زندگی کی دوڑ میں کامیابی کی جستجو ۔۔۔۔ تحریر: محمد صدیق مدنی

Mohammad Siddiq Madni

ہمیشہ وہی افراد تاریخ کے جھروکوں میں زندہ رہتے ہیں جو اپنا آج کل کے لیے محفوظ بنا لیتے ہیں کیونکہ وقت گذرتے وقت نہیں لگتااور اکثر ہم پرانی یادوں کو جب یاد کرتے ہیں تو یہی کہتے ہیں کہ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ہم سکول جاتے تھے اور پھر وہ سکول کا زمانہ ہماری آنکھوں میں ایک فلم طرح گذر جاتا ہے کالج کے زمانہ کو یاد کرتے ہیں تو پھر کچھ اور ہی طرح کی یادیں دل ودماغ کو روشن کرکے گذر جاتی ہے اور جب یونیورسٹی کا سنہرا زمانہ آنکھوں کے سامنے آتا ہے تو پورے جسم میں ایک عجیب سے سرشاری اور خمار سا چھا جاتا ہے جس کے سحر سے نکلنا مشکل ہوجاتا ہے مگر یادوں کی یہ حسین گھڑی بھی آخر کار گذر ہی جاتی ہے اور ہم پھر سے اپنی موجودہ دنیا میں لوٹ آتے ہیں اس دنیا میں بے شمار لوگ آئے اپنی زندگی گذاری اور پھر مٹی میں مل گئے مگرجنہوں نے انسانیت کی خدمت کی اپنی زندگی کو ایک مقصد کے تحت گذارا وہ تاریخ کے اوراق میں آج بھی زندہ ہیں ہم میں سے اکثر لوگ حالات کاگلہ شکوہ کرتے ہی نظر آتے ہیں اور ان میں سے بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو خود سے بھی بے زار ہی رہتے ہیں انسان کو اللہ تعالی نے اشرف المخلوقات بنایا ہے وہ اگر کرنا چاہے تو بہت کچھ کرسکتا ہے نیک نیتی اور جدوجہد سے معاشرہ میں ایک اچھا مقام حاصل کرسکتا ہے مگر اس کے لیے سب سے پہلی شرط ایمانداری ہے اور یہی راستہ کامیابی کا ہے جو ہمیں اپنی منزل تک پہنچا سکا ہے اللہ تعالی نے ہر انسان کو بااختیار پیدا کیا ہے بے شمار نعمتیں ہمارے لیے ہیں اور اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود ہم معاشرہ میں اپنا مقام نہ بنا سکیں تو پھر ہمیں تنہائی میں بیٹھ کر اپنا احتساب کرکے یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ ہم میں کیا کمی ہے کیوں زندگی کی دوڑ میں ہم پیچھے کو بھاگ رہے ہیں اور جو ہم سے آگے نکل گئے ان میں کیا خوبیاں ہیں ایک بات جو ہم سب کو زہن نشین کرلینی چاہیے کہ حالات بھی انسان کا ساتھ اس قت دیتے ہیں جب خود ہمارے اندر آگے بڑھنے کی سچی لگن ہوگی اور ایمانداری ہمارے اندر ہو ہم کسی کی ٹانگ کھینچ کر اوپر چھڑنے کی کوشش نہ کریں ایک دوسرے کے ساتھ مخلص رہیں صرف دکھاوے کے لیے بلکہ اپنے اندر کی پاکیزگی کو قائم رکھنے کے لیے ہم اپنے اندر برداشت کو جنم دیں انتقام انسان کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کردیتا ہے اسکی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین کر اسے ناکارہ کردیتا ہے اور جو انسان اپنے اندر دوسروں کو پروان چڑھانے کا جذبہ رکھتا ہواور زندگی کی دوڑ میں کامیابی کی جستجو رکھتا ہوتو پھر حالات خود بخود اسکے حق میں ہونا شروع ہوجاتے ہیں پھر اسکے راستے کا تعین قدرت خود کرتی ہے اور جس معاشرہ میں ایسے افراد موجود ہوں پھر ووہ شہر مثالی بن جاتا ہے اور وہ ملک قابل مثال بن جاتا ہے اور ایسے لوگ دنیا میں جہاں بھی چلے جائیں وہاں وہ سرکے تاج سمجھے جاتے ہیں اور وہی لوگ کتابوں میں ہمیشہ کے لیے زندہ ہو جاتے ہیں مگر اس کے لیے پہلی شرط ایمانداری ہے مگر ہم نے اسی چیز سے پیچھا چھڑوا لیا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم حالات کا رونا رو کر اپنی بربادی خود پیدا کررہے ہیں اور آجتک چور بازاری اور لوٹ مار سے کوئی انسان خوش نہیں رہا اگر وہ کسی کے ساتھ فراڈ کررہا ہے تو وہ اپنے ساتھ ہی فراڈ کررہا ہے اس لیے انسان کو اپنے آپ سے مخلص رہتے ہوئے دوسروں کے ساتھ بھی وہی رویہ رکھنا چاہیے تب کامیابیاں اسکی راہ میں ہاتھ باندھے کھڑی ہوتی ہیں انسان کی زندگی بہت مختصر ہے اور پھر کسی کو اپنی موت کا بھی معلوم نہیں کہ کب اور کہاں اسکا مقدر بن جائے گی اور اسکے باوجود ہم نے منصوبہ بندی ایسے کی ہوتی ہے جیسے ہم نے اس دنیا سے جانا ہی نہیں ہے اور اسی لیے جب موت آتی ہے تو بہت سے کام ادھورے ہی رہ جاتے ہیں جو پھر کبھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پاتے اس لیے ہم اپنے ہر دن کو غنیمت اور آخری جانیں اپنی سابقہ زندگی پر ایک نظر دوڑائیں اپنی خامیاں اور کوتاہیاں اپنے سامنے لائیں اورانکو اپنی بری حرکتوں سمیت ایک گڑھا کھود کر اس میں دبا دیں ۔ محمدصدیق مدنی کا کہنا ہے کہ اپنے اردگرد لوگوں پر نظر دوڑائیں کامیاب اور مثالی زندگی گذارنے والوں کی خوبیاں نوٹ کریں اور پھر انہیں اپنے اندر سمیٹ لیں اپنے راستے کا تعین کریں اور پھر ایک بار پوری ایمانداری کے ساتھ اس پر چل پڑیں آپ کو ایسے محسوس ہوگا کہ جیسے مشکلات کا یک پہاڑ آپ کے سامنے کھڑا ہے مگر ہمت اور حوصلے سے آپ اس پہاڑ کو عبور کرنا شروع کردیں اسکے بعد پھر کامیابیاں آپ کے ساتھ ساتھ چلنا شروع ہو جائیں گی آپ ثابت قدم رہے تو پر آپ کے ساتھ چلنے والی وہی کامیابیاں آپ کے قدم چوم لیں گی اسکے بعد آپ ہمیشہ کے لیے زندہ ہوگئے مرنے کے بعد بھی آپ کی تاریخ کے جھرکوں سے باہر جھانکتے رہیں گے اور لوگ آپ کی کامیابی کے قصے سنایا کریں گے مگر شرط صرف ایمانداری ہے کیونکہ یہی کامیابی کا راز ہے۔
آپ ثابت قدم رہے تو پر آپ کے ساتھ چلنے والی وہی کامیابیاں آپ کے قدم چوم لیں گی اسکے بعد آپ ہمیشہ کے لیے زندہ ہوگئے مرنے کے بعد بھی آپ کی تاریخ کے جھرکوں سے باہر جھانکتے رہیں گے۔

Short URL: http://tinyurl.com/j9ld2lx
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *