تحفظ ناموسِ رسالت ﷺ

اخت الاسلام، بہاولنگر
Print Friendly, PDF & Email

Protection of the Prophet’s honor Protection of the Prophet’s honor Protection of the Prophet’s honor Protection of the Prophet’s honor

تحریر: اخت الاسلام، بہاولنگر

اور اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بار بار مختلف القاب سے پکارا۔۔ کہیں پہ آپ کو رحمت اللعالمین پکارا، نہیں بشیر و نذیر پکارا، کہیں مزمل،کہیں مدثر، کہیں طہ،کہیں یسین،پکارا اور یہ سب اس بات کو ثابت کرتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام ہے وہ کسی اور نبی و رسول کا نہیں۔ کیونکہ میرے محبوب مصطفی احمد مجتبیٰ حبیب اللہ ہیں۔ اور حبیب اسے کہتے ہیں جسے محبت میں سب کچھ دے دیا جا?۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی محبت ایک بہترین سرمایہ یے اس محبت،الفت کے بغیر ایمان کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا،اللہ رب العزت کی وحدانیت پہ ایمان لانے کے بعد ایمانِ کامل کی دوسری شرط رسالتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم ہے۔ ایمان کے بقاء کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس بات کا دل و زبان سے اقرار کرنا کہ محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ رب العزت کے رسول اور آخری نبی ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام بجا لانا اور ناموسِ رسالت کا تحفظ کرنا ایک مسلمان کا اولین فرض ہے اور اس چیز کا سبق ہمیں ان عظیم ہستیوں سے ملا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کیا کرتے تھے۔ وہ جو اپنی جان، مال،اولاد، کی پرواہ نہیں کیا کرتے تھے۔ خوشی سے اپنی ذندگی اپنی اولاد اپنا مال قربان کردیا کرتے تھے۔ ان عظیم ہستیوں سے ہمیں یہ سبق ملا ہے۔ کہ ہر حال میں ہر زمانے میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت کرنے والے بن جایئں۔اور ہر ہر امتی عظیم، بہادر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کے احکام کو بجا لانے والا ہو، اور تمام امت محمدیہ کفر و شرک کے خلاف اتنی متحد ہو کہ کوء کافر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی عزت پر حملہ نا کرسکے
لیکن افسوس صد افسوس ایسا نا ہو پایا۔۔
کبھی سوچا آپ نے کہ آیا ہم اپنا یہ فرض کس طریقے سے نبھارہے ہیں؟
کبھی غور کیا صحابہ اکرام کی زندگیوں میں؟ جنھوں نے اپنا سب کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر لوٹا دیا۔ کبھی غور کیا اس خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق کی ذندگی پر؟ کہ بغیر کسی بات کے سوچے سمجھے سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی،نبوت کی گواہی دی۔ اور جب کافروں نے شب معراج کے موقعے پر ابوبکر صدیق سے کہا کہ تمہارا نبی کہتا ہے وہ ایک رات میں سب آسمانِ دنیا کی سیر کر آیا ہے ابوبکر صدیق نے پوچھا کہ کیا یہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ تو فرمایا انہوں نے سچ کہا ہے۔کبھی پڑھا آپ نے اس خلیفہ دوم عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں۔ وہ جو سو اونٹ حاصل کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو قتل (نعوذ باللہ) کرنے کے ارادے سے جارہے تھے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام بن گئے اور مسلمانوں کے لئے راہِ ہدایت کا ایک چمکتا باب بن گئے۔اسی ناموس کے تحفظ کے لئے صحابہ اکرام اولیاے اکرام نے اپنی زندگیوں کا نظرانہ پیش کیا۔اور ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اس دورِ پر فتن میں تحفظ ناموسِ رسالت کے لئے اپنا مال، اولاد، جان سب کچھ قربان کرنے والے بن جایئں۔اللہ رب العزت ہم سب کو سچے عاشقین مین شامل فرما?۔اور ہر دم ناموسِ رسالت کی تحفظ کے لئے قبول فرمائے آمین یا رب العالمین
علامہ اقبال رحمۃ اللہ کا فرمان

کی محمد سے تو نے وفا تو ہم تیرے ہیں۔
یہ جہاں کیا چیز لوح و قلم تیرے ہیں۔

Short URL: https://tinyurl.com/2f5yncf7
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *