بھل صفائی اور فوج

تحریر: احمر اکبر
پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے اس کی کمان اور کنٹرول بھی مضبوط ہاتھوں میں ہے ۔پاکستان کی سرحد اور اثاثے آج بھی محفوظ ہیں اور انشاءاللہ رہیں گے ۔جنرل راحیل صاحب کے جانے سے بظاہر تو کوئی فرق نہیں پڑا مگر ان کے جانے کے بعد یہ احساس ہوا کہ وہ کتنے عظیم انسان تھے ۔کوئی بھی حادثہ ہو کوئی بھی پریشانی ہو وہ وہاں ہنگامی بنیادوں پر پہنچتے تھے اور فوج مکمل تعاون کرتی تھی اور عوام کے دکھ درد ذرا چھوٹے پڑ گئے تھے ۔
اگر دیکھا جاے تو فوج کا کام ہے سرحد اور اپنے اداروں کے کام کی دیکھ بھال کرنا ، ان کا سوشل کاموں سے کوئی تعلق نہیں مگر جنرل راحیل صاحب کے سنہری دور میں ہر میدان میں فوج نے مکمل تعاون کیا ۔ مشن ضرب عذب کے ساتھ تمام قومی معاملات میں عوام بھرپور ساتھ دیا ۔ملک کے اندر بدترین حالات میں بھی فوج نے اپنا کام نہایت احسن طریقے سے ادا کیا ۔کراچی کے حالات گزشتہ بیس سال سے خراب تھے مگر جنرل راحیل صاحب کی بلا تفریق کاروائی سے عوام کو 70فیصد سکون ہو گیا تھا ۔جرائم پیشہ عناصر کوئی بھی کارروائی کرنے سے پہلے ہزاروں بار سوچتے تھے ۔جیلوں میں جرائم پیشہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو گیا تھا امید کی جا رہی تھی ایک سال کے اندر کراچی پھی کچراچی سے روشنیوں کا شہر بن جاے گا مگر ان کے جاتے ہی اچانک کچھ تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جو آپ کی عدالت میں پیش خدمت ہیں ۔
جنرل راحیل شریف صاحب کی ریٹائرمنٹ کے بعد نہ صرف کراچی میں بلکہ پورے ملک میں جرائم پیشہ عناصر نے اپنی کارروائیاں شروع دی ہیں اب شاید سیاسی جماعتوں کو لگتا ہے ان کو فوج کی طرف سے گرین سگنل دیدیا گیا ہے یا ابھی نہیں اس کا فیصلہ تو آنے والہ وقت ہی کرے گا مگر یہ بات تو طے ہے کہ فوج نے وقتی طور پر تمام معاملات میں مداخلت ذرا کم کر دی ہے ادھر عدالتوں میں جتنے بھی کیس زیر سماعت ہیں ان لوگوں کو سزا دلوانے کے لئے وہ کافی ہیں مگر افسوس اب تک ایک بھی ایسا فیصلہ نہیں آیا جس میں کراچی کی عوام کا خوف مکمل ختم ہوا ہو ۔ بلکہ ایک بار پھر ایم کیو ایم لندن نے ثابت کیا کہ ان کے ورکر آج بھی ایک اچھی خاصی مزاحمت کر سکتے ہیں ۔
ایک وقت تھا لوگ کہنا شروع ہو گئے تھے اب ایم کیو ایم کا خاتمہ یقینی ہو چکا آج وہ لوگ دیکھ لیں کراچی میں کیا ہوا ۔عوام کو صرف یہ ثابت کر دیا جاے کہ حکومت ہمارے ساتھ ہے ہم ایک بار پھر کراچی کو اپنی مرضی سی استعمال کر سکتے ہیں
کیا کسی نے اس پہلو پر بھی سوچا ہے
29 نومبر کو جنرل راحیل شریف نے پاک فوج کی کمان نئے آرمی چیف جنرل باجوہ کے سپرد کی جس کے بعد پاکستان میں یہ ڈرامائی تبدیلیاں واقع ہوئیں
سپریم کورٹ نے پانامہ کیس اگلے سال تک ملتوی کردیا۔۔۔۔ اب نیا بینچ بنے گا۔۔۔اور پھر سے سماعت ہوگی۔۔یہ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا کہ فیصلہ ہوگا بھی یا کوئی اور تاخیری حربہ استعمال کیا جائے گا ۔
مشیرخارجہ فرماتے ہیں۔۔۔ بلوچستان سے پکڑے جانے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے خلاف ٹھوس شواہد نہیں ملے۔۔۔۔( یہ بات بھارتی میڈیا نے خوب ہائی لائٹ کی۔۔) ۔ان کے علاوہ بھی کچھ لوگ پکڑے گئے تھے جو پاکستان کے خلاف ایسی کارروائیوں میں ملوث تھے مگر ابھی تک ان کے متعلق معلومات فراہم نہیں کی گئی ۔اب ایک مضبوط کیس اور اقبالی بیان بھی جھوٹ ثابت کر دیا جاے گا ۔
ایم کیوایم لندن نے کراچی میں بھرپورانٹری ماری ۔۔۔ لندن کے کارکنان رینجرز کے مدمقابل آئے۔۔۔اور خوب جوش سے انھوں نے اپنی من مانی کی وجہ حکومت اور فوج کی سستی یا ان کے خلاف کاروائی نہ کرنے کی یقین دہانی ہو سکتی ہے ۔
