عوام کو اب بیدار ہونا ہوگا!۔۔۔۔ تحریر: رقیہ غزل

آج سیاست ’’ڈیلی سوپ ‘‘ بن چکی ہے جہاں ہر روزعجیب و غریب کہانیاں اور نت نئے قصے سننے کو ملتے ہیں ہر نئے معاملہ بارے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ جیسے ہمارے ملک کا حقیقی مسئلہ ہی یہی ہے لہذا جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوجاتا اس وقت تک ہماری ملکی ترقی و امن عامہ کا خواب خیال ہی رہے گا لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ہمارے سیاستدا ن باقاعدہ ایک سکرپٹ کے تحت یہ رام لیلا رچاتے ہیں جس سے بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ صرف مقابلہ بازی یا ایک دوسرے کونیچا دکھانے کا کھیل ہے مگر حقیقتاً یہ ڈرامے عوام کو مصروف رکھنے اوراپنی سیاسی عمر کو بڑھانے کے پینترے بن چکے ہے پہلے پہل اس کھیل میں صرف پرنٹ میڈیا ہی ایسے سیاسی شعبدہ بازوں کی راہیں ہموار کرتا تھا مگر اب الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا نے سیاستدانوں کو وسیع پلیٹ فارم مہیا کر دئیے ہیں اب شب و روز عوام کے سامنے ایسے ایشوز کوسنگین مسائل بنا کر پیش کیا جاتا ہے جو قوم کے اصلی حقیقی مسائل نہیں ہوتے جیسے ایان علی کی گرفتاری سے لیکر باعزت بری ہونے تک ایک خوبرو حسینہ کی داستان کو پیش کر کے عوام کو مصروف رکھا گیا جبکہ اسی حسینہ عالم کو منظرعام پر لانے والے کے لواحقین کو ابھی انصاف نہیں ملا ۔!اسی طرح آجکل قندیل بلوچ کو ہر سیاسی ٹاک شو کی زینت بنا یا جارہا ہے جبکہ ایم کیو ایم کے قائدین کے ضمیر جاگنے کے واقعات کا شور بھی کم نہ تھا مگر اس پر کوئی ایکشن یا کوئی قانونی حرکت دیکھنے میں نہیں آئی جبکہ پوری دنیا نے یہ تماشا دیکھا مگراس کو پس پشت ڈال کر کرکٹ پر رات دن تبصرے جاری رہے ۔اگر آپ کو کرکٹ کے اتنے ہی داؤ پیچ اور پینترے آتے ہیں تو اپنے کھلاڑیوں کو سکھاتے کیوں نہیں ہیں اور کیاصرف یہی اہم ترین مسئلہ رہ گیا ہے اس کے علاوہ بھی کئی ایسے دیگر اہم مسائل ہیں جن کا مسلسل تذکرہ ہر وقت سننے کو ملتا ہے قطع نظر اس کے کہ ان سے کسی کو کچھ حاصل نہیں ہوتا تو سوال یہ ہے کہ یہ کیسی منصوبہ بندی کے تحت ہورہا ہے اس پر اہل فکر و دانش پہلے ہی متفکر تھے اور اس کی روک تھام کے لیے دبے دبے لفظوں میں کہا بھی جارہا تھا مگر کیا کریں کہ ’’چھٹتی نہیں ہے ظالم منہ کو لگی ہوئی ‘‘کے مصداق ذاتی آشنائیوں اور لالچ کیوجہ سے ایسے ہی لوگ ملک و قوم کے نمائندہ لوگ قرار دئیے جا رہے ہیں جو صرف مفادات کے بندھے ہوئے ہیں اور دوسری طرف سیاسی اشرافیہ ملک و قوم کا پیسہ بیرون ملک منتقل کرنے میں مصروف ہے مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ اس کی مذمت اور اس پر اظہار خیال بھی وہ لوگ کر رہے ہیں جن کااپنا ذریعہ آمدن بھی مشکوک ہے اور اس مسئلہ پر انکاعلم بھی سطحی ہے مزید براں یہی لوگ ملک میں جاری انتشار ، افراتفری ،بے سکونی ،دہشت گردی سمیت تمام مسائل کی جڑصرف مذہبی منافرت کو قرار دیتے ہیں جبکہ تاریخ شاہد ہے کہ جب قول و فعل میں تضاد رکھنے والے دانشوربن جائیں ،حکمران مست مئے پندار ہو جائیں اور عدل و انصاف کے داعی ان کے سامنے مجبور ہوجائیں تو ریاستیں زوال پذیر ہو جاتی ہیں۔ پانامہ لیکس اور آف شور کمپنیوں کا شور تو ہر طرف سنائی دیتا ہے مگر المیہ یہ ہے کہ کسی کو کچھ سجھائی نہیں دیتا جن کو سمجھ آ گئی تھی جیسے آئیس لینڈ اور یوکرائن کے عوام نے طوفان نے ایسا طوفان برپا کر دیاتھاکہ جس کے نتیجہ میں وزیر اعظم استعفی دینے پر مجبور ہوگئے ہمارے عوام کے لیے تو یہ نام ہی نئے ہیں وہ تو ایک دوسرے سے پوچھتے پھرتے ہیں کہ یہ ہوتا کیا ہے اور جب پتہ چل جاتا ہے تو پانچ یا چھ گندی گالیاں حکومت کو نکالتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو برسوں سے ہو رہا ہے اور یہ سیاستدان ہمارا سارا ملک لوٹ کر کھا گئے ہیں اور یہ کہہ کر کہ اس کے سواکچھ نہیں ہوگا یعنی میاں صاحب سمیت سب ’’تگڑا وکیل ‘‘ مقرر کریں گے اور سارے مسائل سے بال کی طرح نکل جائیں گے ویسے بھی آواز بلند کون کرے گا ۔۔؟ تمام اہم عہدوں اور اہم جگہوں پر جب لوگ ہی اپنے ہوں جن کی اپنی جیبیں ایسے مال سے ہر لمحہ بھرتی جا رہی ہوں تو وہ بھلا کیسے آواز اٹھائیں گے رہ گئی بات عوام میں موجود اہل فکر و دانش کی تو وہ آئیس لینڈ اور یوکرائن کے مستعفی وزرا ئے اعظم کی خبریں سن کر ٹھنڈی آہیں بھر رہے ہیں اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستانی قوم کو متحد کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ ہم من حیث القوم نہیں بلکہ من حیث الگروہ جی رہے ہیں جبکہ سیاسی قائدین بھی گروہی تقسیم کا شکار ہوکر جذبہ خدمت اور بصیرت کھو چکے ہیں ایسے میں موجودہ کرپشن کیسسز کی اہمیت واجبی ہی رہ جاتی ہے بلاشبہ عمران خان ایک مضبوط اپوزیشن بن سکتے تھے مگر ان سے غلطی یہ ہوئی کہ جیت کے نشہ میں انھوں نے اپنی صفوں میں موقع پرستوں اور مفاد پرستوں کو شامل کرلیا جوکہ ہمہ وقت خود فریبی کا شکار رہتے ہیں جس کا نتیجہ میں وہ اندرونی طور پر جڑیں کاٹنے میں مصروف ہیں یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) انتہائی سکون میں اور کاریگری میں رہتی ہے مگر اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دشمن ہماری صفوں میں کھل کر گھس آیا ہے ’’را‘‘ کے ایجنٹ مسلسل گرفتار ہو رہے ہیں اور کتنے موجود ہیں یہ کوئی نہیں جانتا ایسے میں دہشت گردی کے خاتمے کاپروگرام بھی منتشر ہونے کا خطرہ ہے کیونکہ عین اسی وقت ایسے سانحات وقوع پذیر ہوئے جب بھارتی’’را‘‘ ایجنٹ گرفتار ہوئے مگر اگر یہ بھارت میں گرفتاری ہوتی تووہ چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیتے اور اس مجرم کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا کہ سب ششدر رہ جاتے مگر ہم وہ قوم ہیں جو حق کہنے میں شرماتے ہیں کسی چینل پر اس دن کے بعد ایسی کوئی خبر یا بات سننے کو نہیں ملی جس سے دنیا جانتی کہ بھارت ہمارے ملک کو کیسے تباہ کرنے میں مصروف ہے تاکہ ہم یقین دلا سکتے کہ بھارت پاکستان کی سالمیت اور عوام الناس کیلئے کس حد تک سنگین خطرہ ہے! ایک کہانی یاد آگئی گزرے وقتوں کی بات ہے کہ ایک طوطا اور طوطی کا گزر ایک ایسے ویرانے سے ہوا جہاں ہُو کا عالم تھا اورشجر بھی خزاں رسیدہ تھے‘ یہاں تک کہ جانوروں اور انسانوں کی ہڈیاں بھی کہیں کہیں بکھری پڑی تھیں‘ یوں لگتا تھا کہ جیسے وحشت اور دہشت آسمان سے برس رہی ہو‘چشمے بھی خشک ہو چکے تھے طوطی نے طوطے سے کہا : کس قدر ویران جگہ ہے جبکہ موسم بھی اچھا ہے مگر یہاں تو آسمان سے بھی وحشت ہی ٹپک رہی ہے مجھے تو ڈر لگ رہا ہے یہاں کونسا عذاب نازل ہوا ہے‘ تو طوطے نے کہا : میری پیاری !یوں لگتا ہے کہ یہاں سے کسی الّو کا گزر ہوا ہے جو کہ بھری بہار میں بھی یہ علاقہ ویران ہوگیا ہے ۔جس وقت وہ دونوں آپس میں باتیں کر رہے تھے عین اسی وقت ایک اُلّو وہاں سے گزر رہا تھا الّو نے جب طوطے کی بات سنی تو رک گیا اور ان سے مخاطب ہو کر بولا: تم لوگ مسافر لگتے ہو‘مجھے مہمان نوازی کا موقع دو اور میرے ساتھ کھانا کھاؤ الّو کی محبت بھری دعوت سے طوطوں کا جوڑا انکار نہ کر سکا اور اس کے ساتھ ہو لیا‘ الّو نے خوب خاطر داری کی اور جب انھوں نے کھانے کے بعد اجازت چاہی تو الّو نے طوطی کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا تم کہاں جا رہی ہو اس نے کہا! اپنے خاوند کے ساتھ واپس جا رہی ہو ں الّو یہ سن کر ہنسا اور کہا ! یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟ تم تومیری بیوی ہو۔ اس پر طوطا طوطی اور الّو کے بیچ گرما گرمی اور ہاتھا پائی شروع ہوگئی جب بحث و تکرار بہت بڑھ گئی تو اُلّو نے ایک تجویز پیش کی کہ ایسا کرتے ہیں کہ قاضی کے پاس چلتے ہیں اور اپنا مقدمہ پیش کرتے ہیں وہ جو فیصلہ کرے گا ہمیں منظور ہوگا الّو کی تجویز سے دونوں متفق ہو گئے اور قاضی کے سامنے مقدمہ پیش کیا قاضی نے دلائل کی روشنی میں الّو کے حق میں فیصلہ دیکر عدالت برخاست کر دی طوطا اس بے انصافی پر روتا ہوا چل دیا تو اُلّو نے آواز دی کہ بھائی! کہاں جاتے ہو؟ اپنی بیوی تو لے جاؤطوطے نے تعجب سے اُلّو کی طرف دیکھا اور کہا کہ سب کچھ چھین کرا مذاق کیوں اڑاتے اب تو عدالت نے بھی فیصلہ دے دیا ہے یہ اب میری بیوی کہاں ہے تو اُلّو نے محبت سے کہا : نہیں دوست ۔۔یہ تمہاری ہی بیوی ہے‘ میں تو تمہیں صرف یہ سمجھانا چاہتا تھا کہ بستیاں اُلّو ویران نہیں کرتے بلکہ بستیاں تب ویران ہوتی ہیں جب ان سے انصاف اٹھ جاتا ہے تو اگر اس ریاست کو بچانا ہے تو انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے انصاف کا بول بالا کرنا ہوگاکیونکہ قوموں کی عظمت اور حشمت تبھی قائم رہتی ہے جب وہ حق بات کہنے اورگنہ گار کو سزا دینے میں غیر جانبداری کا مظاہری کرتی ہیں مگر کیا کیا جائے کہ یہاں تو سیاست اور افسر شاہی میں کسی بھی عہدے پر فائز ہونے والا نیت اور اراداتاً ہی ملک و قوم کو لوٹ کر کھا جانے لیلئے آیا ہے ،عہدہ طلبی اور اختیارات کے حصول کیلئے ہر نا جائز حربہ استعمال کرنے کے بعد اس نے منزل مراد حاصل کی ہوتی ہے لہذا کیسے ممکن ہے کہ وہ اس فرقہ بندی اور ذاتوں میں تقسیم قوم کو معاف کر دے ۔مگر اگر صرف قانون ا ور انصاف کی عملداری ہوجائے تو پھر یقیناًآئیس لینڈ اور یوکرائن کے وزرائے اعظم اور عوام جیسی اخلاقی جرائتیں یہاں بھی دیکھنے میں آسکتی ہیں مگر ہم تو وہ قوم ہیں جنہوں نے ملک کا ایک پورا حصہ اپنی مفاد پرستیوں اور نا عاقبت اندیشیوں میں گنوا دیا تھا اور آج ہماراے برسر اقتدار طبقہ افواج پاکستان کو بھارت کے دانت کھٹے کرنے کیلئے پابہ رکاب رہنے کی تلقین کرتا ہے اور خود اپنے کاروبار اور مفادات میں وسعت کے لیے ’’را‘‘ کے لوگوں کو پناگاہیں فراہم کرتا ہے اور ہر ناکام پارٹی صرف رنگ بازی اور سیاسی بھنگڑا دکھانے میں مصروف ہے جونہی مفادات کے اہداف پورے ہوجائیں گے جاری تماشوں کی پٹاریاں بند کر دی جائیں گی لہذا عوام کو اب بیدار ہونا ہوگا !۔










Leave a Reply