانے کے لیے درد دل رکھنے والوں سے حصہ جمع کرکے پہنچایا جاتا ہے۔ڈائریکٹر جنرل انعام القرآن ٹرسٹ پاکستان جناب پروفیسر حافظ عتیق اللہ نے میڈیا سے وابستہ وفد سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے مزید بتایا کہ دورحاضر میں معاشرے کو مختلف مسائل سے نکالنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے ایک سازش کے زریعے امت مسلمہ کو فرقوں میں تقسیم میں رکھا جا رہا ہے جبکہ ایک اللہ ایک رسول ایک قرآن کی طرح مسلمانوں کو بھی ایک ہی شرعی صف میں کھڑے ہونا چاہیے قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت کے تمام خزانوں کا نہ صرف زکر کیا ہے بلکہ اللہ کے فرمان سے ہٹنے والوں کے انجام اور اللہ کی ماننے والوں کے انعام کا بھی تزکرہ موجود ہے اسلام کی تعلیمات ہر طبقے ہر فرد ہر معاشرے کے لیے کامیابی کا واحد راستہ ہے جس سے جو مسلمان باخبر ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے دوسروں تک پہنچائیں اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے اور یہ آخری نبی ؑ حضرت محمد ﷺ کی محبوب اُمت کے زمے ہے یہ وہ فرمان خدا اور فرمان مصطفی ؑ کی روشنی سے معاشرے کی بکھری صورتحال پر کام کریں انعام القرآن ٹرسٹ اسی ضرورت کے تناظر میں وجود میں لائی گئی ہے اور ہم سب سے مل کر قرآن فہمی کو آسان فہمی کے ساتھ پیش کرنے کا جہاد شروع کیا ہے جو کسی طرح سے بھی کسی انسان کو نقصان پہنچانے کی مخالفت کرتا ہے اسلام عظیم کردار کا نام اور کام ہے اس میں فلاح انسانیت پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے حسن سلوک سے غیروں کو گلے لگانا اور اپنوں کے درد کی دوا بننا ہی اسلام کی حقیقی تبلیغ ہے اسلامی معاشرے کو فرقوں میں تقسیم سے بگاڑ پیدا کرنے والوں سے اسلام کے ہی نام سے اسلام اور مسلمانوں کو تو نقصان پہنچایا ہی ہے بلکہ غیر مسلم طبقے کو بھی اسلام کی جانب آنے سے مشکلات پیدا کی ہیں قرآن پاک کی سائنسی شاخوں سے زمانے کو وہ ترقی دی ہے جس سے آج لوگوں کی زندگیاں نا صرف سہولتوں سے وابستہ ہیں بلکہ روزگار سے بھی جڑی ہیں قرآن پاک مسلمانوں کے لیے وہ تحفہ ہے جس سے مسلمان کم اور غیر مسلم زیادہ فائدہ اُٹھا رہے ہیں اسی لیے دنیا بھر کے کافر اسلام کی سچائیوں کو تو مانتے ہیں مگر مسلمانوں کے کمزور اعمال کی وجہ سے اسلام میں آنے سے ابہام کا شکار ہیں جس دن مسلمان اسلام کے مطابق ہو گئے تو دنیا کے سارے غیر مسلموں کے پاس اسلام قبول کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا۔اسلام و قرآن کے خوبصورت تعارف و مشن پر گفتگو کرنے کے بعد ڈائریکٹر جنرل جناب حافظ عتیق اللہ اور ترجمان انعام القرآن ٹرسٹ امداد الٰہی نے صحافتی وفد کے شرکاء میں میڈل اور قرآن پاک تقسیم کیے۔ جن میں میگزین ایڈیٹر روزنامہ مشرق ندیم نظر۔میگزین ایڈیٹر روزنامہ جہان پاکستان عقیل انجم اعوان۔کالم نگار و فیچر رائٹر ظفر اقبال ظفر۔کالم نگار ڈاکڑ تنویر سرور چوہدی۔کالم نگار مہر اشتیاق۔کالم نگار فضل اعوان۔ڈاکٹر اشرف طاہر۔محمد رضوان باجوہ۔خرم علی۔راؤمصطفی۔مختیار شاہ۔سعد مزاری۔اقبال کمبوہ۔محمد عمران امین ودیگر حضرات شامل ہیں۔مذہبی روشنی سے جہالت کے اندھیرے مٹانے سے افضل کام کوئی نہیں مگر یہ یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ حقوق العباد قضا کرکے حقوق اللہ کے فرض قبول نہیں کروائے جا سکتے دنیا کا بگڑاہوا ہر شخص دین میں بنتا ہے مگر دین کا بگڑا کہیں نہیں بنتاخیال رکھا جائے کہ مسلمان کی وجہ سے اسلام پر حرف نہ آئے۔

Short URL: https://tinyurl.com/2j423l98
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *