شمالی وزیرستان کی بحالی میں پاک فوج کا کردار

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: روفان خان

ایک وقت تھا کہ وہاں کوئی جا نہیں سکتاتھا اورجانے سے کتراتا تھا عام شخص تو کیا بڑے بڑے آفیسرز بھی جانے سے پہلے  سو بار سوچتے تھے  وہاں کےحالات ایسے تھے کہ روز خبر ملتی کہ فلاں بندہ کو اغواء یا قتل کردیا گیا اور یہ معمول کی بات تھی اتنا خوف چھایا ہوا تھا کہ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع کے کاروباری مراکز تین چار بجے سہ پہر کو بند کردیئے جاتے تھے یہ معاملہ ایک عرصہ تک چلتا رہا تو حکومت پاکستان نے سال 2015 میں ایک بڑا اعلان کیا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے نام سے بڑا فوجی آپریشن کیا جائے گا یہ اعلان بھی شمالی وزیرستان کے عوام کیلئے قیامت کے اعلان سے کم نہیں تھا کیونکہ محدود وقت میں نقل مکانی کرنا معمولی بات نہیں تھی جب نقل مکانی شروع ہوئی تو شمالی وزیرستان کے عوام پورے پاکستان میں پھیل گئے اور خاص کرعوام نے جنوبی اضلاع میں زیادہ ہجرت کی  شمالی وزیرستان کے عوام نے پانچ چھ سال کٹھن حالات میں ہجرت کی زندگی گزاری ان پانچ چھ سالوں کے دوران پاک فوجی کی جانب سے تاریخی آپریشن کیا گیا  یہ سلسلہ پانچ چھ سال تک چلتا رہا دوسری کی جانب آپریشن ضرب عضب کے ساتھ پاک فوج کی جانب سے بحالی کا کام بھی جاری تھا اور زندگی کے تمام شعبوں کی عمارتیں تعمیر اور ازسرنو تمام شعبے فعال کرکے شمالی وزیرستان کا پورا نقشہ تبدیل کیا بالآخر آئی ڈی پیز کی واپسی ہوئی  یہ بھی کٹھن مرحلہ تھا کسی کو اپنے گھر کا پتہ نہیں ہوتا اورکسی کا گھر نہیں ہوتا کیونکہ بحالی کا کام ہوا تھا جس پر عوام نے شور شروع کیا اور حکومت سے نقصانات کا معاوضہ مانگنا شروع کیا سو حکومت نے ہر ممکن کوشش کرکے آئی ڈی پیز کو قسط وار معاوضہ دینا شروع کیا کچھ لوگ آج بھی معاوضے سے محروم ہیں لیکن حکومت کہہ رہی ہے کہ جانچ پڑتال کے بعد معاوضہ دیا جائے گا عوام اب بھی اس امید پر بیٹھے ہوئے ہیں,
اس ساری صورت حال میں پاک فوج کا مثبت کردار تھا اور ادا بھی کررہی ہے موجودہ میجر جرنل سیون ڈویژن نعیم اختر کی بات جائے تو یقیناً ان کی وزیرستانیوں کیلئے جدوجہد قابل تعریف ہے  جی او سی نعیم اختر نے امن و امان کے قیام اور تعلیم اور صحت کے اداروں کو فعال کرنے کیلئے علاقائی مشران کے ساتھ ملاقاتیں اور جرگے کئے ان جرگوں کی بدولت کچھ حد تک نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں یہ ضرور ہے کہ بگڑے ہوئے حالات کو ٹھیک کرنے میں وقت لگتا ہے ضلع شمالی وزیرستان کسی نعمت سے کم نہیں ان کے پہاڑوں سےبڑی مقدار میں معدنی ذخائر برآمد ہوئے ہیں شمالی وزیرستان کے پہاڑوں میں اتنے ذخائر ہیں کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا لیکن اس سےفائدہ لینے کیلئے بھی افراد کی ضرورت ہوتی ہے مقامی افراد کے تعاون کے ساتھ انتظامیہ کا تعاون درکار ہوتا ہے اور انتظامیہ کو فوج کی بھی ضرورت پڑتی ہے پاکستان اور خاص کر شمالی وزیرستان کی ترقی مغربی قوتیں نہیں چاہتیں جس کیلئے مختلف حربے استعمال کئے گئے ہیں اور استعمال کئے جاتے ہیں مگرافواج پاکستان کی بدولت وہ ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے,
 میجر جرنل سیون ڈویژن نعیم اختر کے مطابق شمالی وزیرستان کو شدت پسندوں سے پاک کرنا افواج پاکستان کا مشن ہے شمالی وزیرستان میں موجود ذخائر سے فائدہ لے کر ملک و قوم اور شمالی وزیرستان کو ترقی دیں گے امن خوشحالی اور ترقی افواج پاکستان اکیلے نہیں لاسکتی جس کیلئے عوام کا تعاون ہونا ضروری ہے انشاء اللہ ہم ہوں  یا نہ ہوں  افواج پاکستان کی نیک کوششیں عوام ہمیشہ یاد رکھیں گے انسان کمزور ہے کمی بیشی ضروری ہوگی لیکن بہتر انسان وہ ہے جو غلطی پر اپنی اصلاح کرے انشاء اللہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر شمالی وزیرستان کے عوام کی محرومیاں دور کریں گے اور شمالی وزیرستان کے عوام کو نیا وزیرستان دیں گے جس میں خوشحالی ہوگی امن ہوگا روزگارکے مواقع ہوں گے اور تمام شعبے فعال ہوں گے۔

Short URL: https://tinyurl.com/2ltunur2
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *