زمین پر جنت۔۔۔۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

مسجد نبویﷺ کا چپہ چپہ عاشقان رسولﷺ سے بھر چکا تھا ‘کرہ ارض کے دور دراز علاقوں سے پروانے اپنی عقیدتوں کے پھول نچھاور کرنے شہر مدینہ میں آئے ہوئے تھے یہاں پر دور دراز سے آنے والوں کی زبان ،تہذیب ،جغرافیائی حالات ‘تاریخ رسم و رواج تو ایک دوسرے سے بہت مختلف تھے لیکن ان سب میں جو چیز مشترک تھی وہ تھی عشق رسولﷺ۔سب کے چہرے عشق رسولﷺ کی آنچ سے دمک رہے تھے یہ ایک دوسرے کی زبان نہیں سمجھتے تھے لیکن ایک دوسرے کو مسکرا مسکرا کر دیکھ رہے تھے ‘میں ان کو دیکھ کر اور خود کو کرہ ارض کے عظیم ترین انسانوں میں پا کر یا اس منظر کا حصہ بن کر دنیا کا خوش قسمت انسان سمجھ رہا تھا ،مجھے رشک آرہا تھا شہر مدینہ پر جس کو سرتاج الانبیا نے قیامت تک کیلئے کعبے کے بعد دنیا کا ممتاز ترین شہر بنادیا تھا کاجس دن سے سیدالانبیا نے اس شہر کو اپنا مسکن بنایا اس دن سے آج تک اور قیامت تک کرہ ارض کے ہر گوشے برق انسان سوالی بن کر دامن پھیلائے ننگے پاؤں اس شہر میں آتے رہیں گے،آپ تصور کریں کسی بھی گاؤں شہر ملک کا بہترین سے بہترین بڑے سے بڑا اور متقی سے متقی انسان سلاطین ساری عمر دست دعا پھیلائے رہتے ہیں کہ اب مدینہ کی جگہوں ہواؤں اور فضاؤں میں جاسکیں سانس لے سکیں ‘گنبد خضری کی ایک جھلک دیکھ سکیں ،روضہ رسولﷺ کے سامنے سوالی بن سکیں، کشکول بن سکیں ‘یہی وہ شہر ہے جہاں پر کائنات کے سب سے بڑے انسان آسودہ خاک ہیں ‘اس شہر کی مٹی کو سعادت حاصل ہے جہاں پر سرتاج الانبیا کا جسم اطہرقیامت تک موجود ہے اسی شہر مدینہ کے بارے میں سرور کونین نے فرمایا تھا مدینہ شہر امن کی معراج پر ہے کیونکہ اس کی گزر گاہیں فرشتوں کے پہرے میں ہیں آقا دو جہاں نے فرمایا اس کے ہر راستے پر پہرے دار فرشتے مقرر ہیں بلکہ یہ شہرچاروں جانب سے فرشتوں کے پہرے میں ہے ‘دجال اس کی طرف آئے گا تو دیکھے گا کہ یہاں فرشتے حفاظت پر مامور ہیں یہ شہر دجال سے محفوظ ہے ‘دجال اس کے قریب آئے گا لیکن اس کے راستے اس کے لئے بند ہونگے(امام بخاری)مدینہ کے بارے میں ہی آپ مزید فرماتے ہیں کہ ایمان مدینہ میں یوں سمٹ آئے گا جس طرح سانپ اپنی بل میں سمٹ آتا ہے ‘پیارے آقاﷺفرماتے ہیں کہ یہ دوسرے شہروں کو کھا جائے گا آپ فرماتے ہیں مجھے ایک ایسی بستی کی جانب ہجرت کا حکم دیا گیا ہے جو دوسری بستیوں کو کھا جائے گی ‘یعنی اسے سب پر غلبہ حاصل ہوگا جیسے لوگ یثرب کہتے ہیں اور وہ یہی مدینہ ہے(امام بخاری)سرور کائنات فرماتے ہیں مدینہ گناہوں اور خطاؤں کو مٹا دیتا ہے ‘یہ طیبہ ہے اور گناہوں کو اسی طرح مٹاتا ہے جیسے آگ چاندی