میری رائے :۔ امن کسی بھی خطے کے لیے ایک لازمی امر ہے۔جس کے بل بوتے پر معا شرہ ترقی کے مدارج طے کرتا ہے۔مگر ہمارے ہاں ان جزئیات کو سختی سے رد کر دیا جاتا ہے۔کہ سماج کی ترقی
ستم درستم ہیں کہ جو ہم سہتے چلے آرہے ہیں ۔ ہمارا تن بدن ہے جو مسلسل برداشت کئے جا رہا ہے۔ مجال ہے کہ کسی کے آگے فریادی ہوئے ہوں یا آہ و فغاں کی ہو ۔۔۔ ہر حال
یہ تلخ حقیقت ہے کہ یہاں سچ اور سچی بات کو بغاوت اور ہر جھوٹ کو قانون پسندی کا نام دیا جاتا ہے ۔۔۔۔ صادق و امین مصلوب ٹھہرتے ہیں ۔ اس عمل میں تاخیر قطعاً نہیں کی جاتی ہے
سماج کی سوچ پر چلوں کہ سماج کیلئے کوئی مثبت فکر عام کرنے کا مشن جاری رکھوں جس پر کہ معاشرہ اپنی سمت کا تعین کر سکے ۔۔۔؟ لیکن یہ تو وہی کام ہے جو برسوں سے جاری ہے ۔۔۔
مثبت سمت کا تعین اور مقاصد کی تکمیل کس قدر مشکل کام ہے ۔ہزار ہا رکاوٹیں پیش آتی ہیں کسی منزل کے حصول کی کوشش میں ۔۔(یعنی ) منزل کو پانے کی کوششیں بھی ایک طرح سے دشواریوں کے زمرے