تعلیم سے تبدیلی۔۔۔۔ تحریر: شاہد اقبال شامی

Shahid Iqbal Shami

انسان اور اقوام عالم نے طاقت تین طرح سے حاصل کی،سب سے پہلے جسمانی طاقت تھی جس نے وقت کے ساتھ اسلحے کی طاقت اورایٹمی طاقت کا اندازاختیار کیا،دوسری دولت کی طاقت جس کے بل پر سب کچھ حاصل کیا جاسکتا تھا،تیسری علم کی طاقت جس کے بل پر کبھی ایک تہذیب نے عروج حاصل کیا اور کبھی دوسری نے ….آج مغربی تہذیب کا بول بالا ہے اور مسلمانوں پر زوال آگیا ہے۔اسلام نے علم حاصل کرنے کی جتنی تلقین کی،اتنی کسی اور مذہب نے نہیں کی،اس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید کی پہلی وحی کا جو نزول ہوتا ہے اس کی پہلی پانچ آیات کا تعلق لکھنے پڑھنے سے ہے۔اس کے علاوہ اللہ کے آخری نبی حضرت محمدﷺ نے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعداپنے پیچھے جائیداد،روپیہ پیسہ اور زمینیں نہیں چھوڑی،بلکہ علم کو چھوڑااور فرمایا!\” انبیاء کے وارث علماء ہیں\”آپ نے وارث اپنے عزیزواقارب اور اولاد کو نہ بنا یابلکہ علم والوں کو بنایا،آپ کے بعد آپ کے اصحابؓ نے بھی علم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھااور خلفاء کے قریب وہی زیادہ عزت ومرتبہ کے قابل سمجھا جاتا جس کے پاس علم کی دولت ہوتی۔
مسلمانوں نے جب تک علم سے دوستی رکھی،دنیا کے تخت وتاج اس کے قدموں تلے رہے اور جب مسلمانوں نے علم کو چھوڑاتو دنیا کے سامنے رسوا ہو گئے۔ہماری پستی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ! ہم نے اپنے آباء سے جوعلم کی میراث پائی تھی وہ ہم نے کھو دی ،جب تک ہم اس میراث کے امین تھے،تو ہمارے ہاں بوعلی سینا،ابوبکر رازی،البیرونی،محمد موسیٰ الخوارزمی اور جابر بن حیان جیسی عظیم ہستیاں جنم لیتی رہیں،یورپ اورمغرب کے طلباء ہماری درس گاہوں میں آکر فیض پاتے رہے۔
جس وقت دنیا بھر میں جہالت کی تاریکی چھائی ہوئی تھی،اس وقت صرف مسلمان علم وآگہی کا نور پھیلاتے رہے،آج بھی اگر کسی بھی علم کی تاریخ کو اٹھا کر دیکھا جائے تو اس کے آغاز سے پھوٹتی تحقیق پر مسلمان کاہی نام نظر آئے گا،ابن الہیثم کی ریاضی سے لے کر بوعلی سینا کی طب تک کوئی ایسا میدان نظر نہیں آتا جس میں مسلمانوں نے اپنی کارگردگی نہ دکھائی ہو،حتیٰ کہ روشنی کی رفتار سے لے کرانعکاس اور انعطاف نور تک،نظریہ دوران خون،انسانی اعضاء کے آپریشن،آلات جراحی تک،آنکھ کی ساخت سے لے کر طبعی ترازو تک،کثافت اشیاء سے چشموں کے بہنے اور قطب نما سے لے کر موسیقی کی سروں تک،عمل تقطیر،عمل کشید،شورے کا تیزاب،گندھک کا تیزاب،نمک کا تیزاب ،دھاتوں کے بننے کا نظریہ،سونے اور چاندی کا محلول،ریاضی میں اکائی کا قاعدہ،جذر،الجبرا،جیومیٹری،مساوات،طریقہ کار،جمع،تفریق،ضرب،تقسیم اور اس کے علاوہ کیلنڈر بھی ایک مسلمان عمر خیام نے بنایا۔
یہ سب کچھ مسلمانوں نے ایجاد کیا،جس سے آج دنیا مستفید ہو رہی ہے ،اور دوسری قوموں پر حکمرانی کر رہی ہے،تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ بنانے والی قوم اس وقت کیوں کسمپرسی کی زندگی کیوں گزار رہی ہے؟پوری دنیا میں صرف اس ہی پر کیوں مشکلات آئی ہوئی ہیں؟ اگر دنیا کے ابتدا سے لے کر اب تک کی تاریخ میں نظر دوڑائی جائے تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ آج تک جس بھی قوم نے علم کو اپنا زیور سمجھا وہ ترقی کی اوج ثریا پر جا بیٹھی اور باقی دنیا اس کے قدموں تلے آگئی۔
ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں ،جہاں ہر طرف انانیت ،دھوکہ دہی کا دوردورہ ہے ،ہر شخص اپنی فکر میں مشغول ہے اور حکومت غیر قوموں کے در پر ہاتھ پھیلائے کھڑی ہے،صرف اپنی فکر میں مگن ہے،ملکی وسائل اور ذرائع ابلاغ فحاشی وعریانی اور مغربیت کے پرچار میں مصروف ہیں۔ان حالات میں نسل نو خصوصی توجہ کی مستحق ہے،وہ نوجوان جن پر ہمارے ملک کا انحصار ہے،ہماری امیدوں،امنگوں اور تمناؤں کا مرکز ہیں اگر یونہی بے سہارا چھوڑ دیے گئے تو مبادا ساراتابناک مستقبل تاریک نہ ہو جائے،نسل نو کی اصل تربیت گاہ تعلیمی ادارے ہوا کرتے ہیں لیکن ان اداروں سے کیا تواقعات وابستہ کی جاسکتی ہیں ،جہاں تعلیمی نصاب فرسودہ،بے مقصد اور مغربی نظریات کا آئینہ دار ہو،نظام تعلیم میں جدت پسندی کے نام پر لامقصدیت کی تاریک راہوں پر گامزن ہو؟ہر ملک وقوم کی ترقی کا دارومدار اس کی تعلیم پر ہوتا ہے،اگر اس کی قوم تعلیم یافتہ ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کی ترقی کے راستے میں حائل نہیں ہو سکتی،ترقی یافتہ ممالک میں جو بنیادی بات دیکھنے میں آئی ہے،وہ ڈسپلن اور قانون کی حکمرانی ہے ، جو کہ تعلیم کے بغیر ممکن نہیں۔
جنوبی ایشیاء میں برطانوی تعلیمی پالیسی کا بانی چارلز گرانٹ تھا،وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا ملازم تھا اور اپنے فرائض کی بجا آوری کیلئے بڑا نیک نام رکھتا تھا،بنگال میں اس کی زندگی کا اسلوب پہلے تو بڑا عیاشیانہ تھا لیکن بعد میں وہ عیسائی مبلغ بن گیا اور اس نے پورے ہندوستان کو عیسائی بنانے کی منصوبہ بندی کی،اس سلسلے میں اس نے برطانوی پارلیمنٹ میں1813ء کو مغربی علوم کے علاوہ عیسائیت کی تبلیغ کیلئے انگریزی زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کی قراردار منظور کرا لی۔ہم آج تک اس کی غلامی سے آزاد نہ ہوسکے ۔پاکستان کی ناکامی کی اصل وجہ اس کا گھسا پٹا نظام تعلیم ہے،آج63سال گزر جانے کے باوجود بھی پاکستان میں نظام تعلیم کے حوالے سے کوئی موثر پالیسی نہیں بنائی گئی،بلکہ آج بھی اس کے تعلیمی اداروں میں لارڈمیکالے کا نافذ کردہ تعلیمی نظام چل رہا ہے،جس وقت پاکستان بنا تھا اس وقت اس کی شرح خواندگی16%تھی اور آج63برس گزرنے کے باوجودبھی اس کی شرح خواندگی میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہ ہو سکا۔
درحقیقت یہ وقت انقلاب کا ہے اور انقلاب آ سکتا ہے تو صرف اور صرف تعلیم ہی ایک ایسا شعبہ ہے جس کے ذریعے انقلاب کا راستہ ہموار کیا جاسکتا ہے،دنیا کی تمام ترقی یافتہ قومیں تعلیم ہی سے اپنے اہم ترین مقاصد حاصل کر رہی ہیں،اگر ہمیں دنیا کا مقابلہ کرنا ہے تو تعلیم کے شعبے پر بھر پور توجہ دینا ہو گی۔دنیا کے ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور ہوتا ہے ،بلا شبہ پاکستان کا نظام تعلیم بھی کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں،جس کا کوئی حل نہ ہو،اس کا واحدحل نظام کی تبدیلی ہے،پاکستان کے نظام تعلیم کو بہتر بنانے کے لئے انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے،یہ اقدامات ناممکن اور مشکل ہر گز نہیں ہیں،مختصر سی کوششوں سے اس نظام کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔سب سے پہلے پاکستان میں طبقاتی سسٹم کو ختم کر نا ہوگا ،پورے ملک میں صرف ایک نصاب تعلیم ترتیب دینا ہو گا،اس وقت پورے ملک میں 4بڑے نظام ہائے تعلیم کام کر رہے ہیں،ان4بڑے نظام ہائے تعلیم سے مزید20نظام ہائے تعلیم برآمد ہو رہے ہیں اس طرح قوم ایک اور نظام ہائے تعلیم24ہیں،اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہے کہ ہم ایک ملک اور ایک قوم میں26قومیں تیار کر رہے ہیں۔دنیا کی کسی بھی قوم نے اپنی قومی زبان سے ہٹ کراگرکسی دوسری زبان کو ذریعہ تعلیم بنایا تو وہ کامیاب نہیں ہوئی یاد رکھیں ذہانت اور تخلیق کے سرچشمے صر ف قومی زبان میں ہی پھوٹتے ہیں۔

Short URL: http://tinyurl.com/zg3z5fa
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *