ماہِ رمضان رحمتوں کی بارات لیکر بِلا تفریقِ ذات پات ، جاہ و حشمت ہر گھر میں وارد ہے اور ہر طرف خداتعالیٰ کی رحمت برس رہی ہے ۔جس ابنِ آدم کا دامن جس درجہ کشادہ ہو گا وہ اُسی
آج کےانسان کا سب سے بڑا مسئلہ حالات و واقعات اور انسانوں کے بارے میں اُس کی منفی سوچ ہے۔ دنیا کے بہت سے مسائل انسا ن کی چھوٹی سوچ کا ہی ثمر ہیں ۔ وہ سوچوں ہی سوچوں میں
۔2016۔2015 کے لیے پیش کیے جانے والے بجٹ میں بہت سے اہداف کا تعین کیا گیا ہے۔ اب جاننا یہ ہے کہ اس بار بھی ہمیشہ کی طرح سہانے خواب دکھائے گئے ہیں یا واقعی کوئی بہتری آئے گی؟ اللہ
لوگو! کیا تم نے اْن کی تاریخ نہیں پڑھی جن کے ماضی میں اندھیروں کے سوا کچھ نہیں ، جن کی گلیوں میں دلدل اور کیچڑ کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا، جو برس ہا برس سے آپس میں
کائنات میں ہونے والے واقعات کچھ دنوں کو خاص اہمیت سے نواز دیتے ہیں ، وہ بڑا خوش قسمت دن تھا جب چاغی کے پہاڑوں سے دھواں اْٹھ رہا تھا پاکستان ہی نہیں پوری امتِ مسلمہ کا سر فخر سے
انسان دو زندگیا ں جیتا ہے ایک خود ی کو جاننے سے پہلے اور ایک خودی میں ڈوبنے کے بعد۔ اگر کسی زندگی کی اصلیت ہے تو وہ موخرالذکر ہے باقی سب خواب ، خیا ل اور وبال کے سوا
یہ لق و دق صحرا کا منظر ہے وہ دور کہیں ریگستانی جہاز کے کھڑے ہونے کےآثار نظر آتے ہیں۔اْس کے پہلومیں ہونے والی حرکات وسکنات سے انسانی زندگی کی موجوددگی کا پتا ملتا ہے۔ نگاہیں اس منظر کا تعاقب
یہ مغرب کے بعد کا وقت ہے اور لوڈشیڈنگ کا دوردوراں ہے میں موبائل کی لائٹ جلائے اخبار پڑھ رہا ہوں، ہاسٹل کا کلرک اخبار اسٹینڈ ز سے اخباریں اْتارنے لگتا ہے۔میریلیے یہ حیرت کی بات تھی کیونکہ اخبار رات
گاؤں میں عام طور پر گھر کچے ہوا کرتے تھے ، دیواریں مٹی کی بنائی جاتی تھیں، گھر میں اگر کوئی مٹی کی ہنڈیا پڑی ہوتی تو وہ بھی دیوار میں لگا دی جاتی ، اس سے دیوار کی خوبصورتی
“ہم میں سے ہی نیوٹن اور آئن سٹائن پیدا ہوں گے”۔یہ اس کے آخری الفاظ تھے اور اس کے بعد تالیوں کی ایک لمبی گونج۔۔۔۔! الحمرا کلچرل کمپلیکس میں انٹر میڈیٹ کے پوزیشن ہولڈرز کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد