تحریر :منشاء فریدی ساجد !شہر ڈو ونج ،مگر شرط ہے ایہا سینہ جے میڈی جان! زمانے دا صاف ہے ہمارے وسیب ،ہماری دھرتی اور ہمارے خطے کے عا لمگیرشاعر فرید ساجد کا یہ شعر عکاس ہے ان جذبات کا، عکاس
تحریر: منشاء فریدی کسی بھی معاصرروزنامہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ علاقائی ، قومی اور بین الاقوامی سطح پر جاری ابحث کوغیر جانبدارانہ انداز میں شائع کرے کیونکہ یہی حسن صحافت ہے ورنہ کوئی بھی جریدہ اپنا وقار کھو
تحریر: منشاء فریدی کاش وطن عزیز پاکستان میں امن قائم ہو۔ امیدِ واثق ہے کہ یہ خواہش ایکدن ضرور پوری ہو گی لیکن اس دعاء کو قبولیت تک پہنچنے میں ہمارے ارباب سیاست سب سے بڑی رکاوٹ ہیں ۔ اور
تحریر : منشا فریدی دارورسن کا دور عام ہے۔ سچ کو سُولی پہ لٹکایا جا رہا ہے۔ہر سُو دہشت کی فضا ہے۔ اور دہشت گردی کی تعریف بھی خود ساختہ ہے۔ جس کے تحت شعور مصلوب ہو رہا ہے۔ یہ
تحریر :منشاء فریدی میرے نزدیک قوم کی بنیاد ثقافت ہے ۔ نا کہ مذہب ، نسل ، ریاست ، ملک اور پیشے ۔۔۔۔! جو لوگ یا دانشور یا قبائلی نظام کے پر چار ک جب قومیت کی بنیاد درج بالا
تحریر: منشا ء فریدی ہمیں جس قدر ہمارے ہی سلامتی کے اداروں نے متاثر کیا ہے ۔ شاید ہی کسی اور ادارے میں اس طرح ہم جسمانی سطح پر ذلت کا شکار ہوئے ہو ں ۔ پورے ملک میں جس
کامریڈ اور سرائیکی دھرتی کے عظیم فرزند ظفر لنڈ کو ہدف بناکر شہید کر دیا گیا ۔ یہ سانحہ دھرتی کیلئے نا قابل تلافی نقصان ہے ۔ نہ جانے کیوں ۔۔۔؟ بزدلوں کو قلم و شعور سے وابستہ افراد اور
تاریخ ہمیشہ ان ہستیوں کو زندہ رکھتی ہے جو اپنی جد جہد کے ذریعے ایسا فلسفہ عام کرتے ہیں جو دوسروں کی زندگی اور روّیوں میں تبدیلی کا باعث بنتے ہیں ۔ یہی جدو جہد ارضی حقائق بدلنے میں بھی
ہر ملک اور ریاست میں مرکز پرست رویّے اپنی بالا دستی چاہتے ہیں ۔ تسلط کی مضبوطی ہی ان کی جمع پونجی میں اضافے کا باعث ہے ۔ خطے کی سلامتی اور ریاست کی طاقت کیلئے یہ ایک ضروری امر
میں اس آبدیدہ حقیقت اور خونچکاں داستان کی ابتداء شفقت کاظمی کے اس شعر سے کرتا ہوں کہ !۔ اہل دنیاکو ہے کیا درد ماروں سے غرض کون سنتا ہے بھلا مجھ سے فسانہ میرا میں اپنی کم علمی و