![]()
بھارت نے دو اپریل کو ہونے والے کرتار پور راہداری مذاکرات منسوخ کر دیے۔ دفتر خارجہ پاکستان کے مطابق آخری وقت میں پاکستان سے پوچھے بغیر مذاکرات منسوخ کرنا سمجھ سے باہر ہے۔ کرتار پورراہداری مذاکرات 2 اپریل کو واہگہ میں ہونے تھے۔ پاکستان نے عین وقت پر مذاکرات منسوخ کرنے کے بھارتی فیصلے پر افسوس کا اظہارکیا۔ ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر فیصل نے اس حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرلکھا کہ چودہ مارچ کو دونوں ممالک نے دو اپریل کے اجلاس پر اتفاق کیا تھا۔ ملاقات کا مقصد تصفیہ طلب معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنا تھا۔ اس سے قبل پاکستان کی جانب سے اپریل میں ہونے والی کرتار پور راہداری میٹنگ کیلئے بھارتی صحافیوں کو ویزے جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ بھارتی صحافیوں کو پاکستانی کی جانب سے ویزے کی سہولت دیے جانے سے متعلق ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پربتایا کہ خواہشمند بھارتی صحافی ویزوں کے لئے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن میں اپلائی کرسکتے ہیں۔دوسری جانب بھارت نے 14 مارچ کو ہونے والی اٹاری میٹنگ کیلئے پاکستانی صحافیوں کو ویزہ دینے سے انکار کیا تھا۔ کرتارپور راہداری پر کام کا افتتاح پچھلے برس نومبر میں ہوا تھا۔ اس کام کو 6 ماہ میں مکمل ہونا ہے۔ امکان ہے کہ مئی 2019 میں کرتارپور راہداری کو کھول دیا جائے گا تاکہ بھارت سے سکھ یاتری اس کے راستے پاکستان آکر مذہبی رسومات ادا کرسکیں۔یہ راہداری گردوارہ کرتارپور صاحب کو بھارت میں ڈیرہ گرونانک سے منسلک کرے گی۔ دونوں گردواروں کے مابین 4 کلومیٹر پر محیط اس راہداری پر سکھ یاتری بغیر ویزہ کے دونوں ممالک کے مابین سفر کرسکیں گے۔
