جب زمانے کے لبوں پہ ہمارا نام آئے گا دنیا زمان و مکاں کی وسعتوں کے باوجود سمٹ جائے گی، وقت پھر تمہیں اُس مقام پہ لا کھڑا کرے گا جہاں سے اس کی ابتدا ہوئی تھی، اُس سے قبل
“چند شخصیات نے حیران کن انداز میں تاریخ کا رخ موڑدیا، چند نے دنیا کا نقشہ بدل دیا اور بمشکل ہی کوئی ایسا شخص ملتا ہے جس نے ایک ریاست کو جنم دیا ہو۔ محمدعلی جناح نے یہ تینوں کام
اُس کے چہرے سے عیاں رُعب و جلال ہر کسی کو بات کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ اُ س کی ہر بات سننے والوں کی سماعتوں میں نئی راہیں وا کرتی ہے۔ وہ فو ج
دیکھنے سے تو آج کا انسان تہذیب آشنا نظر آتا ہے مگر کبھی کبھی یہ ایسے افعال کا مرتکب ہوتا ہے جن کو دیکھ کر یو ں لگتا ہے کہ زرق برق ملبوسات میں ایک ایسا حیوان چھپا ہے جو
اقتدار، سیاست، اندرونی معاملات، خارجہ پالیسی اور ترقیاتی منصوبوں میں کیا ان بوٹوں والوں کی مداخلت کم تھی ؟ جو اب عدلیہ کو بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا؟آپ کو نہیں لگتا کہ ان اقدامات سے پہلے سے موجود اداروں
لوگوں کو پیسا کمانے کی ہوس نے اس قدر گھٹیا بنا دیا ہے کہ وہ اس خواہش کی تسکین کے لیے ایمان جیسی دولت کی بھی پروا نہیں کرتے ۔ اپنا تو اُن کا خانہ خراب ہے ہی ساتھ کئی
۲۷ جون ۱۸۸۰ء کو اُس کا جنم ہوا ، ۶ ماہ کی عمر میں بولنا اور ایک سال کی عمر میں اُس نے چلنا سیکھ لیا تھا۔ اُس کی اتنی جلدی سیکھنے کی رفتار کو دیکھتے ہوئے کسی کے لیے
مجھے اختلاف ہے ہر اُس شخص سے جو یہ کہتا ہے کہ ہر سال آنے والا سیلاب اور اس سے پھیلتی تباہی منہ بولتا ثبوت ہے حکومت کی نااہلی کا۔حکومت سے جو ہوتا ہے وہ کر رہی ہے یہاں اگر
۔”امی ! ابھی پچھلے سال ہی تو آپ نے مجھے نئے کپڑے لے کر دیئے تھے۔ وہ ابھی بالکل نئے ہیں میں نے اس عید پر اور کپڑے نہیں لینے “۔ یہ ایک دس گیارہ سال کی بچی کے الفاظ
تاریخ بتاتی ہے کہ مخملیں بستروں پہ دراز مائیں کبھی ہیرو پیدا نہیں کرتیں۔ کون ہوتا ہے ہیرو ؟ جو ذاتی مفاد کے لیے ملک و قوم کو بیچ آئے؟ جو جبرو استبداد کا بازار گرم کرے؟ جو طاقت کا