کا کھوٹ دور کردیتی ہے ‘مدینہ جو و باؤں اور بیماریوں کا شہر تھا رحمت دو جہاں کے مقدس نعلین مبارک نے جیسے ہی اس شہر کی مٹی کو چھوا یہ شہر تمام بیماریوں اور وباؤں سے ہمیشہ کیلئے پاک ہوگیا دنیا بھر سے آنے والے پردیسی جیسے ہی اس شہر جاناں میں قدم رکھتے ہیں ہوا کا پہلا جھونکا جب ان کو چھوتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کوئی عطر بیز لطیف لوزانی چیز روح کے پردوں کو چیرتی ہوئی روح کے بعید ترین اور عمیق ترین گوشوں کومعطر اور منور کر گئی ہے اس حسیں احساس کے ساتھ ہی ساری تھکاوٹیں پل بھر میں دور ہو جاتی ہیں ‘ہوا کے پہلے جھونکے سے ہی وہ سرشاری ،طاقت ،حلاوت نشہ سرور ملتا ہے کہ جس کی لذت مرتے دم تک یاد آتی ہے لگتا ہے مدینہ کی ہوا میں فضا میں شیریں شہد سے بھیگی ہوئی ہیں ،لذیز شہد کی یہ مٹھاس مرتے دم تک انسان محسوس کرتا ہے،مدینہ چمنستان بستی کا مہکتا ہوا وہ سدا بہار پھول ہے جس کی مہک تازگی گزار اور لطافت سے جاد ہے ‘جس کے رنگ اور مسحور کن خوشبو آنے والے کو اپنے سحر میں جکڑ دیتی ہے ‘اس شہر کی عطر بیزمشکبو رفضاؤں میں ایسا سحر ہے کہ ہزاروں میل دور سے آنے والا مسافر اس کی مسحور کن خوشبو کو محسوس کرتاہے تو اپنے جذبات و احساسات پر قابو نہیں رکھ سکتا ،سرشاری اور مسحورکن سرمستی اور کیفیت کا اندازہ وہی کر سکتا ہے جس نے برسوں اس گوشہ جنت میں آنے کی آرزو میں لمبی راتیں اور آتشیں دن کاٹے وہ جن کی عبادتوں کا کوچا جاناں رہاہو،جس نے دن رات ذکر ،اذکار ،نوافل اور عبادات کی ہیں وہ مرنے سے پہلے اپنی آنکھوں کو گنبد خضری کے عکس جمیل سے منور کرے،شمع رسالت کے پروانے دن رات موسلادھار برسات کی طرح اس شہر میں آتے ہیں اور اپنی عقیدتوں کے پھول آقائے دو جہاں کے قدموں میں ڈھیر کر دیتے ہیں،بڑے سے بڑا گنہگار ،سیاہ کار ،سخت دل ،ظالم جب اس در پر گیا تو باقی زندگی عبادت تقوی میں گزار دی جس نے چند گھڑیاں مسجد نبویﷺ میں گزاری ہیں جس نے روضہ رسولﷺ کے سامنے اپنے آنسوؤں کا نذرانہ پیش کر دیا اس نے دوبارہ پھر کبھی گناہ کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھا جو ایک بار یہاں آگیا و ہ پھر یہیں کا ہوکر رہ گیا جس کی اندھی بے نور روح کو یہاں روشنی ملی وہ پھر کبھی بھول کر گناہ کی طرف نہ گیا دنیا کے کسی اور شہر کو یہ سعادت حاصل نہیں جو اس شہر کو حاصل ہے کرہ ارض میں ایک بھی مسلمان ایسا نہیں جس نے یہ آرزونہ کی ہو کہ وہ مرنے سے پہلے ایک بار اس مسجد نبویﷺ میں نہ جائے جس کی مٹی میں سرور کونین کے معطر پسینے کی خوشبورچی بسی ہے جہاں پر آقائے دو جہاں نے کتنے شب وروز گزارے آپ کے تربیت یافتہ صحابہ کرام اور پھر 14 صدیوں سے ہردور کا بڑے سے بڑا مفتی عالم دین کون ہوگا ایسا جس نے اس کو چا جاناں میں آنے کی حسرت خواہش نہ کی ہو میں سرشاری مستی میں بیٹھا دنیا جہاں سے آئے ہوئے عاشقوں کو دیکھ رہا تھا پھر میں نے اس تصور کے ساتھ لمبی لمبی سانسیں لیں ،اس خیال کے ساتھ کہ محبوب خدا کی معطر سانسوں نے مسجد نبویﷺ کو معطر کیا ہوگا پھر میں نے گدازقالین پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا کہ اس کے نیچے سنگ مرمر کے نیچے وہی مقدس مٹی ہے جس میں سرور دو جہاں کے جسم اقدس سے کو چھونے والے زرات بھی ہونگے اور یہیں کہیں آپ کے جسم اطہر کے معطر پسینے کے زرات بھی جذب ہوئے اس تصور کے ساتھ ہی خوشی مسرت اور خود پر رشک اور اپنی قسمت پر نازاں ہونے کا احساس غالب ہو گیا اور سرسری آنکھوں میں مسرت سرشاری کے آنسو تیرنے لگے اور پھر موتیوں کی لڑی میری آنکھوں سے جھڑنے لگی، میں کتنی دیر اس نشاط انگیز کیفیت میں ڈوبا رہا،پتہ نہیں کتنی دیر میں اسی کیفیت میں ڈوبا رہا‘ میں مبہوت سا مسجد نبویﷺ کے مختلف کونوں کو دیکھ رہا تھا اور پھر ایک طرف عاشقان رسولﷺ کا بہت زیادہ ہجوم دیکھا دیوانے پر وانوں کی طرح ادھر والہانہ طور پر جاتے تھے تو اچانک میرے دماغ میں روشنی کا جھما کا ہوا اور خیال آیا کہ یہ تو ریاض الجنہ ہے جس کے بار ے میں شافع محشرنے فرمایا تھا مسجد نبویﷺ کا وہ حصہ جو روضہ رسولﷺ اور منبر مصطفی ﷺکے درمیان واقع ہے بقیہ سب حصوں سے ممتاز اور محترم ہے اس حصے کو سرتاج الانبیا نے ریاض الجنہ کا نام عطا فرمایا اس مخصوص ٹکڑے سے متعلق رسول اکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ میرے گھر او رمنبر کے درمیان والی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یعنی یہ حصہ جنت کا ٹکڑا ہے جو اس دنیا میں اتارا گیا قیامت کے دن یہ ٹکڑا واپس جنت کی طرف اٹھا لیا جائے گا اسی لئے ریاض الجنہ کا مقام و مرتبہ ہمارے نزدیک باعث ارفع و افضل ہے 14 صدیوں سے دنیا بھر سے آئے ہوئے مہمان جب بھی مسجد نبویﷺ میں داخل ہونے کی سعادت حاصل کرتے ہیں تو ان کی اولین خواہشوں میں ایک یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ ریاض الجنہ میں چند گھڑیاں گزار سکیں چند نوافل ‘نمازیں ‘ذکراذکار کرسکیں اس جگہ کی یہ خاص کرامت اور شان ہے کہ چاہے جتنا بھی رش ہو جیسے ہی آپ ریاض الجنہ کے قریب آتے ہیں تو آپ کو فوری زمین پر جنت کے اس بے نظیر و بے مثال ٹکڑے میں داخل ہونے اور نوافل ادا کرنے کا موقع مل جاتا ہے بلاشبہ زمین پر یہ جنت کا ٹکڑا ہے جہاں عبادت کی خواہش ہر مسلمان کی ہوتی ہے۔










Leave a Reply