مہمان

غزالہ عصر ہی کے وقت سے چھت پر کھڑی اسکا انتظار کر رہی تھی. انتطار کے لمحے کاٹے نہیں کٹ رہے تھے، انتظار کے یہ لمحے گزارنے کے لئے وہ چھت سے نیچے اس وسیع شارع کو دیکھنے لگی جہاں رئیس و امرا کی گاڑیاں قطار در قطار کھڑی تھیں اوراب ان گاڑیوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو نے لگا تھا.وہ اس شارع اور اردگرد موجود افراد کا بغور مشاہدہ کرنے لگی وہ شارع ایک ایسے دریا کا منظر پیش کر رہی تھی جس میں ندیوں, نہروں,چشموں اور آبشاروں کا پانی رواں دواں تھا, اس میں رنگ برنگی مچھلیاں تیر رہی تھیں, لوگ کناروں پر کھڑے ہو کر اس پرفریب مگر دلکش منظر سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ اور اپنی اپنی پسند کی مچھلیاں پکڑنے کے لئے کنڈیاں اور جال لگائے بیٹھے تھے اس پْررونق بازار میں برقی قمقومیجل اٹھے تھے, ہلکی ہلکی
موسیقی کی دھنیں بھی سنائی دینے لگیں تھیں اور غزالہ بڑی بے تابی سے اسکا انتظار کر رہی تھی۔ اس بڑھتے ہوئے ہجوم کو دیکھ اس کا دل گھبرانے لگا اور وہ چھت پر چکر کاٹنیلگی.اس کے مرمری پاوں اب تھکنے لگے تھے.مدھر موسیقی کی دھنیں اسے اس وقت زہر سے بری لگ رہیں تھیں.
نیچے آجاو! جس کا انتظار کر رہی ہو اس کے آنے میں ابھی دیر ہے شمیم آراء4 بیگم نے صدا لگائی..غزالہ کچھ مایوس ہو کر نیچے کمرے میں چلی آئی..چھٹکی نے غزالہ کا لٹکا ہوا چہرا دیکھا تو رقص کی مشق چھوڑ کر غزالہ کے پاس آ بیٹھی اور پوچھنے لگی
کیا ہوا غزالہ آپا ؟ اداس کیوں ہو ؟ تمہیں تو خوش ہونا چاہئے, جانتی ہو اماں کہہ رہی تھی کہ کچھ دن کی چھٹیاں ملیں گی ,کوئی خاص مہمان آرہا ہے بس اسکی ہی مہمان نوازی کرنی ہوگی, کوئی کمی نہیں رہنی چاہیے اہتمام میں,..ہاں جا نتی ہوں مگر وہ مہمان کب آئے گا غزالہ ایک بار پھر اداس ہو گئی.. آجائے گا آپا…اداس کیوں ہوتی ہو, چلو آو ہم مل کر تیاریاں کرتے ہیں۔ چھٹکی غزالہ کا ہاتھ کھینچے ہوئے اسے سنگھار میز کے سامنے لے آئی.
آپا تم کتنی خوبصورت ہو نہ۔۔۔مجھے بھی تمھارے جیسا ہی بننا ہے ..چھٹکی نے غزالہ کو حسرت بھری نگاہ سے دیکھتے ہوئے خواہش کی..
خدا نہ کرے چھٹکی کبھی تم مجھ جیسی بنو… کیوں آپا ؟ چھٹکی نے منہ بناتے ہوئے پوچھا. تو کیا کرے گی مجھ جیسا بن کر …پھر تجھے بھی سال بھر ان چھٹیوں اور اس مہمان کا انتظار کرنا پڑے گا. اچھا خیرتو چھوڑ ان باتوں کو چل تیاریاں کرتے ہیں۔ مگر آپا وہ خاص مہمان ہے کون یہ تو بتاؤ.. کیا وہ پہلے بھی ہمارے یہاں آیا ہے ؟ اور تمھیں اس مہمان کا اتنا انتظار کیوں ہے ؟ چھٹکی نے ترکی بہ ترکی سوال کیے.. ہاں بہت بار آیا ہے وہ.. ہر سال آتا ہے، اوربے شمار رحمتیں برساتا ہے…ہمارے سارے گناہ دھو دیتا ہے، میری تو خواہش ہے چھٹکی کہ یہ مہمان پورا سال ہمارے ساتھ رہے..اور کبھی نہ جائے. ہمم اور چند دن کے بجائے تمھیں سارا سال کی چھٹی ملے…اس ہی لئے تم چاہتی ہو نہ آپا کہ وہ مہمان کبھی نہ جائے اور سارا سال ہمارے ساتھ رہے.. چھٹکی نے معصومیت سے کہا…
نہیں پگلی! میری جھولی میں جتنے گناہ ہیں اسکی معافی کے لئے چھٹی کے کے یہ دن مجھے بہت کم لگتے ہیں ہر سال جب یہ دن آتے ہیں تو میں اپنے ایک ایک گناہ کی معافی مانگتی ہوں اور دن ختم ہو جاتے ہیں مگر میرے گناہ نہیں.. کاش! کے اس سال معافی مل جائے.. غزالہ کی آنکھیں بھرنے لگیں. کبھی کبھی میں سوچتی ہوں چھٹکی کیا ہم معافی کے لائق ہیں ؟کیا ہمیں معافی مل جائے گی؟کیا ہماری درخواست معافی رب تک جاتی بھی ہو گی ؟ غزالہ کی غزل سی آنکھوں سیاب آنسووں کی لڑی جارہی ہو گئی تھی ..معافی ؟گناہ ؟ کیا کہہ رہی ہو آپا ؟اور تم رو کیوں رہی ہو.. چھٹکی غزالہ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر گبھرا گئی تھی . کچھ نہیں, کہا تھا نہ تو چھوڑ ان باتوں کو تو بہت چھوٹی ہے تجھے ابھی یہ باتیں سمجھ نہیں آنی, تو جا اور جا کر سب کو بلا لا ہم سب مل کر تیاریاں کریں گے۔ غزالہ نے آنسوں پونچھتیہوئے پر جوش انداز میں چھٹکی سے کہا. سب شمیم آراء4 کی بیٹھک میں جمع ہو گیءں, یہ وہ حسینائیں تھیں جو سجتیں سنورتیں تو لوگوں کی نگاہیں ان حسیناوں کی ذرق برق پوشاکوں, عنبرین بالوں, سرمگیں آنکھوں, گورے چٹے رخساروں, گلابی ہونٹوں اور صاف شفاف دانتوں پر پڑتیں تو ان پر سکوت طاری ہو جاتا.. اور یہ حسینائیں اپنے اپنے بالا خانوں میں عیاش امیر زادوں کی دولت و دنیا پر ڈاکہ ڈالتیں مگر آج انہیں بازارمیں ان امیر زادوں سے کچھ رغبت نہ تھی وہ سب اس خاص مہمان کی مہمان نوازی کے اہتمام میں محو تھیں .نہا دھو کر صاف ستھرے پاکیزہ لباس زیب تن کیے وہ گلستان کے ان رنگارنگ پھولوں کی مانند نکھری دیکھائی دے رہیں تھیں جیسے شبنم کے قطروں نے انہیں دھو ڈالا ہو.
مغرب کی نماز پڑھ کر غزالہ پھر سے چھت پر جا پہنچی اوربڑی بے تابی سے ادھر اْدھر دیکھنے لگی سورج غروب ہو چکا تھا, آسمان نے نارنگی رنگ کی چادر اوڑھ لی تھی جس پررات کیسیاہ سائے منڈلا رہے تھے اسکی بے تابی بڑھ رہی تھی ..اب تک تو آجانا چاہیئے تھا غزالہ من ہی من بڑبڑائی اور ایک بار پھر سے آسمان تکنے لگی اب آسمان کی نارنگی چادر کو رات کی سیاہی رنگ چکی تھی۔۔۔اور بلآخر وہ آگیا… دیکھوں اماں وہ آگیا… اچانک غزالہ چلائی.. یہ صدا سنتے ہی شمیم آراء4 نے کوٹھے کا دروازہ بند کر دیا.
غزالہ دوڑتی ہوئی آئی اور سب کو مہمان رمضان کی مبارکباد دی۔

(ازقلم: فریحہ احمد)

Short URL: http://tinyurl.com/zp2vlku
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *