ویلنٹائن ڈے ایک مغربی تہوار

M. Tariq Nouman Garrangi
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: مولانا محمدطارق نعمان گڑنگی

دینِ اسلام محبت اوراخوت کا دین ہے اسلام چاہتا ہے کہ تمام لوگ محبت،پیار اوراخوت کے ساتھ زندگی بسر کریں مگر قابل افسوس بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں محبت کوغلط رنگ دے کرمحبت کے لفظ کو بدنام کردیا گیا او ر معاشرے میں محبت کی بہت ساری غلط صورتیں پیدا ہو چکی ہیں اسکی ایک مثال عالمی سطح پر ”ویلنٹائن ڈے ”کا منایا جانا ہے ہر سال 14فروری کو عالمی یومِ محبت کیطور پر

” ویلنٹائن ڈے” کے نام سے منایا جانے والا یہ تہوار ہر سال پاکستان میں دیمک کی طر ح پھیلتا چلا جارہا ہے۔ اس د ن جوبھی جس کے ساتھ محبت کا دعوے دار ہے اسے پھولوں کا گلدستہ پیش کرتا ہے۔
اور اپنی محبت کا اظہار اس پھول کو پیش کر کے کیا جاتا ہے۔اکثر لوگوں کو علم ہی نہیں کہ ہم جو کام کر رہے ہیں کیا اس کی اجازت ہمیں ہمارا مذہب دیتا ہے،کیا یہ رسم جو ادا کی جارہی ہے یہ کن لوگوں کی ایجاد کردہ ہے تو آئیے پہلے اس کی حقیقت سے آگاہ ہو جاتے ہیں
ویلنٹائن ڈے کی حقیقت
ویلنٹائن ڈے کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، اس کی ابتدا کے لیے کئی ایک واقعات کو منسوب کیا جاتا ہے۔ جن میں ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ سترہویں صدی عیسوی میں روم میں ویلنٹائن نام کا ایک پادری ایک راہبہ کی محبت میں مبتلا ہو گیا، چوں کہ عیسائیت میں راہبوں اور راہبات کے لیے نکاح ممنوع تھا، اس لیے ایک دن ویلنٹائن نے اپنی معشوقہ کی تشفی کے لیے اسے بتایا کہ اسے خواب میں یہ بتایا گیا کہ 14فروری کا دن ایسا ہے کہ اس میں اگر کوئی راہب یا راہبہ جسمانی تعلقات بھی قائم کر لیں تو اسے گناہ نہیں سمجھا جائے گا۔ راہبہ نے اس پر یقین کر لیا اور دونوں سب کچھ کر گزرے۔ کلیسا کی روایات کی یوں دھجیاں اڑانے پر ان کا حشر وہی ہوا جو عموما ًہوا کرتا ہے۔ یعنی ان دونوں کو قتل کر دیا گیا، کچھ عرصے بعد چند لوگوں نے انہیں محبت کا شہید جان کر عقیدت کا اظہار کیا او ران کی یاد میں یہ دن منانا شروع کر دیا۔
بعض کے نزدیک یہ وہ دن ہے جب سینٹ ویلنٹائن نے روزہ رکھا تھا او رلوگوں نے اسے محبت کا دیوتا مان کر یہ دن اسی کے نام کر دیا۔ کئی شرکیہ عقائد کے حامل لوگ اسے یونانی کیوپڈ (محبت کے دیوتا)
اور وینس(حسن کی دیوی) سے موسوم کرتے ہیں، یہ لوگ کیوپڈ کو ویلنٹائن ڈے کا مرکزی کردار کہتے ہیں، جو اپنی محبت کے زہر بجھے تیر نوجوان دلوں پر چلا کر انہیں گھائل کرتا تھا۔ تاریخی شواہد کے مطابق ویلنٹائن کے آغاز کے آثار قدیم رومن تہذیب کے عروج کے زمانے سے چلے آرہے ہیں۔(پادریوں کے کرتوت:285)
اور بعض نے انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے حوالہ سے یہ بھی لکھا ہے کہ: سینٹ ویلنٹائن ڈے کو آج کل جس طرح عاشقوں کے تہوار کے طور پر منایا جارہا ہے یا ویلنٹائن کارڈ بھیجنے کی جونئی روایت چل پڑی ہے اس کا سینٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے،بلکہ اس کا تعلق یا تو رومیوں کے دیوتا لو پرکالیا کے حوالہ سے پندرہ فروری کو منائے جانے والے تہوار بارآوری یا پرندوں کے ایامِ اختلاط سے ہے۔
(ویلنٹائن ڈے، تاریخ، حقائق اور اسلام کی نظر میں:40)
ویلنٹائن ڈے کی تباہیاں
ویلنٹائن ڈے نے پاکیزہ معاشرہ کو بڑی بے دردی کے ساتھ بدامن اور داغ دار کیا ہے، اخلاقی قدروں کو تہس نہس کیا ہے،رشتوں، تعلقات اور احترام انسانیت تمام چیزوں کوپامال کیا ہے، لال گلاب اور سرخ رنگ اس کی خاص علامت ہے،پھول کی تقسیم اور اس موقع پر ویلنٹائن کارڈ کا تبادلہ بھی اظہارِ محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے، بڑے پیمانے پر اس کی تجارت ہوتی ہے اور ہوس پرست اس کو منہ بولے دام میں خریدتے ہیں۔ منچلوں کے لیے ایک مستقل تفریح کا سامان بن گیا۔ ویلنٹائن کی جھوٹی محبت کا انجام کیا ہوتا ہے اس کو مختصر جملوں میں بیان کیا ہے: عشق کا بھوت نفرت میں بدل گیا، محبت کی شادی کا درد ناک انجام، خاوند کے ہاتھوں محبوبہ کا قتل۔ عشق کی خاطر بہن نے بھائی کا قتل کر دیا۔ محبوب سمیت حوالات میں بند۔ محبت کی ناکامی پر دو بھائیوں نے خود کشی کر لی۔ محبت کی ناکامی نوجوان ٹرین کے آگے کود گیا، جسم کے دو ٹکڑے۔ ناکام عاشق نے لڑکی کو والدین، چچا او رایک بچی سمیت قتل کر ڈالا۔ یہ وہ اخباری سرخیاں ہیں جو نام نہاد محبت کی بنا پر معاشرتی المیہ بنیں اور آئے روز اخبارات کی زینت بنتی جارہی ہیں۔ (ویلنٹائن ڈے، تاریخی حقائق اور اسلام کی نظر میں:119)
قارئین کرام! یاد رکھیے ویلنٹائن ڈے کا تعلق اسلام اور مسلمانوں سے کچھ نہیں ہے۔ یہ دن مذہبی عقیدت کے حوالے سے وجود میں آیا اور رسم ورواج تحریف در تحریف کے عمل سے گزر کر مغربی عوام کی تاریخ کا ایک شرمناک باب بن گیا۔ آج کے دن نوجوانوں کو اظہارمحبت کے بہانے ان تمام نازیبا حرکات کرنے کی آزادی مل جاتی ہے جن کو وہ عام دنوں میں سر عام نہیں کر سکتے۔ لوگوں کو اپنے محبوب اورمحبوبہ کے سامنے دل کی بھڑاس اور اظہارمحبت کا موقع ملتا ہے اور ایک دوسرے سے قریب ہونے کا موقع ملتا ہے۔ عزت وعصمت کی خوب دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ مغرب کے تجارتی ذہن نے اس دن کو بھی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لئے نفع بخش بنادیا ہے۔
قابل ِ افسوس بات یہ ہے کہ اب مسلم نوجوان بھی اظہارمحبت میں کسی سے پیچھے نہیں رہتے، اسلامی ملکوں کے بھی کچھ اسی طرح کے احوال ہیں۔ یہاں تک کہ عرب کے قلب وجگر سعودی عرب کے شہر ریاض وجدہ میں 14فروری کی صبح گلاب کی قیمت آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہے۔ حالانکہ اسلام ویلنٹائن ڈے منانے کی اجازت نہیں دیتا۔
اس سلسلے میں سورہ بنی اسرائیل میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:اور زنا کے قریب بھی نہ بھٹکنا، یقیناوہ بہت بڑی بے حیائی اور بری راہ ہے۔ سورہ الذاریات میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔یہی ان کے لئے پاکیزہ ہے، لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالی سب سے خبردار ہے۔ مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اوراپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کا اظہار نہ کریں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ کوئی مرد اجنبی عورت سے تنہائی اختیار نہ کرے اس لئے کہ ان دونوں کے درمیان تیسرا شیطان ہوتا ہے۔ (ترمذی)
اسلام عالمگیر اور قیامت تک باقی رہنے والا مذہب ہے اور یہ فطری اور صاف وشفاف مذہب ہے۔ نہ اس میں کسی زیادتی کی گنجائش ہے اور نہ کمی کی۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔ (آل عمران)
ایک جگہ ارشاد ہے جو شخص اسلام کے سوا کسی دوسرے دین کو چاہے گا وہ اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔(آل عمران)
ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص کسی قوم کے ساتھ مشابہت کرتا ہے تو وہ انہیں میں سے ہوتا ہے۔(ابوداؤد)
ظاہر ہے ہم ویلنٹائن ڈے منا کر دوتہذیب کا حصہ بنتے ہیں اوریہود و نصاریٰ کے ساتھ مشابہت اختیارکرتے ہیں جو خود ایک بڑا گناہ ہے۔ اسلام میں محبت کوئی جرم نہیں اور نہ ہی محبت کا اظہار گناہ ہے۔ مردوعورت کا رشتہ تو ایک سماجی ضرورت ہے۔ اسلام کا احسان ہے کہ اس نے بہت سی مصلحتوں کی بنا پر اس رشتے کو نکاح کے دائرے میں لاکر تقدیس عطا کردی ہے۔
اگر کوئی مرد یا عورت ایک دوسرے کی طرف میلان رکھتے ہیں تو جائز طریقے پراس مقدس رشتے میں منسلک ہو جائیں، اس کے لئے نہ بے حیائی کی چا در تاننے کی ضرورت ہے اور نہ گلاب پیش کر کے برانگیختہ کرنے کی ضرورت ہے، نہ اظہار محبت کرنے کے لئے کسی دن کے انعقاد کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا محبت صرف ایک دن کے لئے مخصوص ہوتی ہے؟ اور کیا محبت صرف مردوعورت کے درمیان ہی پائی جاتی ہے۔ حقیقت تویہ ہے کہ یہ دن بے حیائی اور فحاشی کا دن ہے، اس پر محبت کا پردہ ڈال کر کہ سمجھ لیا گیا ہے کہ اب اس میں کوئی برائی نہیں۔ ویلنٹائن ڈے فحاشی کا دوسرا نام ہے اسے معاشرے میں رواج دینا فحاشی کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے اللہ تعالی ہماری نوجوان نسل کو دین کی سمجھ عطا فرمائے (آمین یارب العالمین بحرمۃ سیدا لانبیاء والمرسلین)

Short URL: https://tinyurl.com/2zhmrkqx
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *