سانہوں کی ۔۔۔۔۔۔ اور معاشرہ

ahmar-akbar
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: احمر اکبر، بورے والا


زمانہ طالب علمی میں اساتذہ طلباء کو سوال کرنے پر ابھارتے تھے، ان کی حوصلہ افزائی کرتے اور سوال کرنے کیلئے شہہ دیتے تھے تاکہ طلباء سیکھ سکیں کہ….
سوال تمام تالوں کی کنجی ھے.
سوال ہی وہ واحد ذریعہ ھے جو امور حیات کی جملہ الجھی گتھیاں سلجھا سکتا ھے.
یہ طے ھے کہ…
ھم سوال نہیں کریں گے تو سیکھیں گے کیسے؟
سمجھیں گے کیسے؟

آج کا سوال….

معاشرے سے سوال کرنے کی یہ صحت مند روایت ترک کیوں ہوتی جارہی ھے؟
اور یہ کہ….
ھم سوال کی جرات رکھنے والے والے کو برداشت کیوں نہیں کرتے، اسے یکسر جھٹلا کر مسترد کیوں کر دیتے ہیں؟؟؟
اب خود ہی دیکھ لیجئے عوام کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ حکومتی پولیسیوں پر سوال اٹھا سکیں ۔ عوام سو رہے ہیں احتجاج تو دور کی بات ہے ایک سوال کرنے کا وقت میسر نہیں ہے ، امیر ہو یا غریب سب کا ایک ہی جواب ہے ۔۔۔۔۔ ساہنوں کی۔۔۔ ؟
پیٹرول مہنگا ہوا کسی کے سر پر جوں نہیں رینگی حالانکہ دکھ سب کو ہے ۔بجلی سردی میں بھی غائب ہے ۔ گرمیوں سے نسبت لوڈشیڈنگ زیادہ مگر۔۔ ہمیں کیا ؟
گیس پوری رات بند کر دی جاتی ہے دن کو گیس کا پریشر اتنا کم ہوتا ہے کہ اس پر کھانا تو کیا ایک چاے کا کپ بھی نہیں بن سکتا مگر ۔۔۔۔۔ ساہنوں کی ؟
شہر میں دھند عام ہے سٹریٹ لائٹس بند ہیں یا سرے سے لگی ہی نہیں سردی اور گشت نا ہونے کی وجہ سے چوریاں روز کا معمول ہیں گاوٴں کے لوگوں کے مال مویشیوں کو چوری کر لیا جاتا ہے مگر ہمارا پھر بھی وہی جواب ہے ۔۔۔ساہنوں کی ؟
نوجوان طبقہ نشے کی لعنت میں ڈوب رہا ہے روز اربوں روپے کی منشیات سمگل ہو کر آتی ہیں اور ہمارے ملک کے ہونہار نوجوان نشے کے عادی بن چکے ہیں منشیات کا کاروبار کرنے والوں کے ہاتھ قانون سے بھی لمبے ہیں مگر آج تک کوئی آواز کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا ہمارا وہی پرانا جواب ہے ۔
۔۔۔ساہنوں کی ؟
پورے پاکستان میں پرچی جواء پر لوگ لاکھوں روپے برباد کرتے ہیں پورا دن محنت مزدوری کرنے والے شام کو اپنی محنت کی کمائی ان پرچی مافیا کے سپرد کرتے ہیں ان کاموں سے ہم سب واقف ہیں پولیس ریاست ، محلے والے باخبر ہونے کے باوجود پتا ہے کیا جواب دیتے ہیں ۔ ساہنوں کی ؟
سوال کرنے، آواز اٹھانے کی عادت ختم ہوتی جا رہی ہے ہم چپ ہیں اس لیے پولیس کچھ نہیں کرتی ۔ ان کے افسران کو پیسہ جمع کرنے سے فرصت ملے تو وہ ان سے کوئی رپورٹ طلب کریں. ہم سب اپنی شرافت کے لبادے میں اپنی بزدلی کو اوڑھ کر سو چکے ہیں ۔کوئی ایک آدھ اگر جاگنے کی کوشش بھی کرے تو اس کو دھمکیاں دی جاتی ہیں ان کو ڈرایا جاتا ہے کہ بھائی اپنے بچوں کے لیے جیو ۔دفع کرو جو کوئی کرتا ہے کرنے دو ۔۔ ساہنوں کی ؟
سوال کرنا ہی بہت مشکل ہے خاص کر حکومت سے کچھ بھی سوال کرنے والے کو اپوزیشن سمجھ کر پہلے تو دل کھول کر گالیاں دی جاتی ہیں پھر اس کو سائبر کرائم بل سے ڈرایا جاتا ہے پھر بھی نا مانے تو ایک انجان گولی اس کے سینے میں پار کروا دی جاتی ہے کیونکہ یہاں سوال کرنے والے کو شر انگیز سمجھا جاتا ہے ۔
آج ہمارے گھروں میں نا صاف پانی ہے نا بجلی کی روانی ہے اور گیس پتا نہیں کب آنی ہے ۔روٹی کپڑا مکان کی کہانی بہت پرانی ہے ۔
میں سوال بن کر آپ کی عدالت میں کھڑا ہوں۔
پوچھنا چاہتا ہوں ہمارے غریب سے غریب گھرانے والے بھی ٹیکس ادا کرتے ہیں وہ ٹیکس جو عام انسان سے وصول کر کے بھی اس کو ٹیکس چور کہا جاتا ہے ۔جی ہاں بجلی کے بلوں میں ہر ماہ لگنے والا ٹیکس. جو 350 روپے سے شروع ہوتا ہے اور 500 روپے تک ہر شہری ہر ماہ ادا کرتا ہے اس کے علاوہ سیل ٹیکس الگ ہے ۔اس کا مطلب یہ ہوا ہمارا ہر پاکستانی ٹیکس ادا کر رہا ہے مگر وہ ٹیکس ادا کرنے کے باوجود حکومت سے سوال نہیں کر سکتا کیونکہ حکومت سے سوال اٹھانے کا مطلب ہے ملک و قوم سے غداری اور کی سزا اس ملک میں غریب کے لیے تو جیل کی کوٹھڑی یا ایک اندھی گولی ہے امیروں کا مجھے علم نہیں کیونکہ میرا واسط غریبوں سے تھا اور رہے گا ۔
بات پھر وہیں ہے کہ سوال ہم کیوں کریں ۔۔۔کب کریں ؟جب ہمارا اپنا نقصان ہو تو ہم شور کریں گے ورنہ ہم کہتے ہیں ۔ ساہنوں کی ؟
ہم کسی کی آگ میں چھلانگ کیوں لگائیں ؟ ہم حرام موت کیوں مریں ؟ ہم شریف لوگ ہیں .ہم اپنے کام سے کام رکھتے ہیں ہم لوگوں کے مسائل کی دلدل میں بلا وجہ نہیں کود سکتے ۔یہ سوچ ہم سب کی ہے شاید میری بھی ایسی ہی سوچ تھی مگر ہم اگر اس سوچ کے ساتھ زندہ رہنا چاہتے ہیں تو ہم شریف نہیں بزدل لوگ ہیں ۔ہم مکار ہیں ہم منافق ہیں ۔ہم اپنے ملک و قوم کے دشمن ہیں ۔ ہم سے سب چیزوں کا حساب ہو گا یہ بھی پوچھا جاے گا جب یہ ظلم ہو رہا تھا تو تم کہاں تھے ؟
کیا بتاو گے ہم شریف لوگ تھے ہم دوسروں کے لیے نہیں صرف اپنے بچوں کے لیے جیتے تھے ۔ہمارا ایک ہی جواب ہوتا تھا ۔۔۔۔ ساہنوں کی ؟

ﮐﻮﺋﯽ ﺩُﺭﮦ ، ﮐﻮﺋﯽ ﮐﻮﮌﺍ ، ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺎﺑُﮏ ﻻﺅ
ﮨﻢ ﮐﻮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣِﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ !!
جون ایلیاء

Short URL: http://tinyurl.com/hq7bt7m
QR Code: