۔”تم بڑی باتیں کرتے ہو، یہ غلط ہو رہا ہے،وہ غلط کر رہا ہے۔۔۔نہیں اب مجھے بتاؤکل جو پشاور میں ہواوہ سب تمہیں نظر نہیں آتا؟ یا تم بھی بدلتی ہوا کا رُخ دیکھتے ہواگر میں سادہ الفاظ میں کہوں
یہودی،عیسائی، مسلمان،ہندو، سکھ،بدھ مت،زرتشت اور نصرانی وغیرہ۔ یہ سب کیا ہیں؟مجھے ان چکروں میں نہیں پڑھنا۔۔۔آپ مجھے ایک ایسا انسان سمجھیں جس کا کوئی مذہب ہی نہیں۔۔۔جب کوئی مذہب ہی نہیں تو فرقہ واریت کا سوال اپنی موت آپ مر
ماضی میں کی گئی غلطیاں،گزرے ہوئے واقعات اوراُن سے اخذ تجربات حال کو سمجھنے میں انسان کے لیے رہنما اصولوں کا درجہ رکھتے ہیں۔انسان اپنے گرد چاہے لاکھ حصار بنا لے، خود کو بڑی بڑی دیواروں میں چھپا لے لیکن
ہمارا معاشرہ بے حیائی کی حدوں کو عبور کرتے ہوئے جس سمت گامزن ہے وہ کسی خوش آئندہ حالات کو جنم نہیں دے گا بلکہ اس کے نتائج ہمیں اور ہمارے بعد آنے والی نسلوں کو بھگتناہوں گے ۔ اور
رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں دو اشخاص آئے اورکہاکہ اللہ نے آپ کو جن علاقوں پر حاکم بنایا ہے اُن میں سے کسی علاقے پر ہمیں بھی گورنر بنادیں۔ اس پر رسولﷺ نے اُن کی نفی کرتے ہوئے ارشاد
سوچ قوموں کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔ کوئی قوم کیسی ہے؟ اس کا اندازہ اُس کی سوچ سے لگایا جا سکتا ہے۔ آفاقی سوچ کی حامل اقوام کم وسائل کے باوجو ددنیا میں اپنا نام پیدا کرتی ہیں
صدیوں سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ جنگل پہ حکمرانی کا حق صرف شیر کو حاصل ہے۔ ایک بار ایسا ہوا کہ جنگل کے تمام باسی اس نظام کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے اور صدیوں سے قائم اس
خدا کی تلوار بڑی بے نیاز ہے یہ جب کسی پر برستی ہے تو اُس کا سفید سیاہ سب کھل کر سامنے آجاتا ہے۔ مظلوموں کی آہیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں دیر سے ہی سہی مگر ایک وقت آتا ضرور
میں عام طورپر شادی بیا ہ کی تقریبات میں بہت کم جاتا ہوں اکثر گھر والوں کو بھیج دیتا ہوں تاکہ رشتہ داری خراب نا ہواور اگر جاؤں بھی تو صرف ولیمے والے دن جاتا ہوں اس کی وجہ یہ
ٓآئے ہیں کچھ ایسے لوگ بھی اس جہاں میں جن کا کوئی پتا نہیں چلا کہ وہ کب آئے اور کب چلے گئے، کچھ ایسے بھی تھے جن کے آنے کے بارے میں تو کچھ نہیں کہا جا سکتا مگر