کس نے سجائے مقتل ننھے فرشتوں کے لیے ؟۔۔۔۔ تحریر: رقیہ غزل

Roqiya Ghazal

دل بضد ہے کہ لال آندھی نہیں چلی پھر یہ زمین کیسے لہولہوہو گئی ،طائروں کے جھرمٹ بلند نہیں ہوئے تو پھر یہ طوفان کیسے آ گیااور گل رنگ فضاؤں پر یہ کیسا ماتم چھا گیا،کس نے گلشن کو شعلوں میں جھونک دیا،وہ دل بھی کیسا دل تھا جس نے یکے بعد دیگرے ننھے فرشتوں کو نشانہ بنایا جو یہ بھی نہیں جانتے کہ انھیں کس کی لگائی ہوئی آگ میں جلایا جا رہا ہے وہ اپنے ننھے منے ہاتھوں سے کھلونے پکڑے ،ہنستے کھیلتے ،ایک دوسرے کو جھولے دیتے ،ماما،بابا۔۔ماما،بابا پکارتے۔۔ ان کا ہاتھ پکڑے دنیا کی رنگینیوں سے کھیل رہے تھے کہ اندھے جنون کی آگ نے انھیں اپنی لپیٹ میں لے لیا درجنوں گھرانے اس آگ سے اجڑگئے اور سینکڑوں جانیں ہسپتالوں میں زندگی اور موت سے لڑ رہی ہیں سانحہ لاہور انسانی تاریخ کا ایک اندوہناک ،افسوسناک اورکرب ناک سانحہ ہے جو کہ سفاکی کی ایک ناقابل فراموش تاریخ رقم کر گیا ہے اس سانحہ کودیکھ کردل خون کے آنسو رو رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ کس قدر سنگ دل دشمن ہے کہ اسے وحشی کہوں ،انتہا پسند کہوں یا درندہ کہوں !کاش کوئی ایسا لفظ ملے کہ جو درندے سے بھی زیادہ گیا گزراہو کیونکہ سنا ہے کہ جنگل کے کچھ درندوں کا بھی کوئی اصول ہوتا ہے وہ اپنی ذاتی دشمنیوں یا جنگوں میں آپس کی نسلوں پر وار نہیں کرتے مگر ہمارا دشمن اس قدر گھٹیا اور ظالم ہے کہ اس نے ہمارے مستقبل کو ٹارگٹ بنا لیا ہے وہ ہماری نسلیں اجاڑنے کے در پے ہے اس سفاک قاتل نے اس بار پھر ہمارے دل کو نشانہ بنایا ہے لاہور پاکستان کا دل ہے جو آج کل موسم بہار کی رنگینیوں اوردل آویز پھولوں کی خوشبوؤں سے مہک رہا ہے لالہ و گل چار سو بہار دکھا رہے ہیں مگر یہ درندہ صفت دشمن شام کے ڈھلتے سایوں کے ساتھ نحوست بن کر یوں اترا کہ گلشن اقبال پارک میں قیامت صغریٰ چھا گئی اور لاہور پر درد کا موسم ٹھہر گیا۔۔! گلشن اقبال پارک میں ایسٹر کا تہواراور اتوار کی تعطیل ہونے کیوجہ سے غیر معمولی رش تھا کچھ موسم بہار کے نظارے بھی چار سو بکھرے پڑے تھے اور ہزاروں والدین اپنے بچوں کے ساتھ سیر و تفریح کے لیے نکلے ہوئے تھے ایسے میں سفاک درندے سے بچوں کی خوشی برداشت نہ ہوئی اور جھولوں کے پاس خود کش بمبار نے خود کو اڑا لیا ۔جا بجا بکھرے ہوئے معصوم لاشے اور ماں باپ کے جسموں کے ٹکڑے ،کہیں چھوٹے چھوٹے جوتے اور کہیں بکھرے ہوئے خون میں لت پت مسخ شدہ چہرے ۔۔! ہائے ۔۔!لفظوں کی رگوں سے بھی لہو پھوٹ رہا ہے میں کیسے لکھوں کہ میری پھولوں جیسی سرزمین کو ننھے منوں اور ان کے مقدس ماں باپ کے لہو سے ایک بار پھر لہو لہو کر دیا گیا میں کیسے لکھوں کہ وحشی نے میری ننھی پریوں کو آگ اور بارود سے جلا دیا ،میں کیسے لکھوں میرے ننھے فرشتوں کے چھیتڑے اڑا دیئے گئے میں کیسے لکھوں کہ ماؤں کی آہوں سے فضائیں بھی غم ناک ہوئیں ،میں کیسے لکھوں کہ باپ پتھرائی آنکھوں سے اپنے جگر گوشوں کی لاشوں کو تک رہے ہیں کہ جنھیں ان کے بڑھاپے کا سہارا بننا تھامگر آج وہ ان کے جسم کے ٹکڑے اکٹھے کر رہے ہیں ،مجھے سمجھ ہی نہیں آرہی کہ میں اس سفاک دشمن کو کس طرح بیان کروں جس نے پھر گلشن کو چنا اور دلوں کو پارہ پارہ کر ڈالا

میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں !۔
مرے شہر جل رہے ہیں مرے لوگ مر رہے ہیں
کوئی غنچہ ہو کہ گل ہو،کوئی شاخ ہو شجر ہو !۔
وہ ہوائے گلستان ہے کہ سبھی بکھر رہے ہیں
کبھی رحمتیں تھیں نازل اس خطہ زمیں پر !۔
وہی خطہ ہے کہ عذاب اتر رہے ہیں
کوئی اور تو نہیں ہے پس خنجر آزمائی ۔۔!۔
ہمیں قتل ہو رہے ہیں ،ہمیں قتل ہو رہے ہیں

بدقسمتی تو یہ ہے کہ اس سانحہ پر دل دہشت و وہشت کے کرب میں گرفتار تھا کہ ٹی وی پراسلام آباد میں ممتاز قادری کے چہلم کے موقع کے بعد گھیراؤ اور جلاؤ کی خبریں بھی ساتھ ساتھ چل رہی تھیں جس میں سرکاری عمارات سمیت ریڈ زون میں ہر جگہ آگ اور شیلنگ ہی دکھا ئی جا رہی تھی اوراسی وقت کراچی میں بھی ایک نجی چینل کی گاڑی پر حملہ اور فائرنگ کی خبریںآنے لگیں ان اندوہناک خبروں کو دیکھ کر یہ تو یقین ہو گیا ہے کہ انسان اور انسانیت میں بہت فرق ہے کیونکہ جب اللہ جل شانہ نے انسان کی تخلیق بارے فرشتوں سے اتفسار کیا تھا تو انھوں نے اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے کہا کہ یا اللہ ہم آپ کی عبادت کے لیے کافی ہیں ،کسی مذید مخلوق کو پیدا اگر پیدا کیا گیا دنیا میں جا کر فساد کریں گے تو اللہ رب العزت نے فرمایا تھا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے اوراللہ تعالیٰ نے اپنی خاص مہربانی اور رحمت وبرکت سے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ عطا فرما کراسے اپنا نائب قرار دیا مگر کیا یہ وہی انسان ہے جس کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا ہے کیایہ حضرت انسان مراعات سے ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے ؟ہمیں سوچنا ہوگا کہ احساس زیاں کی موت کب اور کہاں ہوئی اور کیا واقعتا امت مسلمہ میں احساس زیاں کی موت ہو چکی ہے یا ہماری فصیلوں پر دشمن نقب لگا چکا ہے کہ لوگ مسلمان ہو کر غیروں کے اشاروں پر رحمت کی بجائے زحمت بن رہے ہیں
ان تمام واقعات میں قابل فکر واقعہ تب ہوا جب فوج کو معاملات کی سنگینی کی وجہ سے فوری طلب کیا گیا ہمارے ملک میں کچھ بھی ہو افواج پاکستان کو طلب کرنا ناگزیر ہوجاتا ہے ۔۔ جبکہ گذشتہ کل بہت سے کالمز اور ٹی وی ایڈز ڈولفن فورسز کے بھی چل رہے تھے جن کی جوانمردی اور چابکدستی پر اکثر قلم کاروں نے زمین و آسمان کے قلابے ملا رکھے تھے اور پولیس جو کہ کل تک یہ دعوی کر رہی تھی کہ پورے شہر میں کمپیوٹرائزڈ نظام اور کیمروں کے ذریعے فل پروف سیکیورٹی کا نظام قائم کر دیا گیا ہے افسوس ہوتا ہے کہ چلو! روز مرہ کی وارداتیں تو ہوتی ہی رہتی ہیں مگر جب کبھی کوئی ایسا سنگین معاملہ ہو تب بھی ہمارے انتظامی اور سیکیورٹی ادرے کافی نہیں ہوتے اگر وہ واقعتا ایسی قابلیت اور اہلیت نہیں رکھتے تو ان کو ایسی ٹرینگ کیوں نہیں دی جاتی کہ جو فوج کے جوانوں جیسی ہو یہ ہمارے نظام کا سب سے قبیح پہلو ہے اور یہ سیکیورٹی اداروں ،حکومت اور انٹیلی جینس ایجنسیوں پر سوالیہ نشان ہے سب سے اہم بات یہ کہ جب سب کو پتہ ہے کہ ملکی امن عامہ کے حالات بے قابو ہیں تو مرکزی اور صوبائی حکومتیں باہمی چپقلشوں کو بھلا کر حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے باہم مضبوط حکمت عملیاں تیار کیوں نہیں کرتیں ۔۔؟ارتضیٰ نشاط یاد آگئے

کرسی ہے ،تمہارا جنازہ تو نہیں ہے !!۔
کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہم اس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں حادثات اور سانحات کی تعداداور سنگینی کو دیکھا جاتا ہے ہمارے ہاں بے حسی کا یہ عالم ہے کہ اگر دس یا بارہ بچے اس سانحے کا شکار ہوتے تو سب ارباب اختیار اور ذمہ داران ایک لمبی آہ بھرتے ۔۔خدا کا شکر ہے زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا حملہ آوروں کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا ۔۔ اور خاموش ہوجاتے یہی وجہ ہے گذشتہ مہینوں میں کئی حادثات پیش آئے مگر نہ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد نظر آیا اور نہ ہی اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا ویسے بھی’’ ضرب عضب‘‘ کی کامیابی کے بعد حادثات اور سانحات کی گونج کچھ عرصہ سے چونکہ معدوم ہو چکی تھی لہذا ایجنسیاں اور حکومت پرسکون ہوچکے تھے مگردشمن ہمیشہ کی طرح جاگ رہا تھا یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنا ایک مہرہ پھر پھینک دیاجو کہ ہمیشہ کی طرح اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کر چکا ہے ۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو ایسی وارداتیں کرتے ہیں کیونکہ شمالی علاقہ جات میں تو یہ آگ پہلے ہی لگی ہوئی تھی جو کہ پھیلتے پھیلتے شہروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے یہ طے ہے کہ ایسے حملے سہولت کاروں کی راہنمائی کے بغیر ممکن نہیں اور دشمن ہماری صفوں میں داخل ہو چکا ہے جس کا انکار ممکن نہیں’’ را ‘‘کے ایجنٹ کی گرفتاری کے بعد دہشت گردی کے اتنے بڑے واقعہ میں بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ویسے بھی ہر دھماکے کے تانے بانے کہیں نہ کہیںآ جا کر ’’را‘‘ سے ہی ملتے ہیں اور اس کے ثبوت آرمی چیف صدر اوباما کو بھی پیش کر چکے ہیں اس لیے حکومت کو اس کے پس پردہ حقائق جاننے کی کوشش کر کے ترجیحی بنیادوں پر اس کا سد باب کرنے اور ان راہداریوں کو بند کرنے کی کاوش کرنی چاہیئے جو ایسے ملک دشمن عناصر کو سہولتیں فراہم کرتی ہیں کیونکہ یہ طے ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی’’ را‘‘کا مقصدمنظم سازشوں اور منصوبہ بندی کے تحت پاکستان کوناکام ریاست ثابت کرنا اور عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے جس کے کھلے ثبوت موجود ہیں پھر بھی اگرہم اپنے ہی اطراف میں نہ دیکھیں تو اسے چشم پوشی ہی کہا جائے گا ۔دوسروں کے گھروں میں لگنے والی آگ سے ہاتھ تاپنے چھوڑ دیں ہر طرف ظلم اور نا انصافی کا ماحول ہے ایسے میں عدل و انصاف کو یقینی بنایا جائے یہی وقت کی پکار ہے مگر ہم وہ قوم ہیں جو سانحہ در سانحہ ماتم تو کرتی ہے مگر کوئی ایسی مضبوط حکمت عملی طے نہیں کرتی کہ جس سے آئندہ متوقع سانحات سے بچا جا سکا محض لفاظی مباحثوں ،الزام تراشیوں ،نوحوں اور قیافہ شناسیوں سے کچھ نہیں ہوگامیں نے کئی بار لکھا ہے اور یہی نوشتۂ دیوار ہے کہ جبتک دہشت گردی کے پس پردہ پتنگ بازوں کو پکڑ کر قرار واقعی سزا نہیں دی جائے گی ملک سے دہشت گردی کاخاتمہ ادھورا خواب ہوگا اب بہرحال کچھ کر کے دکھانا ہوگا آج دل بلاشبہ یاس اور آس کے بیچ لٹک رہا ہے مگر پھر بھی نوید سحر کے لیے ہم پر امید ہیں اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو ۔۔۔

ٓٓٓٓآنسو بھی ہیں آنکھوں میں دعائیں بھی ہیں لب پر
بگڑے ہوئے حالات سنور کیوں نہیں جاتے !۔

Short URL: http://tinyurl.com/he9vxk2
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *