صحت مند معاشرے کی جانب کے پی کے پولیس کی اہم پیش رفت

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: روفان خان
کوئی بھی ملک اس وقت تک مہذب نہیں بن سکتا جب تک ان کے عوام میں شعور بیدار نہ ہو اس وقت تک قوم کی تقدیر نہیں بدل سکتی، ہمیشہ ہم دوسروں پر تنقید اوراُنگلیاں اُٹھاتے رہتے ہیں مگرہم اپنے آپ کو نہیںسدھارتے ،بدقسمتی سے ہمارے ساتھ دوسروں کا احساس ہی نہیں بس ہر ایک کاجتنا جی چاہتا ہے وہ کرلیتا ہے، دوسروں کے ساتھ تعاون کی بجائے نیچا دکھانا چاہتا ہے ،ایک کہانی مجھے یاد آئی کہ تین دو ست کئی دہائیوں سے ایک بستی میں قائم پذیر تھے تینوں بھائیوں کی طرح زندگی بسر کررہے تھے، بدقسمتی یہ تھی کہ ان میں سے ایک دوست منشیات کا عادی تھا ہمیشہ وہ دونوں دوستو ں کے ساتھ لڑتا تھا ان میں سے ایک دو ست ہر روز اس کو نصیحت کرتا تھا کہ منشیات سے باز آجاﺅمنشیات آپ کی زندگی تباہ کردے گی مگر وہ اس با ت ماننے کو تیار نہ تھا،دوسرے دوست نے تیسرے دوست سے بات کی کہ میں تو نصیحت کرتا ہوں لیکن وہ میری نصیحت پر عمل نہیں کرتا، ایسا کرتے ہیں کہ پولیس اسٹیشن چلتے ہیںاور ایس ایچ او کوسب کچھ بتادیتے ہیں پولیس کے ذریعے اپنے دوست کو ڈرائیں گے مگر تیسرے دوست نے بھی دوسرے دوست کی بات نہیں مانی اور کہاکہ چھوڑوتاکہ ان کی زندگی تباہ ہو جائے ، ایک طرف ہم اپنے دوست کو ٹھیک کرنے کی بجائے تباہ کرنا چاہتے ہیں دوسری طرح اگر پولیس اس کو گرفتار کرتی ہے توپہلے ہم ان کے دفاع اور رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں ،ان کے نقصانات پھر یوںپیدا ہوتے ہیں،معاشرہ تباہ ،نوجوان نسل تباہ اور ہمارا سارا نظام تباہ ہوجاتا ہے ،اگردیکھاجائے تو اب بھی ہمارے پاس مہلت ہے ،ہم اپنے آپ کو اور دوسروں کو بھی ٹھیک کرسکتے ہیںیہ سب کچھ ڈنڈوں کے ذریعے بھی ممکن ہے مگر ڈنڈے اس کا حل نہیں ،پہلے عرض کرچکاہوں کہ عوام کے تعاون کے بغیر ہر کچھ ناممکن ہے جب کوئی بھی ادارہ عوام کی خیرخواہی کیلئے کام کرتا ہے تو عوام کوچاہئے کہ ان کے ساتھ تعاون کریں ،خیبر پختونخوا پولیس نے بنوں ڈویژن کی سطح پر منشیات کے خلاف مہم شروع کررکھی ہے جس کی نگرانی ڈی آئی جی بنوں ڈویژن عبداللہ خا ن اور ڈی پی او یاسر آفریدی خودکررہے ہیںاُنہوں نے ہر سرکل کے ایس ایچ اوز ،ڈی ایس پیزاور عوام مل کرمنشیات جیسی لعنت کے خلاف عوام کو باخبر رکھنے کیلئے مہم چلارہے ہیں کیایہ کام پولیس کا ٹھیک نہیں ہے کہ عوام کو منشیات کے نقصانات کے حوالے سے آگاہی دے رہی ہے جب آپ سمجھتے بھی ہیں کہ پولیس نے اچھاکام شروع کیا ہے تو کیوں ساتھ نہیں دیتے، ایک دن سابقہ ڈی پی او بنوںصادق بلوچ نے کھلی کچہری کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہاکہ علاقے کے مشران آپ مجھے یہ نہ کہیں کہ فلاں تھانہ کی حدود میں منشیات فروشی ختم ہوچکی ہے اگر میں تمام تھانہ جات کے ایس ایچ او ایک تھانہ میں تعینا ت کردوں پھر بھی منشیات کا خاتمہ نہیںہوسکتا ہے البتہ منشیات میں کمی بیشی ضررو آپائے گی، سیکورٹی اور حساس ادارے ہماری جان ومال کے تحفظ کیلئے کام کررہے ہیں ایک شخص جب ہماری بقاءکیلئے کام کرتا ہے ہم بھی ان کے ساتھ مل کر ملک کی بقاءکیلئے جنگ لڑیں گے ہم سب آج سے عہد کریں گے کہ اپنامعاشرہ منشیات سے پاک کرنے کیلئے اپنی پولیس کا ساتھ دیں گے اور بنوں پولیس کی جانب سے شروع ہونے والی منشیات کے خلاف مہم کو کامیاب بنائیں گے، پولیس تو ویسے بھی کام کرتی ہے اگر ہم بھی ان کے ساتھ مل کر کام کریں تو یقین مانئے کہ منشیات کی لعنت کا جڑ سے اُکھاڑ سکتے ہیں اگرکوشش نہیں کی تو ہماری آنے والی نسلیں تباہ ہوپائیں گی عوامی تعاو ن سے منشیات کی لعنت کا خاتمہ ناممکن ہے تو آئے اور ہمارا ساتھ دیں۔

Short URL: http://tinyurl.com/y4ve2udr
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *