پاکستان میں چینی سرمایہ کاری

تحریر :سعدیہ ملک ،میرپور آزاد
پاکستان اور چین کی دوستی اور ازلی محبت سے کون واقف نہیں۔وطن عزیز پاکستان میں چینی دوستی کو ہمیشہ سے ہی قابل فخر اور مثبت سمجھا جاتا ہے۔پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی طویل جدوجہد اور شبانہ روز محنت کی وجہ سے آزاد ہوا۔پاکستان وہ واحد ملک ہے جو نظریاتی جنگ کے نتیجے میں 1947 میں دنیا کے نقشہ پر ابھرا۔جبکہ چین مانوزے تنگ کی عظیم قیادت اور ان کی لانگ مارچ کے نتیجے میں 1949 میں آزادی سے ہمکنار ہوا۔پاکستان نے چین کی آزادی کا نہ صرف گرم جوشی سے خیر مقدم کیا بلکہ چین کی سرحدوں کو دل سے قبول بھی کیا اور مثالی محبت کی داغ بیل ڈالی۔یہ الگ بات ہے کہ پاکستان کی آزادی سے دو سال بعد آزاد ہونے والی اس مملکت نے نہ صرف دنیا میں بھرپور ترقی کی بلکہ ترقی یافتہ ممالک کی سپر پاور بننے کی دوڑ میں بہت سی سپر پاورز کو شکست سے دوچار کیا۔امریکہ اور روس کی راتوں کی نیندیں اڑ گئیں۔لیکن اس محنتی قوم نے اقتصادیات اور معشیت کا لوہا منوایا اور عالمی منڈیوں میں اپنی مصنوعات کی لائق تحسین جگہ بنا کر یورپی مصنوعات کو پیچھے چھوڑ دیا۔انگریزی کو نصابی کتب کی زبان نہیں بنایا بلکہ چینی زبان کو ذریعہ تعلیم بنائے رکھا۔یہ ان لوگوں کے لئے واضح مثال ہے جو پاکستان میں انگریزی زبان اور انگریزی نظام تعلیم اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی نصابی کتب کی ترویج کا راگ الاپتے نظر آتے ہیں۔پاکستان اور چین کے تعلقات انتہائی قریب ہیں اور ان میں دن بدن بہتری آ رہی ہے۔تعلقات کی اس بہتری نے نہ صرف ہندوستان کی راتوں کی نیند اڑا کر رکھ دی ہے بلکہ امریکہ کا سکون بھی حرام کر دیا ہے پاکستان کے ازلی حریف بھارت کے خلاف چینی حمایت پاکستان کی فلاح و بقا کے لئے بہت ضروری ہے۔چین نے نہ صرف دفاع کے میدان میں بلکہ صنعت و حرفت اور تجارت بلکہ ہر میدان میں پاکستان کی مدد و حمایت کی ہے پاکستان میں چینی سرمایہ کاری اور صنعتکاری کا بہت زیادہ فروغ ہو رہا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سوئی سے لیکر بھاری مشینری تک پاکستان میں چینی صنعتکار متعارف کروا رہے ہیں اور انتہائی مناسب قیمت میں چینی مصنوعات کو پاکستانی مصنوعات پر ترجیح دی جا رہی ہے۔پاکستان اور چین کے انتہائی قربت میں بندھے ہوئے ان تعلقات سے نہ صرف معاشی بلکہ دفاعی اور توانائی کے میدانوں میں ہمیں ایکفوسرے کے دست و بازو بنا دیا ہے۔گزشتہ 28 برس کے دوران پاکستانی اور چینی محبت کا ثبوت چین میں پاکستان کی سرمایہ کاری ہے۔نہ صرف دفاعی میدان میں بلکہ صنعت تجارت اور تعمیرات کے شعبہ میں پاکستانی ترقی چینی تعاون کا منہ بولتا ثبوت ہیپاکستان نے چین کی آزادی کے بعد باقاعدہ طور پر چین کی حمایت چین تائیوان تنازہ پر بین الاقوامی پلیٹ فارم پر 1950 میں کی اور نہ صرف چین کی سرحدوں کو تسلیم کیا بلکہ سفارتی سطح پر دل سے خیر مقدم بھی کیا۔پاک چین کے 21 مئی 1951 کو قائم ہونے والے سفارتی تعلقات کو تقریبا 68 برس ہو چکے ہیں۔ان تعلقات کے دوران بہت سے ادوار آئے۔جنگیں ہوئیں حکومتیں تبدیل ہوئیں لیکن ان ملکوں کے تعلقات میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ دن بدن اضافہ ہوا ہے۔دونوں ملکوں کے عوام میں بہت محبت قائم ہے اور پاکستان جب بھی کسی مشکل وقت سے دوچار ہوا چین نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔چین ایک امن پسند ملک ہے اقوام متحدہ کی رکنیت بھی اسے حاصل ہے اور سلامتی کونسل میں اسے ویٹو کا حق بھی حاصل ہے۔چین کی دن دوگنی رات چوگنی ترقی کی وجہ سے اہل مغرب اسے حسد کی نگاہ سے دیکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دو عشروں تک چین کو اقوام متحدہ میں اپنے جائز مقام سے محروم رکھا گیا ہے۔
چین نے ہر فورم پر ترقی پذیر ممالک کی بھر پور حمایت کی ہے۔چین نے پاکستان میں بہت سے منصوبے شروع کر رکھے ہیں جن میں سے کچھ ختم ہو چکے ہیں جبکہ کچھ تکمیل کے مراحل میں ہیں۔سی پیک کے چینی منصوبے سے کون واقف نہیں۔چین نے اس ضمن میں 62 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کر رکھا ہے۔چین نے پاکستان کو سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی فراہم کی۔بجلی پیدا کرنے کے چشمہ 1 اور چشمہ 2 کے منصوبوں کی تکمیل کے بعد اب چشمہ 3 اور چشمہ 4 کے منصوبے بھی ہیں۔اب پاک چین کی ناقابل شکست دوستی کے متعلق عالمی رائے یہ ہے کہ۔چین اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کے پیش نظر پاکستان کے تمام قدرتی ذخائر و وسائل پر قبضہ کرنے کے درپے ہے۔
پاکستان کو قرضوں کی لالچ دے کر ملکی سرمایہ کاری پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔جس طرح برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے برصغیر پاک و ہند پر قبضہ کر لیا تھا۔اسی طرح چین پاکستان میں نئی ایسٹ انڈیا کمپنی بن رہی ہے۔سی پیک کے منصوبے کرپشن سے خالی نہیں۔چین آخر میں سارا سرمایہ اپنے ملک لے جائے گا۔ملک میں چینی صنعتوں کی اشیا انتہائی سستے داموں پر فروخت کی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے پاکستانی صنعتکاروں کو نقصان ہو رہا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈی میں کیسے لے کر جایا جائے۔اور ملک بھر میں پاکستانی مصنوعات کو فروغ دیا جائے۔پاکستانی صنعتکاروں کو آسان اقساط پر قرضے فراہم کیے جائیں ان کی حوصلہ افزائی کے لئے ٹیکس کم لگائے جائیں۔گھریلو صارفین کی آگہی کے لئے ایسے پروگرام متعارف کروائے جایں جن میں پاکستانی مصنوعات کو غیر ملکی مصنوعات پر ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیا جائے۔










Leave a Reply