راکھ میں چنگاری

تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
اُ س کے منہ سے نکلا ہوا جملہ کریکر کی طرح پھٹا اور میرے خوابیدہ اعصاب کو بیدار کر تا چلا گیا ‘ میری رات کی سستی مکمل بیداری میں ڈھل گئی میں نے بے چینی سے اُس کی طرف دیکھا میری حیرت اور سوالیہ نظروں کو بھانپ کر میرے سامنے بیٹھی نرم و نازک ‘دھان پان سی لڑکی دوبارہ بو لی ہاں سر آپ نے ٹھیک سنا میں واقعی کسی کو قتل کر نا چاہتی ہوں لیکن میں بچپن سے ایک فقرہ سنتی آرہی ہوں کہ کسی ایک انسان کی موت پو ری انسانیت کی مو ت ہے لیکن سر اگر حالات اِس سطح پر آجائیں کہ ایک طرف آپ کی مو ت یقینی ہو تو کیا جو آپ کی مو ت کا سبب بننے جارہا ہو آپ اُسے قتل کر کے اپنی زندگی بچا نہیں سکتے یا ظلم جبر کو سہنا ضروری ہے کسی طاقتور کو ظلم سے روکنا جائز نہیں ہے سر میرے پاس اُسے قتل کر نے کے علا وہ کو ئی بھی راستہ نہیں ہے مجھے میرے حالات اوراُس کی ستم ظریفی اِس مقام پر لے آئی ہے کہ میرے ہا تھ کسی کے خون سے رنگے جائیں سر دیکھیں کیا میر ے ہاتھ میں کسی کا قتل کر نے کی لکیرہے یہ کہہ کر اُس نے اپنے دونوں نازک ہاتھ میرے سامنے پھیلا دئیے مجھے وہ جس حیرت سے دو چار کر چکی تھی میں آہستہ آہستہ اُس کے اثر سے نکل رہا تھا ‘ میرے اعصاب دل و دماغ شدید صورتحال کے بعد اب نارمل ہو رہے تھے میں جب قدرے نارمل ہوا تو میں نے سامنے پھیلے ہو ئے اُس کے دونوں ہاتھوں پر سرسری سی نگاہ ڈالی اور اُسے سر سے پاؤں تک بغور دیکھا پانچ فٹ چند انچ کی مالک کمزور نحیف سی عام شکل و صورت کی لڑکی میرے سامنے بیٹھ کر وہ بات کر رہی تھی جس کے تصور سے ہی قدآور ہا تھی جیسے انسانوں کی جان نکل جاتی ہے جس کے تصور سے ہی دیو ہیکل انسانوں کی سانسیں تھم جاتی ہیں ‘ بڑے سے بڑا بندہ ‘ طاقت ور سے طاقت ور انسان خواب میں بھی کسی کو قتل کر تا دیکھ لے تو پسینے میں شرابور ہو کر اٹھ جا تا ہے قتل کر نے والا خواب پھر کئی دن اس کا پیچھا کر تا ہے بڑے جگر والے کسی کا بہتا ہوا خون دیکھ لے وہاں سے کھسک جاتے ہیں کسی زخمی کو دیکھ کر کتنے دن نیند سے کوسوں دور ہو جاتے ہیں خواب آور گولیاں کھا کر اپنی نیند کے شیڈول کو نارمل کر تے ہیں قتل کر نے کے صرف خواب سے ہی بڑے بڑوں کے پتے پانی ہو جاتے ہیں اُن کے مقابلے میں عام کمزور سی لڑکی کتنے آرام سے کہہ رہی تھی کہ وہ کسی کو واقعی قتل کر نا چاہتی ہے ۔اُس کے چہرے پر مضبوط چٹانوں کی سختی بتا رہی تھی کہ وہ جو کہہ رہی ہے وہ کر نا بھی چا ہتی ہے ‘ حیرت اِس بات کی تھی ایسی بچیاں تو کمرے میں چھپکلی دیکھ لیں تو گھنٹوں کمرے کے باہر کسی کا انتظار کرتی ہیں کہ کو ئی آکر اُس چھپکلی کو مارے یا باہر نکالے ایسی بچیاں تو کسی ڈرامے یا فلم کا دکھی منظر دیکھ کر کھانا پینا بھول جا تی ہیں کسی کی اداکاری پر دھاڑیں مار کر رونا شروع کر دیتی ہیں کسی افسانے یا ٹریجڈی ناول کو پڑھ کر کتنے دنوں سو گواری کی چادر میں لپٹی رہتی ہیں جو دوست کا دوسرے سیکشن پر تبادلہ نہ بر داشت کر سکتی ہو ں آخر کیا ہوا کون سے حالات تھے کہ تتلی جیسی نرم و نازک سی لڑکی قتل جیسے عمل پر تیار نظر آرہی تھی اب میں اُسے شفیق نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔ کو ئی غم امر بیل کی طرح اُسے چاٹ رہا تھا وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بنی میرے سامنے بیٹھی تھی اُس کی آنکھوں میں قبرستانوں کا سناٹا تھا اور ویران جگہوں کی ویرانی تھی اُس کے سرسوں جیسے چہرے پر کربلا سی اداسی ویرانی تھی اُس کا لرزتا کانپتا جسم بے نور آنکھیں کسی بڑے ظلم کی عکاسی کر رہی تھیں اُس کی سو جی آنکھیں کئی رت جگوں کی کہانی سنا رہی تھیں پتہ نہیں وہ غم کے کتنے دریا ‘ درد کے کتنے سلگتے صحرا ‘ کرب کی کتنی نو کیلی چٹانوں پر ننگے پاؤں چل کر زخمی روح اور پاؤں لے کر میرے پاس آئی تھی اُس کی رگوں میں خون کی جگہ خوف کرب دکھ بے بسی لاچارگی دوڑ رہی تھی وہ چلتی پھرتی لاش تھی جو اِدھر اُدھر پھر رہی تھی ۔ اُس نے سلگتی نظروں سے میری طرف دیکھا اور بو لی سر خدا ظالم یا مظلوم کس کے ساتھ ہے میں نے کہا خدا یقیناًمظلوم کے ساتھ ہے اب و ہ سرد لہجے میں بو لی میں خدا تک کیسے جاؤں وہ میری بات کیسے سنے گا ۔ کیونکہ میں پچھلے کئی دنوں سے ظالم کے ہاتھ سے بچنے کی کو شش کر رہی ہوں لیکن نہ تو خدا اور نہ ہی یہ مردہ معاشرہ اُسے روک رہا ہے سر کیا ہم ہڑپہ یا مو ہنجودوڑو کے کھنڈرات میں سانس لے رہے ہیں کیا یہ شہر زندہ انسانوں کی بجائے درندوں کا شہر بن چکا ہے کیا یہ شہر راکھ کا ڈھیر ہے جس میں ہر چیز جل کر خاکستر ہو چکی ہے کیا میں کو فے میں زندہ ہوں جہاں ہر شخص نے اپنے کان بند کر رکھے ہیں کیا ہر دور میں عورت زینب کی طرح بے یارومدد گار ہی پکارتی رہے گی اُس کی درد کر ب آہوں سسکیوں میں لپٹی آواز میری سماعت میں شگاف ڈال رہی تھی اُس کی آواز گرم تیل کی طرح میری سما عت کو جھلسا رہی تھی اُس کی آواز کے سوگ میں سارا ما حول ہی دکھی لگ رہا تھا وہ بتا رہی تھی کہ وہ ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی بچپن میں ہی والد کا شفیق سایہ سر سے اُٹھ گیا تو ماں نے باپ بن کر پالا جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو ماں جیسی نورانی ہستی بھی مجھے بانجھ مر دہ معاشرے کے رحم و کرم پر چھو ڑ گئی ہم پنجاب کے چھوٹے سے شہر میں رہتے تھے وہاں پر اور ہما را کو ئی رشتہ دار نہیں تھا ماموں آئے کاغذات پر مجھ سے دستخط کروا کر مکان بیچا پیسے اپنے اکاؤنٹ میں جمع کروائے اور مجھے لے کر لاہور آگیا ۔ میں ماں کی جدائی کے صدمے سے ابھی سنبھلی نہیں تھی کہ مجھے ماموں کی آنکھوں میں شکار پر جھپٹنے والی چمک نظر آنی شروع ہو گئی پہلے تو میں اِسے اپنا وہم سمجھی لیکن گزرتے دنوں کے ساتھ میرا وہم یقین میں بدلتا چلا گیا کہ میرا سگا ماموں مجھے حریص گندی نظروں سے دیکھتا تھا مجھے سر سے پاؤں تک جس طرح وہ گھورتا پھر ایک رات جس طرح وہ میرے پاس آکر کھڑا تھا بار بار مجھے ہاتھ لگا نے کی کوشش پھر بیوی کے خو ف اورمیرے شور مچانے کے خوف سے رک جاتا پھر ایک دن جب مامی اپنے والدین سے ملنے گئی تو ماموں جنسی درندہ بن کر مجھ پر حملہ آور ہوا میں ماموں کو دھکا دے کر باہر نکلی ماموں کو گرتے ہو ئے چوٹ لگ گئی خدا نے میری مدد کی میں گلی میں کھلے دروازے کے اندر چلی گئی جہاں دو بو ڑھے میاں بیوی رہتے تھے میں جاتے ہی ساری بات بتا ئی اِسی دوران میرا ماموں میری تلاش میں اِدھر بھی آیا لیکن گھر والوں نے کہا وہ یہاں نہیں آئی ‘ اگلے ہی دن انہوں نے مجھے اپنے کسی جاننے والے کے سکول میں ٹیچر کی نو کری دلا دی اب میں ایک ہاسٹل میں رہتی تھی چند مہینے آرام سے گزرے پھر کسی دن بازار میں ماموں نے مجھے دیکھ لیا تو میرا پیچھا کر تے ہو ئے میرے سکول آگیا اب اُس نے اصرار کر نا شروع کیا کہ تم میرے ساتھ میرے گھر چلو یہاں تم عیا شی کے لیے آئی ہو تمہارے لڑکوں کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں اِس لیے تم گھر سے کسی عاشق کے ساتھ بھا گی ہو اگرزندگی چاہتی ہو تو میرے ساتھ گھر چلو میں جان چھڑانے کے لیے کہا اِس مہینے کے اختتام کے بعد آپ کی طرف آجاؤں گی پچھلے چند دنوں سے میں نو کری کی تلاش میں بہت سے دفتر وں کے چکر لگا رہی ہوں لیکن نو کر ی تو کسی نے نہ دی البتہ جسم کے گاہک ہر جگہ کوٹ ٹائی لگا کر بیٹھے تھے ‘ ہرکسی نے میری مجبو ری نہ دیکھی جوانی دیکھی اور عورت ذات اب یا تو میرا ماموں مجھے برباد کر ے گا یا میں اُسے قتل کروں گی اُس کی باتیں سن کر میں شرم سے گردن جھکا ئے بیٹھاتھا ‘ معا شرے کے ہر گلی محلے میں فرعونوں کا قبضہ ہو چکا ہے جہاں کو ئی مظلوم لاچار نظر آیا یہ فرعون نمرود اُس پر حملہ آور ہو کر اپنی جنسی خواہش پو ری کر تے ہیں وطن عزیز کا ہر شہر راکھ کا ڈھیر بن چکا ہے مجھے پتہ تھا پو لیس عدالتیں اِس کی رسوائی کا باعث بنیں گی اِس لیے شہر کے طاقتور آدمی جو کسی دور میں بد معاش بھی رہ چکا تھا اُس سے جا کر ساری بات کی اُس نے ماموں کو بلا یا اور کہا کل شام سے پہلے اِس بیٹی کے پیسے واپس کرو اور آج کے بعد اگر کبھی اِس طرف میلی نظر سے دیکھا تو تمہا رے گھر والوں کو اٹھا کہ چو ہڑوں کے آگے ڈال دوں گا۔ دھمکی کام کر گئی اگلے ہی دن لڑکی کے پیسے دے گیا اور وعدہ کیا کہ کبھی بھی لڑکی کی طرف نہیں آئے گا ۔ یہ بچی تو بچ گئی لیکن وطن عزیز میں روزانہ پتہ نہیں کتنی بچیاں ظلم و جبر کی سیخ پر پرو کر انگاروں پر رکھ دی جاتی ہیں ہم اِس بانجھ معاشرے کے باسی ہیں جن کے ضمیر مر چکے ہیں آئیں ہم اپنے ضمیر ‘احساس اچھا ئی ‘خدمت خلق ‘ایثار ‘قربانی کو کسی اندھی قبر میں دفن کر دیں کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ حق تعالیٰ ہم جیسے ظالموں نمرودوں فرعون کو جو اپنی نعمتیں دے رہا ہے یہ کہیں چھین نہ لے کہ تم اِن نعمتوں کے لائق نہیں ہو معصوم لڑکی جیسی راکھ میں دبی چنگاریاں کب آگ کے شعلوں کا روپ دھار کر ہما رے شہروں کو کھنڈرات میں نہ بدل دیں ایک دن آئے گا جب ایسی معصوم لڑکیوں کی بد دعائیں ہمارے شہروں کو ہڑپہ مو ہنجودوڑو بنا دیں گی ۔










Leave a Reply