ڈان لیکس میں اپنی وزارت کھونے والے پرویز رشید صاحب نے 40 روز بعد وزیراعظم کی حمایت میں پی آئی ڈی کے اندر بیٹھ کر پریس کانفرنس کی اور منظر عام پر آگئے۔۔ان کو یقین ہو چکا کہ ان کے خلاف اب کوئی ادارہ کاروائی نہیں کرے گا ویسے بھی وہ قربانی دے چکے ہیں ۔
حیرت انگیز طور پر کنٹرول لائن پر بھارتی توپیں خاموش رہیں۔ ملکی حالات ٹھیک ہوں تو بھارت کو کیا پڑی ہے ایک ایٹمی ہتھیاروں سے مالامال ملک سے سرحدی کشیدگی میں پہل کرے ۔خراب حالات اور اگلے حکم کے انتظار میں بھارت کی توپیں خاموش ہیں
عمران خان صاحب وقتی طور پر کوئی ریکشن نہیں دے رہے شاید اب ایمپائر نہیں رہے تحریک انصاف اسمبلی میں جا چکی ہے اب ان کا وزیر اعظم کرپٹ نہیں رہا ان کا سپیکر اب دھندلی میں ملوث نہیں ہے۔
مسلہ کشمیر ایک بار پھر بھارت کے حق میں جاتا ہوا دیکھائی دے رہا ہے ۔ مگر تین ماہ گزر جانے کے باوجود بھی ہماری سفارتی ٹیم عالمی اداروں کو یہ ثابت نہیں کر پائی کہ کشمیر میں بھارت انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے ۔پوری دنیا کو حقیقت کا علم ہے مگر پاکستانی سفارتی مبصرین کشمیری والا کیس پیش کر نہیں پاے یا کرنا نہیں چاہتے ۔ہوسکتا ہے انڈیا کے تعلقات ہم سے زیادہ متاثر کن ہوں مگر کیا ہم اپنا کیس بھی ٹھیک سے نہیں لڑ سکتے یا ہم کو حکومت نے صرف پریس کانفرنس کے لیے رکھا ہوا ہے عمران خان کے بعد بلاول بھٹو میدان میں لاے گئے ہیں تاکہ سیاست میں گرم جوشی رہے اور وقت آنے پر ان کے ساتھ این آر او کر لیا جاے ۔
ہمیشہ کی طرح پاکستان کی عوام عدالتی فیصلوں سے مایوس کروا دی گئی ہے
لوگوں کو یقین دلایا جا رہا ہے کہ پاکستان میں انصاف پہلی بات تو ملتا نہیں اگر مل بھی جاے تو اتنی دیر ہو چکی ہوتی ہے کہ انصاف کے ہونے نا ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور عموماً فریقین آپس میں صلح کر لیتے ہیں ۔
حکومتی وزرا نے ایک بار پھر پریس کانفرنس کے انقعاد کا سسلہ شروع کر لیا ہے جس میں ایسی گفتگو کی جاتی ہے جو میڈیا کو بیف لگا کر سناتا ہے
حکومت پاکستان ایک بار پھر پوری طرح اپنی مرضی کرنے کے لیے تیار ہو چکی ہے کیونکہ آرمی چیف اور چیف جسٹس حکومت کی اپنی پسند کے مطابق ہیں اب حکومت کے گلے سے استعفےٰ کا بورڈ نہیں رہا اور حالات بہتری کی جانب گامزن ہو رہے ہیں .
ویسے تو اب یہ روایت بن چکی ہے ۔۔تیرے جانے کے بعد تیری ےیاد آئی ۔۔۔اسی لیے اب پاکستانی عوام جنرل راحیل صاحب کو ناصرف یاد کر رہی ہے بلکہ ان کی پولیسی کو بھی بھرپور پزیرائی مل رہی ہے ۔آرمی چیف کے بدل جانے سے فوج کی پولیسی نہیں بدلتی اور نا ہی ان کے اداروں پر کوئی اثر پڑے گا انشاءاللہ امید ہے بہت جلد فوج اپنا مشن بھل صفائی ایک بار پھر شروع کرے گی اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کا فیصلہ ہو گا ۔ اب کی بار پنجاب میں بھی موجود تمام عناصر کا خاتمہ کیا جاے گا کیونکہ کراچی کے 20%جرائم پیشہ عناصر پنجاب کے مختلف شہروں میں پھیل چکے ہیں جو اپنی کارروائی کرتے ہیں جس کا اندازہ لاہور میں گزشتہ دنوں سٹریٹ کرائم اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں سے لگایا جا سکتا ہے
ہماری فوج ماشاءاللہ دنیا کی بہترین فوج ہے اور اس بات سے ہمارے دشمن بھی واقف ہیں امید ہے جرائم کی روک تھام میں سب ادارے مل کر کام کریں گے اور جرائم پیشہ عناصر کی بھل صفائی مہم میں سب مل کر حصہ ڈالیں گے کیونکہ پاکستان ہم سب کا ہے۔









