غزل پھر بھی نازاں ہے اپنے وطن پر ! ۔۔۔۔ تحریر: رقیہ غزل

۔14اگست 1947 کو کرہ ارض پر دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت اور دنیا کی پانچویں بڑی طاقت نمودار ہوئی جس نے دنیا کا جغرافیہ ہی بدل کر رکھ دیا ، اس اسلامی مملکت کا کا نام ’’ پاکستان ‘‘ رکھا گیا جس کے ہم سب باسی ہیں ۔سفرِ آزادی انتہائی کٹھن کئی برسوں پر محیط تھا، ہر دن اور ہر رات ایک آزمائش تھی ،یعنی پُرہول وادی سے گزر کرآزاد وطن کا تصور ہی سراب لگتا تھا بالآخر مسلمانان برصغیرکی قربانیاں اوردعائیں رنگ لائیں، غلامانہ ذہنیت کو حیات آگہی عطا ہوئی،مجبور و مفقود قوم کو ایک ایسا سپہ سالار ملا جس نہ نے صرف اپنے عزم و استقلال کے ذریعے بکھرے ہوئے انبوہ کو لشکر جرار کی سطوت عطا کی بلکہ اپنی عقل و فہم سے انگریز سامراج کا ہمت ،حکمت اور دانائی سے مقابلہ کیا، یہاں تک کہ ہندو کانگریس ،نیشلسٹ مسلمانوں او ربعض علماء کرام کی مضبوط جماعت بھی انھیں زیر نہ کر سکی، تاہم حق و باطل کی اس جنگ میں جس کی بنیاد ’’دو قومی نظریہ ‘‘تھا آخری فتح مسلمانوں کی اکثریت کو ہوئی جس سے مسلمانان برصغیر کو ایک آزاد اور خود مختار اسلامی ریاست انعام کے طور پر ملی ،یہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی ولولہ انگیز قیادت ،یقین محکم اور بے مثال قربانیوں کا ثمر تھا کہ جنوبی ایشیا کے محروم و مجبور مسلمانوں نے فتح پائی اور آنے والی نسلوں کو طوق غلامی سے نجات دلائی اور ثابت ہوگیا کہ
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
دنیا نے دیکھا کہ تمام زنجیریں کٹ گئیں اور ۔۔۔رہا ڈر نہ بیڑے کو موجِ بلاکا ۔۔ادھر سے ادھر پھر گیا رخ ہوا کا ۔پاکستان کو اسلام کا قلعہ قرار دیا گیا اور واشگاف الفاظ میں کہا گیا کہ اس خطۂ زمین پر مسلمانوں کواپنے دین ، اسلامی رسم و رواج اور عقائدکے مطابق زندگی گزارنے کی مکمل آزادی ہو گی ۔وائے ناکامی 68 برس بیت گئے مگر قیام پاکستان کے محرکات اور مقاصد بہت سے حوالوں سے پورے نہیں ہو سکے اور حالات یہ ہو چکے ہیں کہ
ہم کو تو میسر ہی نہیں مٹی کا دیا بھی
گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن
ورثے میں ملی ہے انھیں مسند ارشاد
زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن
جانثاران وطن کی وفات کے فوراً بعد سے ہی پاکستان کواندرونی مشکلات اور مفادات پرستوں نے گھیر لیا اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ نومبر 1949میں لاہور میں منعقد ہونے والی ترقی پسند مصنفین کانفرنس میں پیش کیا گیا منشور کچھ یوں تھا کہ :’’پاکستان کو وجود میں آئے دو سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا مگر اس عرصے کے دوران ہمارے حکمرانوں کے تمام دعوؤں اور وعدوں کے باوجود پاکستان کی حالت خراب ہو رہی ہے ،پیداوار گھٹ رہی ہے ،معیار زندگی تنزلی کی طرف گامزن ہے ،بے روزگاری ،مفلسی اور بیماری بڑھ رہی ہے ،آمدنی کم ہو رہی ہے ،مادی زبوں حالی کے بعد تہذیب کے چشمے بھی سوکھ رہے ہیں ،البتہ سرمایہ داروں ،جاگیر داروں اور غیر تخلیقی عناصر کی لوٹ کھسوٹ میں اضافہ ہو تا جا رہا ہے ۔‘‘یعنی جو حالات کی نقشہ گری66 برس پہلے کی گئی تھی اس سے بھی بد ترین نقشہ گری اب کی جاسکتی ہے کیونکہ رفتہ رفتہ حالات زبوں حالی کی طرف جا رہے ہیں،ملک مقروض اور سیاسی بیوروکریٹ افراد متمول ہو رہے ہیں ۔ وطن عزیز سیاسی اشرافیہ کے بھنور میں پھنس کر آج اپنی سالمیت اور خود داری بھی داؤ پر لگا چکا ہے ۔جبتک کوئی معاملہ یا واردات میڈیا کی زینت نہ بنے اس وقت تک حکومت اور ادارے حرکت میں نہیں آتے مگر بسا اوقات بالآخر نتیجہ بر خلاف حقائق ہی سامنے آتا ہے جو مقدس اداروں پر ایک سوالیہ نشان چھوڑ جاتا ہے ۔افسوس قوم موجود ہے مگر قومیت مفقود ہے جبکہ قائد اعظم ؒ کے دست راست لیاقت علی خان نے قانون ساز اسمبلی سے 4مارچ 1948کو اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’پاکستان میں اسلامی حکومت ہوگی ‘‘ ۔مزید برآں یہی کہا جا تا رہا کہ حقیقی جمہوری نظام ہوگا مگراس بات پر زور دیا گیا کہ بچوں کو جمہوریت کا سبق دینے سے پہلے لباس اور خوراک دینا ضروری ہے مگر زندگی آج بھی بے لباس ہے جو چیتھڑوں میں لپٹی فاقہ زدگی میں جگہ جگہ سسکتی نظر آرہی ہے مگر ۔۔ملک میں جمہوریت کا راگ آلاپا جا رہا ہے ہر کوئی اسے ہی بچانے اور پار لگانے کی فکر میں غلطاں نظر آتا ہے اوراسلامی جمہوری ریاست کا تصور تو ویسے ہی ناپید ہو چکا ہے یہاں تک کہ اس کو پامال کرنے والے آج خود کہہ اٹھے ہیں کہ
تقاضا کر رہا ہے اب وطن کا ہر گلی کوچہ
یہاں جاری کسی صورت نظام مصطفی کر دو
آج خرد کا نام جنوں اور جنوں کا نام خرد پڑ چکا ہے، اجتماعی صورت حال انتہائی تشویشناک ہے اور سب سے زیادہ افسوسناک قومی احساس زیاں کی موت ہے آج اس پرچم تلے ۴ مسلمان بھی صرف اس وقت ساتھ چلتے ہیں جب پانچواں کندھوں پر ہوتا ہے ورنہ کوئی کسی کا ہمدرد نہیں،بھائی چارہ ،امن و آشتی ایسی سب باتیں کتابی بن چکی ہیں ،لوٹ کھسوٹ ،مفاد پرستی نے اکثر علماء کرام کو بھی جنسِ تجارت بنا دیا ہے ،حکمران نشۂ اقتدار میں مست مئے پندار ہیں اور عوام ان سے بیزار ہیں ،سیاسی حوالے سے آج تک کوئی بھی اتفاق رائے نہیں ہو سکا ،کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ہماری سیاست چند لمحوں بعد کیا رخ اختیا ر کرے گی ،یہی وجہ ہے کہ بغاوت نے بھی دہشت کے روپ میں سر اٹھا لیا ہے جس کی زد میں معصوم اور بے گناہ جان کی بازی ہار رہے ہیں ،انسانیت بلک رہی ہے اور معصومیت حسر ت و یاسیست کی تصویر بن چکی ہے کیا یہ وہی پاکستان ہے جس کا خواب قائد ملت اور مصور پاکستان نے دیکھا تھا ؟ کیا صوبائی تعصب کی لعنت کو ختم کر دیا گیا ہے ؟کیا تعلیم ،صحت ،زراعت اور صنعت کو مکمل طور پر فوکس کیا جا رہا ہے ؟کیا پاکستان میں آباد تمام اقلیتوں کے ساتھ مساویانہ سلوک ہو رپا ہے ؟کیا خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود اور حقوق پر پوری توجہ دی جا رہی ہے ؟کیا مختلف اعلیٰ ادارے صرف سفید ہاتھی ہیں یا کہ کوئی فعال کردار ادا کر رہے ہیں ؟کیا قانون اور انصاف کے تقاضے پورے کئے جا رہے ہیں ؟کیا عوام کو فوری انصاف مفت فراہم کیا جا رہا ہے ؟کیا یہ وہی اسلامی ریاست ہے جس کے لیے آزاد وطن حاصل کیا گیا تھا ؟ کیا یہ وہی سرزمین ہے جس کے لیے لہو کی ندیاں بہائیں گئیں تاکہ آنے والی نسلیں امن و آشتی اور غلامی کے طوق سے آزاد ہوں ؟ کیا یہ وہی حکمران ہیں اور کیا یہ وہی قوانین ہیں جن کے لیے یہ آزادی کی جنگ لڑی گئی تھی ؟
آج وقت متقاضی ہے کہ ہم سب اپنا محاسبہ کریں ،ہمیں دیکھنا ہوگا کہ گذشتہ اڑسٹھ برس میں ہم نے کیا کھویا کیا پایا ؟اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان کے چھیاسٹھ برس کشمکش و انتشار سے دھندلا رہے ہیں جس میں ایک طرف افسر شاہی اور سیاسی خاندان اور دوسری طرف فرقہ پرست اور مذہبی قوتیں ایک دوسرے کو زیر و زبر کرنے میں مصروف ہیں اور اسی انتشار و افراتفری کی وجہ سے پاکستان نہ تو صریحاً جمہوری مملکت بن سکا اور نہ ہی ڈکٹیٹر شب کو فروغ حاصل ہو سکا ،قانون کی بالا دستی اور ریاستی اداروں پر عدم اعتماد مسلسل بڑھتا گیا اور سول سوسائٹی کو بھی سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑارہا ہے اس سے صرف عوام متاثر نہیں ہو رہے سبھی بلکہ موجودہ حالات سے سبھی پریشان ہیں ،بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں پرخلوص حکمت عملیوں کا فقدان ہے جبکہ کمزور اغراض پر مبنی اور کاغذی وقت ٹپاؤ منصوبہ بندیاں اس کی بنیادوں کو کھوکھلا کرتی جا رہی ہیں اور ہم خاموش صفحات کالے کرتے جا رہے ہیں یا بیانات داغے جا رہے ہیں جبکہ ہمارے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ ہمارے بعد آزاد ہونے والی ریاستیں آج دنیا میں اہم مقام پا چکی ہیں مگر ہم جہاں سے چلے تھے وہیں پر ہیں ۔مگر ۔۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمیں اپنا وطن جان سے بڑھ کر عزیز ہے اور ہمیں اس پر فخر ہے !
یہاں سانس لینا بھی مشکل ہے لیکن
غزل پھر بھی نازاں ہے اپنے وطن پر !۔
ہم اس کشت ویراں سے نا امید نہیں ،کیوں کہ اقبال کا شاہین آج بھی زندہ ہے،بے شک کرگس اس کے پر کاٹنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں ،مگر جزبہ حب الوطنی کا عالم یہ ہے کہ جب بھی کبھی دشمن نے للکارا ،اس نے منہ کی کھائی ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ مقاصد پاکستان کے حصول لیے ہم سب اٹھ کھڑے ہوں اور تہیہ کر لیں کہ وطن عزیز کو ناپاک ارادوں اورمفاد پرستوں سے پاک کر کے دم لیں گے ۔مگر اس کے لیے ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد قائم کرنا ہوگا ،زبان ،رنگ و نسل سے بالا تر ہو کر سوچنا ہوگا ،منافقت اور مفاد پرستی کو بھلا کر اسوۂ حسنہ پر عمل پیرا ہونا ہو گا ،ہمیں ایک پرچم کے تقدس میں یک جان ہونا ہوگا۔ ہمیں اسے ان راہوں پر گامزن کرنا ہوگا جس سے یہ دنیا میں ایک مستحکم اور کامیاب ریاست کے طور پر مانا جائے ،بلاشبہ آج روح قائد بے چین ہے مگر نا امید نہیں کیونکہ یہ میرے قائد کا ہی فرمان ہے کہ مسلمان مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتے اور ہم وہ قوم ہیں جب نعرہ تکبیر بلند کر کے قدم اٹھاتے ہیں توہمارے نیک ارادے کے سامنے بلند و بالا پہاڑ بھی ریت کی دیوار بن جاتے ہیں ،ہمارے اوپراللہ کا سایہ ہے ،ہمارے دلوں میں قرآن ہے اورنبی پاکؐ کا اسوۂ حسنہ ہماری راہنمائی کے لیے موجود ہے ،تو کیا ڈر ہے جو رات ہے اندھیری ،اس کی صبح تابناک ضرور ہوگی کیونکہ ہر طرف سے ہر طرح کی تنقید کے نتیجہ میں ہمارے حکمران اور پاک آرمی ملکر کو شاں ہو چکی ہے ،اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک آرمی کی کوشش ہے کہ اپنے تین سالوں میں کم ازکم تیس سال کا گند صاف کر دے کیونکہ یہی وقت کا تقاضا ہے اور یہ نوشتۂ دیوار ہے کہ
There is no power who can Undo Pakistan!!!
پاکستان زندہ باد ۔۔پاکستان پائندہ باد










Leave a Reply