آئی مس یو یار ! (قسط سوئم)۔۔۔۔ مصنف: زید عمران

ایک دن اُس خوبصورت کیوٹ پری کے کلاس فیلو کا اپنے روم میٹ میں ہوسٹل جھگڑا ہو گیا بچارے کو خوب مارمار کے بھیگی بلی بنا ڈالا اور کمرے سے کک آوٹ کر دیا ۔ یہ میرا جونئیر بھی تھوڑا کھر دماغ اور اکڑ والا تھا جان بوجھ کر لوگوں کے کام میں ٹانگ اڑانا اسکا ممکن ہے پسندیدہ مشغلہ ہو۔خیر اسکو جلاروم کر دیا گیا۔ ہمارے روم میں 2 سیٹیں خالی تھی مگر میں نے اسکو مہربانی کر کے اپنے کمرے میں جگہ عنایت کر ڈالی ۔مگر بزرگ فرماتے ہیں جس پر احسان کرو اسکو شر سے بھی محفوظ رہو۔اب یہ جناب ہمارے ساتھ شفٹ ہو چکے تھے صبح ناشتے سے لے کر رات کے کھانے تک ہمارے ساتھ ہی رہتا تھا۔اس سے کافی اچھی خاصی دوستی ہو گئی تھی ۔ میں نے اسکی کلاس فیلو جو کہ میرے کند ذہین میں گھر کر گئی تھی ۔میں نے اس حوالے سے اس سے بات کی اور اسکو ٹوٹولنے کی کوشش کی اور نمبر مانگنے کا تقاضا کر دیا مگر یہاں تو یہ کھر دماغ میرے گلے ہی پڑ گیا تھا ۔اس نے چیخ چیخ کر بولنا شروع کر دیا ۔ تمہاری ہمت کیسے ہوئی؟ مجھ سے اسطرح کی بات کرنے کی ؟ وہ میری کلاس فیلو ہے ، تم کیوں نمبر مانگ رہے ہو اسکا ؟؟ اس نے میری طرف کندھے اچکاتے ہو کہا ۔تم مجھے جانتے نہیں ہو میں کون ہوں ؟ تم نے پہلے ہی اسکو بہت بدنام کر دیا ہے !یہ سارا ماجرا ہمارے کمرے میں ہوا مگر روم میٹس نے اسکو پانی پلا کر ٹھنڈا کر دیا ۔اور پھر جان چھوٹی ۔۔۔ میں نے ٹھنڈٖی آہ بھری اور چپ کر کے بیٹھ گیا ۔۔۔ میں اس مسئلے کو طول نہیں دینا چاہتا تھا اور نہ ہی یہ میری منشاء تھی کہ اس سارے واقعے کی کسی اور کو خبر ہو ۔2سے 3دنوں کے بعد معلوم پڑا کہ موصوف خود انسے
chat
کرتے تھے ۔اور ڈورے ڈالنے کی بھرپور وشش کرتے رہے مگر انگور کھٹے رہے! میرے کم بخت کے علم میں نہ تھا کہ وہ بچارے کی دکھتی رگ ہے جس پر میں نہ وار کیا تھا ! خیر میں نے ایک دن اسکے موبائیل سے نمبر حاصل کر لیا اور میں دن رات اس پر فارورڈ پیغامات بھیجا کرتا تھا اس یقین کے ساتھ کے ایک دن یہاں سے جواب موصول ہو گا ۔مگر 1مہینے سے زیادہ کا وقت اس کشمکش میں گزر گیا مگر کو ئی مگر کوئی جوا ب نہیں آیا جیسے موبائیل کومے میں چلا گیا ہو ۔ایک شام میرے موبائیل پر میسج موصول ہوا۔۔۔میں نے کافی دیر بعد دیکھا کہ کوئی
msg
آیا مگر یہ دیکھتے ہی میری خوشی کی انتہا نہ رہی ۔۔۔
who’s thee ??
یہ وہ انگریزی زبان کے دو الفاط تھے جو مجھے پیغام موصول ہوا۔ یہ کوئی رات گئے کا وقت تھا تقریبا1:15کا۔۔ میں نے
reply
کر دیا اپنا نام لکھ کر مگر اسکے بعد کوئی جواب نہ آیا شاید وہ یہ سوچ رہی تھی کہ یہ بلاجو پیچھے پڑگئی ہے اس سے کسطرح سے جان چھڑائی جا سکے ۔اس ایک ماہ کے عرصے میں جب سے میرے پاس نمبر آیا تھا میں نے کبھی اس کو نہ بلایا اور نہ ہی کبھی دیکھا یہ محض اتفاق تھا ۔۔۔شاید یا کچھ اور۔۔ کیونکہ میں خود اسکو آپروچ نہیں کرتا تھا اور نہ یہ چھچھوڑا پن مجھے اچھا لگتا تھا۔ اور نہ ہی میں یہ چاہتا تھا کہ کسی کواس بارے میں علم ہو۔کیونکہ پیار تو احساس ہے نہ کہ بلاوجہ کسی کو تنگ کرنا اور تکلیف یا پریشانی میں مبتلا کرنا لہذا میں اپنے اسی نظریے کو فالو کرتا رہا اور چلتا رہا۔پڑھائی اسکے ساتھ اساتھ جاری تھی اس پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں تھا ۔اب کی بار یونیورسٹی میں نیا رول آیا تھا کے
b.s
اور
m.sc
کے تمام بچے پرچہ جات انگریزری میں
attempet
کریں گے ۔ویسے ہم تو پہلے بھی پیپر انگریزی میں حل کرتے تھی ہاں مگر اردو اور انگریزی زبان میں پیپر حل کرنے کی
choice
ضرور موجود تھی ۔
papers
کی تیاری شروع ہو گئی نوٹس کو رٹا لگانا شروع کر دیا، سب دوست میرے پاس ہوسٹل آکر تیاری کرتے تھے کیونکہ میرے پاس تمام لیکچرز اور نوٹس موجود ہوتے تھے اور یوں ہم گروپ اسٹڈی کرتے تھے ۔مگر نوٹس کم بخت کہاں یاد ہوتے تھے مگر کچھ کلاس فیلوز ماشااللہ ایسے رٹا مشین طبیعت کے مالک تھے جناب کہ میں کہتا ہوں خوبخو یاد کرتے مجال ہے کہ ایک لفظ بھی آگے پیچھے ہوجائے ۔ اور یہ ہی اسٹوڈنٹس کلاس میں ہائی پروفائل سمجھے جاتے تھے ۔جو اسٹوڈنٹس تھورا بہت ہٹ کر لکھتے تھے انکے یوں نمبر دیے جاتے جیسے لوگ تھوڑا سا صدقہ نکالتے ہیں ۔ کبھی ان بچوں کی حوصلہ افزائی نہ کی جاتی ۔ یہ ہی ہمارے تعلیمی نطام کا المیہ ہے کہ ہم لوگ نوٹس اور امدادی کتب سے پڑھتے ہیں خود سوچ بچار نہیں کرتے اور نہ ہی اکی ہمیں ترغیب دی جاتی ہے۔ جسکی وجہ آپ سب کے سامنے ہے کہ آج کا طالب علم کے پاس ڈگری ہے مگر افسوس علم نہیں ۔۔۔۔!ان
papers
میں ہم تیاری کر کے رات کو اسٹیج ڈارمے بھی دیکھنے جاتے تھے کیونکہ میڈیا میں ہونے کے باعث پاس مل جاتے تھے اور ہم خوب موج مستی کرتے تھے ۔ایک دن کیا ہو ا کے میں
paper
دے کر باہر نکلا تو نگران
cheeker
نے آواز دی اپنی کتاب لیتے جاؤ،؟ میں نے سننے کے بعد کچھ لمحات بات کو ان سنا سا کر دیا، کیونکہ میں آج تک اسکول سے یونیورسٹی لائف تک پیپرز میں کبھی کتاب لے کر نہیں گیا۔لیکن ااس نے کہا کہ اس پر ماس کمیونکیشن لکھا ہے میں رُکا اور پلٹا اور بک نگران سے پکڑ لی ۔میں کتاب لے کر باہر آگیا اس یقین کے ساتھ جس سٹوڈنٹ کی ہو گی اسکو لٹا دوں گا ۔مگر کب کتاب کھول کر دیکھا تو اوپر منزل مقصود کا نام تحریر تھامطب وہ کتاب ملکہ عالیہ کی تھی ۔کتاب کے اگلے صفحے پر پاپا کی رانی ہوں سب دوستوں میں پیاری ہوں ، پنسل کے ساتھ کندہ تھا ۔ لیکن یہ فقرا آج کل آپکو ہر سوشل میڈیا ایپس پر مختلف لڑکیوں کے اسٹٹیٹس کی زینت بنا ہوا نظر آئے گا یہ تو نہیں میں جانتا کہ وہ پیاری ہوتی ہیں یا نہیں مگر اسٹیٹس ضرور پارا ہوتا ہے ۔۔! مگر یہ واقع ہی پیاری تھی تب ہی تو یہ سلسلہ چل نکلا۔۔! کتاب 2دن میرے پاس رہی کیونکہ آج جمعہ تھا اور ہفتہ اتوار کلاسز نہیں ہوتی تھی لہذا میں کتاب واپس کرنے سے معذور رہا ۔مگر کتاب تو واپس کرنی تھی مگر وہ ملتی تو تب نہ۔۔!سوموار کو پوسٹ پروڈکشن کا پیپر تھا یہ میرا پسندیدہ سبجیکٹ تھا۔ پیپر بہت اچھا ہوا ہم سب دوست باہر آئے اور چھچھوڑوں کی طرح یونیورسٹی میں گھومنے لگ گئے ۔کسی نے سگریٹ سلگا لی تو کوئی گٹار کی مدد سے زہریلے ،بے سرُے سُر بکھیرنے لگا! ایک دیپارٹمنٹ سے دوسرے ڈیپارٹمنٹ میں جانے کے لیے پرانی لال اینٹوں سے ٹریک بنا ہوا تھا اور اس ٹریک کے ارد گرد باغیچے اور لان تھے جہاں پر انواع واقسام کے پھول اور ہری گھاس تھی جہاں پر لڑکے اور لڑکیاں بیٹھ کر دھوپ تاپتے اور کینو کھا کر کیلشیم کی کمی پوری کرتے تھے ۔ہم ٹریک پر جارہے تھے ۔ کتاب میرے پاس تھی اچانک مخالف سمت سے مس یونیورستی (میری نظروں کے مطابق)آتی ہوئی دکھائی دی ۔وہ بھی ٹریک پر تھی اور ہم بھی ۔۔ وہ ہماری سمت بڑھ رہی تھی ۔۔۔ میں نے اپنے دوستوں کو کہا کہ راستہ چھوڑ دو ، میرے کہنے کی دیر تھی کہ وہ سب تتر بتر ہو گئے۔انہوں نے سرخ لباس زیب تن کر رکھا تھا جو ان پر ماشاشااللہ بہت جچتا تھا۔ یہ سرخ سو ٹ وہی تھا جب میری ان سے پہلے تعارفی ملاقات ہوئی تھی ۔ ہمیشہ کی طرح آدھے سر پر ڈوپٹہ،بالوں کی ایک لٹ باہر، سامنے بہت سے ڈوپٹے کی سلوٹیں تھی ۔۔۔ ایسے لگتا تھا جیسا آجکا یہ ٹریک ماڈللنگ ٹریک بن گیا ہو اور وہ کیٹ واک کرتی ہوئی میری طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔۔۔اسکو دیکھتے ہی میرے دل کی دھرکنیں تیز ہوگئیں۔وہ چند سکینڈوں میں میرے پاس پہنچ گئی تھی ۔میں نے اسلام وعلیکم کہا !مگر وہ بنا جواب دیئے چلی گئی۔۔میں نے پیچھے سے ایکس کیوزمی کہا ، مگر پھر بھی نہ سنا۔ وہ پانچ سے چھ قدم دور چلی گئیں تھی میں نے پھر ہمت کر کہ کہا
listen
یہ ٓاپکی کتاب ، جو کھو گئی تھی گزشتہ دو دنوں سے میرے پاس تھی وصول کر لیں؟ میں جیسے ہی یہ جملے ادا کیے وہ فوراََ برق رفتار سے رکی اور واپس پلٹی، آس پاس لان میں
بیٹھے سب اسٹوڈنٹس یہ مناظر دیکھ رہے تھے ۔ وہ مجھ سے 2قدم کے فاصلے پر آکر رک گئیں اور کتاب کے لیے ہاتھ آگے پھیلا دیا ۔ انکی چمکتی آنکھیں اور ان چمکتی انکھوں میں کاجل کسی شاعر کے لیے دل کش مناظر سے کم نہ تھا جس پر وہ پوری غزل قلمبند کرسکتے تھے ۔مگر وہ آنکھیں چمکتی تھی ،کاجل نے اُنکو مزید روشن اور نمایاں کر رکھا تھا مگر ان میں حیا واضح نظر آ رہی تھی ، وہ نظریں جھکا کر کھڑی رہی جو اُنکے حیا کے پیکر ہونے کی عکاس تھیں ۔میں نے کتاب واپس کر دی وہ کتاب واپس کرتے ہی چلتی بنی اور شکریے کہ دو شبد بھی کہنے سے معذور رہی ، شاید یہ اسکا
attitude
تھا یہ کچھ اور ۔۔۔ ممکن ہے وہ اس سچویشن سے جلدازجلد نکلنا چاہتی تھی۔مگر میں منہ پھٹ نکلا اور کہہ دیا ۔۔۔۔
Excuse me
مس ؟ شکریہ تو بولتی جائیں ۔۔۔ وہ چلتے ہوئے پیچھے مڑی اور چلتے ہو ئے شکریہ ادا کر کہ رخصت ہو گئی ۔۔میرے کان سرخ ہو گے تھے میں تھوڑا ڈرا ہوا بھی تھا اور یوں یہ تیسری ملاقات تھی ۔









Leave a Reply