ریلیشن شپ ڈیوائس

ahmar-akbar
Print Friendly, PDF & Email

  لیب میں ایک زوردار دھماکہ ہوا اور اس کی لاش دھڑم سے نیچے گری………….
راشد مجید پاکستان کے قابل ترین  سائنسدانوں میں سے ایک  تھے نوکری کے اختتام پر انہوں نے اپنے فارم ہاوٴس پر ایک شاندار لیب تیار کروائی دو سال اسی میں تجربات کرتے رہے ۔آج وہ خوش تھے  کہ ان کی بنائی ہوئی ایک مشین پر  کامیاب تجربہ ہو رہا ہے۔ یہ مشین الیکٹرک شوکس ٹیکنالوجی کی جدید قسم تھی جس میں انسان اپنے جسمانی تعلقات کی تفصیل بیان کرتا ہے  اپنے تمام خفیہ  رازوں سے بے نیاز پورا مواد ریکارڈ کرواتا ہے  ۔ لیب میں انسان کو تنہا چھوڑ دیا جاتا تھا تاکہ انسان کی توجہ ماضی کی طرف رہے ۔کچھ دن  پہلے  ڈاکٹر راشد خود پر یہ تجربہ  کر چکے تھے ۔
آج ہر عمر کی عورتوں ، کالج کی طالبات کو انٹرویو کے لیے بلایا گیا تھا اور ایک ایک کر کے سب کو اس مشین سے منسلک کیا گیا جس کے خود کار سوالوں کے جوابات سب  نے دیئے اور مشین  کی ساخت کو پسند کیا۔
ریکارڈنگ چیک کرنے کے بعد ڈاکٹر راشد  خوش ہونے کے بجاءے ڈپریشن کا شکار ہو گئے  تھے کیونکہ ان کی ایجاد  کردہ مشین کام تو ٹھیک کر رہی تھی مگر سب عورتوں میں سے ایک بھی ایسی نہ تھی جس کا جسمانی تعلق پراے مردوں سے نہ ہو ۔
وہ اپنی بیوی اور اکلوتی بیٹی کا  بھی  انٹرویو ریکارڈ کر چکے تھے  اس مشین کی خوبی یہ تھی کہ اس پر انٹرویو دینے والے کو اپنے جوابات اور سوالات یاد نہیں رہتے تھے ۔اس کی بیوی نے بتایا کہ اس کے چار مردوں سے تعلقات تھے ۔اور بیٹی نے کل تین لوگوں کا نام لیا جن میں سے ایک نام وہ بھی تھا جو اس کی بیوی لے چکی تھی۔ وہ ڈاکٹر کا قریبی دوست تھا  یہ سب جاننے کے بعد ڈاکٹر نہایت افسردہ  اور اپنی ایجاد  پر بہت شرمندہ ہوا ۔
مشین کی ورکنگ اور ایکوریشن پر شک کرنا فضول تھا مگر وہ یہ سوچ کر پریشان تھا کہ اس کی غیر موجودگی میں کیا کچھ ہوتا رہا ہے وہ اپنے تجربات کی دنیا میں کھو کر اپنی فیملی پر توجہ نہیں دے سکا اور اس کی بیوی اور بیٹی اف ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔کسی کے راز جان کر زندہ رہنا ممکن نہیں ۔
ٹھا ٹھا ٹھا ۔۔۔

Short URL: http://tinyurl.com/jh8q5xc
QR Code: