کھلی کچہری ۔۔۔۔ تحریر: ضیاء اللہ نیازی

ڈی پی او میانوالی سر فراز ورک کی جانب سے میانوالی میں کھلی کچہریوں کا آغاز کیا گیا اور مختلف علاقوں عیسی خیل،کمرمشانی،موچھ،کندیاں، میں کھلی کچہریاں لگائیں گئیں میانوالی شہر میں بھی کچہری لگی اور کئی علاقوں کی جامع مسجدوں میں ڈی پی او میانوالی سرفراز ورک نے کھلی کچہری لگائی اسی طرح انہوں نے اپنی تھانوں کے ایس ایچ او ز کو بھی ہر علاقے میں مسجدوں میں کھلی کچہریاں لگانے کے حکم صادر کیے اور تھانہ داؤدخیل کے ایس ایچ او مہر ظفر عبا س لک نے بھی داؤدخیل ،خیر آباد ،ٹھٹھی شریف،کی مسجدوں میں کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا اور جس کو عوام نے سراہا گزشتہ جمعہ ڈی پی او میانوالی سر فراز ورک نے داؤدخیل میں یونیک ایجوکیشن سسٹم سکول میں جمعہ کے بعد کھلی کچہری لگائی تین بجے کا ٹائم مقرر کیا گیا تھا اور پھر داؤدخیل کی غیور عوام نے جمعہ کے بعد ہی کچہری کے پنڈال میں پہنچنا شروع ہوگئے اور تقریبا ایک گھنٹہ پہلے ہی سینکڑوں لوگ کچہری کے پنڈال میں جمع ہو گئے اور ایسے لگ رہا تھا کہ کوئی بہت بڑا کسی سیاسی جماعت کا جلسہ ہے تقریبا تین بجے کے قریب ڈی پی ا ومیانوالی سر فراز ورک داؤدخیل پہنچے تو شیر شاہ سوری روڈ پر ان کا پر تپاک استقبال کیا گیا اور وہاں ڈی ایس پی سرکل موسی خیل ملک ظفر اعوان اور ایس ایچ او تھانہ داؤدخیل ظفر عبا س لک سمیت علاقہ کے درجنوں معززین نے ان کا استقبال کیا وہ جب پنڈال پہنچے تو وہاں سینکڑوں لوگوں نے ان کا تالیاں بجا کر خوش آمدید کہا اور ا سکے بعد انجمن تاجران داؤدخیل کی جانب سے انہیں روایتی پگڑیاں باندھی گئیں اور اس کے بعد انہوں نے عوام سے خطاب کیا اور کہا کہ میرا مقصد داؤدخیل سمیت میانوالی کو جرائم سے پاک کرنا ہے انہوں نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ ہر مظلوم کے ساتھ انصاف ہو عوام کا بھی حق ہے کہ وہ اپنے علاقے کی پولیس کی ہر ممکن مدد کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ جرائم کا خاتمہ نہ ہو انہوں نے کہا کہ یہ عوام میری فورس ہے اور کسی کے ساتھ بھی کوئی مسلہ ہو مجھے میسج کریں آپ کے مسلئے کو فوری حل کرنے کی کوشش کی جائے گی انہوں نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ میں میانوالی سے خاندانی دشمنیوں کو ختم کیا جائے اور پر سکون ماحول قائم کیا جائے داؤدخیل میں منشیات کے عادی افراد بہت زیادہ ہیں اور ہم نے میانوالی میں ان عادی افراد کے لیے ایک سینٹر قائم کر دیا ہے جہاں ان کا مفت علاج کیا جائے گا اور اس سینٹر میں سب سے پہلے داؤدخیل کے پانچ نوجوانوں کا علاج کیا جائے گا تاکہ داؤدخیل سے منشیات کی لعنت کا خاتمہ ہو اور نوجوانوں کو روزگار کے مو اقع ملیں اور منشیات سے چھٹکارہ پائیں اور اپنے گھر والوں کا ہاتھ بٹائیں انہوں نے داؤدخیل میں پولیس کارکردگی کے بارے میں عوام سے پوچھا کہ پولیس داؤدخیل میں کسی جا رہی ہے جس پر کچہری میں موجود سینکڑوں لوگوں نے تالیاں بجا کر ایس ایچ او مہر ظفر عبا س لک کو داد دی کہ ان کے ایک ماہ کے عرصہ میں داؤدخیل سے منشیات تقریبا 85فیصد ختم ہو چکی ہے اور درجنوں سمگلروں کو گرفتار کر کے نو سی کے مقدمے درج کر کے جیل بھیجا گیا ہے اور کئی ڈر کی وجہ سے غائب ہو گئے ہیں اور عوام نے پر زور اصرار کیا کہ ایس ایچ او ظفر عباس لک کو ایک سال کے لیے تھانہ داؤدخیل میں ہی رہنے دیا جائے جس پر ڈی پی ا ومیانوالی نے کہا کہ جب تک آپ کہے گئے وہ یہی رہیں گے اور آپ کی خدمت کریں گے انہوں نے کہا کہ کہیں بھی کوئی مشکوک شخص کوئی اور خطرہ محسوس کرتے ہیں تو فوری طور پر مجھے میرے نمبر اطلاع دیں میں فورا کارروائی کروں گا اور ان کے خطاب کے بعد عوام نے داؤدخیل کے مسائل کی نشاندہی کے لیے کھڑے ہوئے تو پہلا مسلہ داؤدخیل میں پلٹے اور پر چی جواء کے بارے میں کہا گیا کہ اس کی وجہ سے کئی گھر تباہ ہو چکے ہیں جس پر ڈی پی او میانوالی نے کہا کہ کل سے داؤدخیل میں پر چی جوا نہیں ہو گا اور پھر اگلے روز سے پلٹے فروخت کرنے والوں نے کام ٹھپ کر دیا لیکن پھر بھی کئی لوگ خٖیہ طور پر پلٹے بیچنے کا سلسلہ جاری کیے ہوئے ہیں ا سکے بعد ایک نوجوان نے کہا کہ مجھے ملک سے باہر بھیجنے کا جھانسہ دیکر پیسے لیے گئے اور ابھی تک میں نہ باہر گیا ہوں اور نہ ہی مجھے پیسے واپس کیے جا رہے ہیں جس پر ڈی پی او میانوالی نے کہا کہ تین روز میں آپ کو اپنی رقم مل جائے گی اور دوسرے روز وہ پیسے دینے والا پولیس کی گرفت میں تھا اور تھانے میں تھا اور ڈی پی او میانوالی کے بارے میں سنا تھا کہ وہ کھلی کچہریوں میں جو وعدہ کرتے ہیں وہ اسی وقت حل کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور اس کو حل کرتے ہیں اور کئی مسلئے تو اسی وقت بھی حل ہوئے ہیں جس کی واضح مثال داؤدخیل میں پلٹے بند اور نوجوان کو پیسے دینے کا مسلہ ثبوت ہیں وہی ہمارے سابق ناظم غلام شبیر خان نے ڈی پی ا ومیانوالی کو کہا کہ جناب منشیات کے سینکڑوں افراد داؤدخیل میں مر چکے ہیں اور اس لیے سینٹر داؤدخیل میں رورل ہیلتھ سینٹر داؤدخیل میں قائم کیا جئاے تاکہ منشیات عادی افراد کا باآسانی علاج ہو جس پر انہوں نے کہا کہ میرا وعدہ کہ میں اگلا سینٹر داؤدخیل میں قائم کروں گا اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ سود نے کئی گھروں کا تباہ کیا ہے اور اگر کوئی بھی اس سود کی لعنت میں جکڑا ہو ا ہے تو وہ مجھے بتائے اس کی ہر ممکن مد د کر کے اس سود کی لعنت سے چھٹکارہ دلائیں گے آپ لوگوں کا کام ہے کہ آپ جرم کی نشاندہی کریں اس کو ختم کرنے میں ہم اپنا کردار اد اکریں گے ۔۔۔۔۔۔
قارئین کرام :داؤدخیل کی مائیں ،بہنیں ،بزرگ ،نوجوان ،ڈی پی او میانوالی سرفراز ورک ،اور ایس ایچ ا ومہر ظفر عبا س لک کو دعائیں دے رہے ہیں منشیات نہ ملنے کی وجہ سے کئی منشیات کے عادی افراد نے نشہ چھوڑ دیا اور کئی منچلے جو شراب پی کر روڈ پر ہلہ گلہ کرتے تھے وہ بھی غائب ہیں اور عوام بھی پر سکون ہیں ورنہ ان کے نشے کی وجہ سے ہر فرد پریشان تھا اور کئی بار ان کے نشہ کی وجہ سے لڑائیاں بھی وہ چکی ہیں اور کئی بار لوگ زخمی بھی ہو چکے ہیں لیکن اب پولیس کی بہترت حکمت عملی کی وجہ سے شہر میں نہ ہی منشیات مل رہی ہے اور نہ ہی شرابی اب نظر آتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھلی کچہری کا انعقاد اچھا اقدام ہے اگر ڈی پی او میانوالی سرفراز ورک جیسا ہو اور کھلی کچہری من پسند لوگو ں کے ساتھ تھانوں میں منعقد کرنے کی بجائے عوامی جگہو ں میں لگائی جائے اور سر عام اعلان کر کے عوام کو آگاہ کیا جائے تو اس سے پو لیس کی کمزریوں کا پتہ ڈی پی او صاحبان کو لگے گا کہ ان کی پولیس کی کارکردگی کہا تک بہتر ہے اس سے قبل دو کھلی کچہریوں کی کوریج کی دعوت ملی جو تھانہ کے اندر لگیں جس سے حیران کہ یہ کسی کچہری ہے کہ جو تھانے میں لگ رہی ہے اور اگر جس طرح ڈی پی او میانوالی سر فراز ورک ہو اور ایس ایچ او ظفر عبا س لک ہو تو ان کی ٹیم کے کھلاڑی بھی اپنے انیگز بڑی محتاط کے ساتھ کھیلتے ہیں اور اس وقت تھانہ داؤدخیل کا عملہ شاندار طریقے سے اپنی گیم کھیل رہے ہیں اور جرائم پیشہ افراد کے گرد گھیرا تنگ کیے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے اس وقت داؤدخیل میں منشیات کے عادی افراد کہ منہ سے سنا ہے کہ دس دس روز سے ہیروین کا منہ ہی نہیں دیکھا ہے اور کئی عادی افراد نے خود بخود ہی نشہ چھوڑ دیا ہے ۔۔۔۔
اگر ایس ایچ او داؤدخیل ظفر عباس لک تھوڑی محنت اور کریں تو انشاء اللہ داؤدخیل میں منشیات کا قلع قمعہ ہو جائے گا اس وقت داؤدخیل میں چند لوگ ہیں جو منشیات فروخت کے ہماری نسل کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اسی طرح ایک ماہ قبل کچھ نوجوانوں نے ایک انجینئر احمد عبد اللہ کو قتل کر دیا اور ج سکے بعد داؤدخیل پولیس کے کپتان نے چو بیس گھنٹوں کے اندر ملزمان کو گرفتار کر کے عوام میں پایا جانے والے غم و غصے کی لہر کو ٹھنڈا کیا وہی مقتول کے لواحیقن کے زخموں پر مرہم رکھا مقتول احمد عبداللہ جس کا والد کئی سال سے کینسر جیسے موزی مرض کے ساتھ جنگ لڑ رہا ہے تو اس کے لواحقین نے کھلی کچہری میں ڈی پی او میانوالی کی جانب سے میرٹ پر انکوائری کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا وہی انہوں نے ایس ایچ او ظفر عبا س لک کو مالا پہنائی اور ایسے بہادر پولیس آفیسر مدتوں بعد ہی کسی علاقے کے نصیب میں آتے ہیں انشاء اللہ مجھے مکمل امید ہے کہ میرا داؤدخیل جو منشیات کی وجہ سے بدنام ہو چکا تھا اور اس منشیات کی وجہ سے داؤدخیل کے تقریبا چار سو افراد موت کی وادی میں جا چکے ہیں اب میرا داؤدخیل پر امن ،منشیات سے پاک شہر ہو گا اور جس کے نوجوان ہیروین سے قبل کبڈی ،والی بال ،کرکٹ ،فٹ بال ،ہاکی کے بہترین کھلاڑی تھے اسی طرح پھر داؤدخیل میں کھیلوں کے میدان آباد ہو نگے اور منشیات کے عادی نوجوانوں سے ہسپتالیں خالی ہو گئیں ۔۔۔۔۔انشاء اللہ، انشاء اللہ ،انشاء اللہ ۔۔۔
میری دعائیں کہ میرا شہر داؤدخیل سے منشیات سے پاک ہو اور یہاں سے جرائم کا خاتمہ ہو اور یہ شہر پر امن شہر ہو اور ا سکے باسی خوشحال ہو اور ہمارے لوگو ں کو مقامی فیکٹریوں میں ملازمیت کے وافر مواقع ملیں تاکہ روزگار ملنے سے وہ ان جرائم اور منشیات سے دور رہیں ۔۔۔











Leave a Reply