انسانیت دو راہے پرکیوں؟۔۔۔۔ محمد صدیق مدنی

اس صدی کا اس سے بڑھ کر حادثہ کوئی نہیں
آج کْرہ عرض کے انسانوں پر نظر ڈالی جائے تو صورتحال کا اندازہ یوں ہوگا کہ مشرق سے لے کر مغرب تک ملتِ اسلام اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہی ہے۔ پوری دنیا میں ناحق خونِ انسانی بے دریغ بہایا جا رہا ہے۔ ملک اور بیرونِ ملک کی ساری زمینیں انسانی خون سے لالہ زار ہو چاہتی ہے۔ میانمار (برما) ہو یا فلسطین، پڑوسی ملک ہو یا مصر، ہر طرف مظلوم لوگوں کا کوئی پْرسان حال نہیں،مصر کے تناظر میں اس تقسیم کو مزید تقویت ملتی ہے ، پورا ملک دو خیموں میں بٹا ہوا ہے۔ ایک طرف امریکی ٹولہ ہے تو دوسری جانب اسلام پسند اخوان المسلمین ہیں۔ ادھر جمہوریت کے علمبردار محمد مرسی ہیں تو اْدھر یہوید ماں کی کوکھ سے پیدا ڈکٹیٹر السیسی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اونٹ کس کروٹ جا بیٹھتا ہے۔ فی الحال تودونوں جانب کشمکش جاری ہے۔
ہم جو اشرف المخلوقات اور اْمتِ محمدیہ کا دعویٰ کرتے ہیں کئی دفعہ ہماری زندگی میں ایسے مواقع آتے ہیں کہ جب ہم کسی ظلم و زیادتی پر آواز اْٹھا کر جرم کو روکنے کی کوشش کر سکنے کے باوجود خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ سو چ کر کہ اس سے ہمیں کیا فائدہ ہوگا، میں کیوں بلا وجہ کی دشمنی اپنے سر لوں ، خاموشی سے یہ سوچ کر اپنی راہ پر چل پڑتے ہیں۔ کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ہمارے سامنے ہی ہمارے کسی بھائی یا بہن کی برائی ہو رہی ہوتی ہے یا کوئی کسی غلط فہمی کا شکار ہوکر انہیں بْرا سمجھ کر اس سے نفرت کرنے لگے اور ہم اصل حقیقت کو جانتے بوجھتے بھی بجائے اس کے کہ کدورتوں کو مٹانے کی کوشش کریں ہم یہی سوچتے ہیں کہ ہمیں اس سے کیا لینا دینا۔ اب کیا ہم ہمیشہ یہی سوچتے رہیں گے، کب ہمارے اندر انسان بسے گا، کب ہمارے اندر ہمدردی کے گیت گنگنائیں گے، کب ہمارے اندر مسکرا ہٹ کے گل کھلیں گے، یہ سب آج دن تک تو ایک سوال کی مانند ہی ہے۔ اس کا جواب کب، کہاں، اور کیسے ملے گا یہ تو وقت اور حالات ہی بتائے گا۔
حالانکہ ہم سب یہ جانتے ہیں کہ یہ زندگی عارضی اور چند روزہ ہے اس کے باوجود زیادہ سے زیادہ کی خواہش میں اپنی زندگی کا سکون ختم کر دیتے ہیں، جو خوشی اور دلی سکون و راحت ہمیں دوسروں کے لئے کچھ کرکے حاصل ہوتا ہے، اس کا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں جو دوسروں کے لئے جیتے ہیں اور جو دوسروں کی خوشیوں کی خاطر خود کو فنا کر لیتے ہیں اور جو اپنے لئے نہیں دوسروں کے دکھوں پر آنسو بہاتے ہیں۔
وقت و حالات کا تقاضہ ہے کہ انسان اپنے ضمیر کو جھنجھوڑے اور اپنا کردار اس طرح بنائے کہ دوسرے اس کو بڑا کہیں اور عزت کریں، تب کہیں وہ معاشرے میں مقبول اور ممتاز بن سکتا ہے۔خلوصِ نیت کے ساتھ ایک دوسرے کی جانب ہاتھ بڑھایئے، مصافحہ کیجئے، نمازوں میں ایک دوسرے کے ساتھ نیت باندھ کر کھڑے ہویئے، امامت کے لئے بھی اپنی اپنی مساجد میں ایک دوسرے کو مدعو کیجئے، ہماری مساجد ہمارے اتحاد کی واحد عملی گواہ ہیں۔ انتشار کے اس گئے گزرے دور میں بھی مساجد میں نمازوں کے اوقات پر ہم لاکھ دوریوں کے باوجود کاندھے سے کاندھا ملا کر جب ایک ساتھ رکوع و سجود میں جاتے ہیں تو یہ منظر ملّی اتحاد کی وہ تصویر پیش کرتی ہے جس کو ہمارے پیارے رسول ﷺ نے قائم کرکے ساری دنیا کو مساواتِ حقیقی سے روشناس کرا دیا۔ کیا دوست، کیا دشمن، کیا غریب کیا، کیا امیر اور کیا شاہ و فقیر یہاں پر سب ہی برابر و متحد نظر آتے ہیں۔
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے










Leave a Reply