چٹکی ہوئی کلیاں ،مسلے ہوئے غنچے ملک و قوم کے لیے لمحہ فکریہ!۔۔۔۔ تحریر:رقیہ غزل

Roqiya Ghazal

آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انسانیت ،انسان سے شرمندہ ہے ۔کیونکہ انسان ،انسان سے خوفزدہ ہے ۔حالات کی سنگینی کا عالم یہ ہے کہ آج انسان اندھیری رات میں درندوں بھرے جنگل میں خود کو اتنا غیر محفوظ محسوس نہیں کرتا، جتنا انسانی معاشرے میں ۔افسوسناک پہلو تو یہ ہے کہ اس سفاکیت ،بے حسی اور خود غرضی کی لپیٹ میں کانچ سے نازک آبگینے ،پھولوں جیسے خوبصورت و معصوم فرشتے بھی آگئے ہیں ۔مسلم معاشرے کے لیے اس سے بڑھ کر لمحہ فکریہ کیا ہوگا کہ سماج کے ظالم ،سفاک ،خود غرض درندے ہمارے آنگن کی معصوم کلیوں کوہی نہیں غنچوں کوبھی کھلنے سے قبل ہی یوں مسل ڈالتے ہیں کہ وہ جب تک زندہ رہتے ہیں ناکردہ نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو کر اپنی خود اعتمادی اور شخصیت کھو دیتے ہیں اور انتہائی اذیت بھرے ایسے خوفناک خواب کے زیر اثر رہتے ہیں جس میں وہ ہر دن مرتے اورجیتے ہیں یہاں تک وہ اس حد تک اذیت پسند ہو جاتے ہیں کہ ایک دن اس گھناؤنے فعل کے عادی اور مرتکب ہو جاتے ہیں ۔
بچوں سے جنسی زیادتی اس وقت ملک گیر نہیں ایک عالم گیر مسئلہ بن چکا ہے ۔اور بچوں پر تشدد خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے ۔ملک بھر کے اخبارات ،جریدے ،الیکٹرانک میڈیا ،سوشل میڈیا پر روزانہ بچوں سے زیادتی کی بیسیوں خبریں شائع ہو تی ہیں مگر ارباب اختیا ر اس سنگین اور قبیح جرم کو بھی عام جرم سجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں اور اس میں بھی ہمیشہ کی طرح کاروائیاں ’’نوٹس ‘‘ تک محدود رہ جاتی ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس جرم میں روز افزوں حیرت ناک حد تک اضافہ دیکھنے میں میں آرہا ہے ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 30کروڑ بچے ہر سال جنسی استحصال کے شکار ہو جاتے ہیں جب کہ پاکستان اور بھارت میں ہر روز اوسطاً 15بچے اس فعل قبیح کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں ۔ان میں سے صر ف چندواقعات منظر عام پر آتے ہیں جبکہ کچھ والدین کے خوف کی بنا پر چھپالئے جاتے ہیں اور اکثر والدین معاشرے میں شرمسار ہونے کے باعث اس زہرمسلسل کو چپ چاپ پی لیتے ہیں ۔
یہ کس قدر قابل فکر ہے کہ ہمارا مستقبل ،ہماری امید اور ہمارے چمن کے پھول عدم تحفظ کا شکار ہورہے ہیں اورارباب اختیاررسمی کاروائیاں کر کے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں مگر اب پانی سر سے اونچا ہوتا جا رہا ہے اس لیے اب ترجیحی بنیادوں پر سوچنا ہوگا کہ ہمیں اپنے معصوم پھولوں کو ان ’’ہوس پرست کتوں ‘‘سے کیسے محفوظ رکھنا ہے لیکن یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب ہم اس مکروہ فعل کی وجوہ اور عوامل تلاش کر یں تاکہ اس کا مکمل طور پر سد باب ہو سکے اس بارے میں تحقیق کی جائے کہ وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر سماج اخلاقی گراوٹ کی دلدل میں اس حد تک دھنستا جا رہا ہے کہ معصوم فرشتوں سے اپنی ہوس مٹانے میں مصروف عمل ہے۔
آج کے ترقی یافتہ سماج کا موازنہ اگر چند دہائیاں قبل کے سماج سے کیا جائے تو حیرت ناک تضادات کا آئینہ ہمیں منہ چڑانے کے ساتھ اک حسرت کا روپ بھی دھار لیتا ہے کیونکہ چند دہائیاں پہلے یہی سماج احساسات ،جذبات ،اقدار،روایات اور اخلاقیات میں اپنی مثال آپ تھا ،محبتوں اور جانثاریوں کی مٹی سے گندھا ہوا یہ سماج امن و سلامتی کا پیامبر تھا ۔یہ دھرتی چاہتوں کے گیتوں سے گنگناتی تھی اور ہوائیں رشتوں کے احترام و مان سے مہکتی تھیں ۔سب بچے،بچیاں مل کر کھیلتے تھے کسی کے ذہن میں ایسا اختلاط ہی نہ تھا جو برائی پر ابھارتا ،محلے بھی گھروں کا پرتو ہوتے تھے ،ہر طرف سکون اور سلامتی کا راج تھا ،پھر اس امن و سلامتی پر اماوس کی رات ٹھہر گئی ،ہم مشینی دور میں داخل ہوگئے ،دوپہر اور شام کے کھیل ٹی وی کے پروگرامز کی نظر ہوگئے ،رفتہ رفتہ ہم ترقی کی منازل طے کرتے گئے،انٹرنیٹ ،موبائل اور نغمہ سرود ہمارے رگ و پے میں بس گیا ،گڈے گڑیا کا بیاہ ،چھپن چھپائی اور کوکلا چھپاکی بچگانہ اور نچلے درجے کے کھیل ہوگئے اور فرصت کا لمحہ غیر اخلاقی چیٹ ،دوستیوں اور لمبے لمبے فون پیکجز کی نذر ہو گیا ، جبکہ ہماری اخلاقی اقدار جدیدت کی چکا چوند میں گم ہوتی چلی گئیں ،ہم جان ہی نہ پائے کہ کب ہم مغربی اقوام کے پیروکار بنے اور کب ہمارے اندر سے احساس زیاں مر گیا ۔جب اختلاط بڑھا تو قربتیں بڑھیں اور برائیوں نے جنم لیا ،محبتیں اغراض کی نذر ہوئیں ،احساس ہوس کی بھینٹ چڑھا اور معاشرہ جنگل کا آئنہ دار بن گیا۔
صد افسوس ! آج حالات یہ ہوگئے ہیں کہ اس نفسا نفسی کے دور میں بڑوں کے پاس اتنا وقت ہی نہیں رہا کہ وہ دیکھ سکیں کہ چھوٹے کیا کر رہے ہیں مثلاً اگر با الفرض والدین احساس ذمہ داری نبھاتے ہوئے پوچھ گچھ کرتے ہیں تو بچہ والدین کو اپنا دشمن خیال کرتا ہے اور اکثر اوقات گھر چھوڑنے کو ترجیح دیتا ہے ۔بچے والدین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے لگے ہیں اور ہٹ دھرمیوں سے اپنی من مانیاں کرتے ہیں ۔ایسے میں ٹین ایجرز کے ساتھ ایسے حادثات ہونا تو عام سی بات ہو گئی ہے اور معاشرہ بھی ایسے حادثات کو یوں سنتا ہے جیسے یہ تو ہونا لازمی تھا کیونکہ بچے و بچیاں والدین کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں مگر اس بے حسی اور مجرمانہ غفلت کا نقصان یہ ہوا ہے کہ معصوم فرشتہ صفت بچے اس کی زد میں آگئے ہیں ۔
بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے اس جرم کا گنہگار والدین کو ٹھہراتے ہیں ان کے مطابق والدین کی طرف سے ایسے شنیع فعل کی پردہ پوشی کرنا اور رپورٹ نہ کرنا اس جرم کے اضافہ کی وجہ بن رہا ہے جبکہ حالات اس سے برعکس ہیں کیونکہ اگر ایسے جرائم ان اداروں کے پاس آ بھی جاتے ہیں تو محض تصویری ڈرامہ کیا جاتا ہے اور اپنے اداروں کیلیے امداد کی راہ ہموار کی جاتی ہے ،جبکہ متاثرہ بچہ تا عمر سماج کی لعنت وملامت کے کے لیے باقی رہ جاتا ہے ۔دوسری طرف یہ شکایت عام ہے کہ اکثر جگہوں پرپولیس ایسے کیسوں کی ایف آئی آر ہی درج نہیں کرتی کیوں مجرمان اثرورسوخ کے حامل ہوتے ہیں اور یہی کوشش کی جاتی ہے کہ معاملہ ویسے ہی دبا دیا جائے ۔
ہم ماضی میں زیادہ پیچھے نہیں جاتے صرف 2013 سے2014 میں ایسے گھناؤنے سانحات کی انتہا ہو گئی تھی یہاں تک کہ میں نے بھی اپنے ایک کالم جو کہ ’’ محمد بن قاسم کے نام ‘‘ ایک خط تھا لکھا تھا جس میں فریاد تھی کہ اب انتہا ہو چکی ہے اب اس دھرتی کی بیٹیاں پھر کسی محمد بن قاسم کی آس میں ہیں کیونکہ ارباب اختیار بے بس ہو چکے ہیں، حیرت ہے کہ جنسی تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ کے باوجود حکام نے کوئی واضح حکمت عملی تاحال اختیار نہیں کی جبکہ اب قصور سانحہ حکومت سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سوالیہ نشان بن چکا ہے اور صرف یہی سانحہ زیر بحث نہیں رہا ،سننے میں آرہا کہ ایسے سانحات تمام شہروں میں ہوئے ہیں، ہوتے رہے ہیں اور ہو رہے ہیں مگر یہ جرائم نہ رپورٹ ہوئے اور نہ کسی کو خبر ہوئی کیونکہ اس مکروہ فعل کو سر انجام دینے والے اکثر و بیشتر کا تعلق اچھے گھرانوں سے ہوتا ہے یا مجرمان اشرافیہ سے گہرے مراسم رکھتے ہیں جو کہ اسی وجہ سے ان کی پشت پناہی بھی کرتے ہیں اور غریب کے پاس عزت کے سوا کچھ نہیں ہوتا اس لیے وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہوجاتا ہے یا ارباب اختیار کہانیوں کا رخ موڑ دیتے ہیں جس طرف طاقت ور یا اپنا بندہ ہو ہوا کا رخ ادھر ہی موڑ دیا جا تا ہے ،کیا وجہ ہے کہ ایسے لوگوں کے دل نہیں کانپتے ،وہ کیسے دل ہیں جو نہیں تڑپتے ’’حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے ‘‘۔
ایک رپورٹ کے مطابق ،پاکستان میں اسٹریٹ چلڈرن سے جنسی زیادتی کی 60 فیصد ذمہ دار پولیس ہے جبکہ 40 فیصد بچے اپنے ہی گھر میں اپنے قریبی رشتہ داروں اور ملازموں یا محلہ کے دوکانداروں کے ہاتھوں زیادتی کا شکار ہوتے ہیں ۔اگر بچہ یا بچی اپنے والدین سے ایسا کوئی تذکرہ کر بھی دے تو والدین اسے بھی خاموش کروا دیتے ہیں اور خود بھی خاندانی عزت اور جھگڑوں کا خیال کرتے ہوئے اس کو الزام تراشی گردانتے ہیں اور نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ان رویوں نے اس جرم کو پنپنے میں بہت حد تک مدد فراہم کی ہے ۔مگر بہت ہو چکی اجزائے ہستی کی نوحہ خوانی اب ہمیں سوچنا ہو گا اور اس مجرمانہ خاموشی کو توڑنا ہوگاکیونکہ پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے ۔۔ہم وزیراعظم پاکستان سے اِستِدعا کرتے ہیں کہ ایسے مجرموں کے لیے شرعی سزا تجویز کی جائے، قانون میں ترمیم کی جائے ، ایسے مجرم کو سر عام لٹکا دیا جائے اورشہری پتھر برسائیں ،تب تک ماریں جب تک ایک بھی سانس اس کی باقی رہے اس کے بعد دو دن تک لٹکا رہنے دیں تاکہ دوسروں کے لیے عبرت بنے ۔لیکن شرط یہ ہے کہ اس کے لیے قانون سازی کی جائے ۔۔۔!میں وثوق سے کہہ سکتی ہوں اس سزا کو کوئی بھی برا نہیں کہے گا نہ اس کو رائج کرنے والوں کے وقار میں کوئی کمی آئے گی بلکہ اب کے مؤرخ آپ کا نام جلی حروف میں لکھے گا جس نے معصوم غنچوں کے لٹیروں کو دنیا کے لیے عبرت بنا دیا اور اس جرم کو ہی نہیں ایسی قبیح سوچ کو بھی روح فرسا بنا ڈالا ۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آج اگر ہم معاشرتی امن و سلامتی کو قائم رکھنا چاہتے ہیں تو یہ طے ہے کہ معصومیت کو درندگی سے بچانے کے لیے ان عوامل اور وجو ہات کا سدباب کرنا ہوگا جو اس قبیح جرم کا باعث ہیں ۔

Short URL: http://tinyurl.com/jp2kxxj
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *