تحریر: شیخ خالد زاہدکبھی کبھی عادت سے مجبور ہونے کی وجہ سے لکھنا پڑتا ہے اور اکثر دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر لکھا جاتا ہے۔ گھر سے باہر نکل جائیے تو آپ کو سمجھ آجائے گا کہ مسائل کس طرح
تحریر: شیخ خالد زاہدسینے میں اگر دل دھڑک رہا ہے تو آپ ابھی زندہ ہیں مگر اس زندگی کو آپ پر اگر اجیرن کر دیا جائے یعنی آپ کی دھڑکنوں کو قید کرنے کی کوشش کی جائے آپ کی سانسوں
تحریر: شیخ خالد زاہدگمنام حوالوں کا اور گمنام خیر خواہوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا، اچھا ہوگیا تو واہ واہ اور شکریہ، برا ہوگیا تو ایک نا ختم ہونے والی تلاش شروع ہوجاتی ہے۔ ہم پاکستانیوں کو انگنت نامعلوم
تحریر: شیخ خالد زاہدکرکٹ کھیلنے والے ممالک کی تعداد دنیا میں کھیلے جانے والے کھیلوں فٹبال یا لان ٹینس سے کم تو ہوسکتی ہے، مگر اس کھیل کے چاہنے والے کسی بھی دوسرے کھیل سے کم نہیں ہیں۔ برِ صغیر
تحریر: شیخ خالد زاہدہمارے لئے اس وقت بہت دکھ کی بات ہوتی ہے، جب ہم اپنی نئی نسل کو وطنِ عزیز کا مکمل نام “اسلامی جمہوریہ پاکستان” بتاتے ہیں۔ بلکل اسی طرح کہ آپ کوئی بہت ہی خوبصورت سے “عنوان
تحریر: شیخ خالد ذاہدہم پاکستانی بجلی، پانی، گیس اور سب سے بڑھ کر بھوک جیسے گھمبیر مسائل کہ جال میں بری طرح سے جکڑے ہوئے ہیں اور پھنستے ہی جارہے ہیں۔ ہر گزرتا دن اس جال کی سختی بڑھاتا جارہا
تحریر: شیخ خالد ذاہدہماری تہذیب تو اس بات کی اجازت نہیں دیتی مگر زمانے میں اب یہ ریت چل پڑی ہے کہ کچھ بھی ہوجائے سماجی میڈیا پر اس کا چرچا ضرور کیا جاتا ہے۔ کسی کی پیدائش کی خبر
تحریر: شیخ خالد ذاہدکراچی میں طے شدہ ہفتہ وار “اوقات نامہ” کے مطابق سی این جی دستیاب ہوتی ہے۔ آج صبح (بروز بدھ) حسبِ معمول گھر سے دفتر آتے ہوئے آٹھ بجے سے پہلے پہلے گاڑی میں سی این جی
تحریر: شیخ خالد ذاہدکسی کے لئے کسی بات کو جاننا دورِ حاضر میں کوئی مشکل کام نہیں رہا، ہاں البتہ اسکے لئے آپکے پاس ذرائع ہونا ضروری ہے جس میں سب سے اول “انٹرنیٹ” کی سہولت ہے، اس سہولت کا
تحریر: شیخ خالد ذاہدہر صبح قدرت انسان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ دیکھ تیرے لئے ایک اور دن فراہم کردیا گیا ہے اور وقت کی قلت کے پچھتاوے جو تو رات ساتھ لے کرسوگیا تھا اور تجھے یہ یقین