قلم کاروں کا عنوان گفتگو۔۔۔۔ تحریر: ملک محمد شہباز ، قصور

Malik Muhammad Shahbaz
Print Friendly, PDF & Email

۔8 مارچ خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے قلم کاروں کی تحریروں پر مختصر تبصرہ


گزشتہ کئی دنوں سے دنیا بھر کے قلم کار خواتین کے عالمی دن 8 مارچ کے حوالے سے تحریں لکھنے میں مصروف عمل ہیں اور تقریباََ ہر روز متعدد اخبارات و رسائل اور آن لائن ویب سائٹوں پر بے شمار مضامین پڑھنے کو ملتے ہیں اور مزید سینکڑوں تحریں ملیں گی۔ بندہ ناچیز بھی اس تگ و دو میں رہا کہ خواتین کے حقوق پر کوئی ایسی تحریر لکھی جائے جو سارے دوستوں کی تحریروں سے الگ ہو مگر اپنی کم علمی کی وجہ سے ایسی کوئی تحریر نہیں لکھ پایا اور آخر کار اس نتیجے پر پہنچا کہ کیوں نہ ان دوستوں کی تحریروں کا مطالعہ کیا جائے جنہوں نے خواتین کے موضوعات پر لکھا ہے۔ چند دوستوں کی تحریرں پڑھنے کا اتفاق ہوا جن میں سے کسی کا عنوان پنجاب اسمبلی کا تحفظ حقوق نسواں بل تھا تو کسی کا عنوان عورت پر ظلم و تشدد کا خاتمہ ۔ کسی کا عنوان اسلام اور عورت تو کسی کا عنوان عورت کے حقوق کا تحفظ تھا۔ تمام قلم کاروں اور مراسلہ نگاروں کی تحریر کا لفظی عنوان مختلف ہونے کے باوجود گفتگو مرکز بالککل ایک ہی نظر آیا۔ ہر قلم کار کی تحریر بول بول کر یہی پکار رہی تھی کہ عورت کو اس کے حقوق دیئے جائیں۔قلم کاروں کے الفاظ زبان نہ ہونے کے باوجود چلا رہے تھے کہ خواتین پر تشدد کا خاتمہ کیا جائے۔ تمام معزز لکھاری حضرات کا انداز بیاں اپنی اپنی جگہ انتہائی قابل احترام اور شاندار و جاندار نظر آیا۔کسی تحریر میں خواتین کی محبت و احترام کا درس ملا تو کسی تحریر میں خواتین پر بے جا تشدد کو روکنے کے لیے تجاویز دکھائی دیں۔ہمارے معزز اور نوجوان قلم کار بھائی اختر سردار نے اپنی تحریر میں خواتین کے اصل مسائل کی نشاندہی کی ہے۔جبکہ حبیب آباد کے سینئر قلم کار رشید احمد نعیم نے عورت کے حقوق کا اصل محافظ اسلام پر اپنے دلائل دیئے ہیں۔خاتون قلم کار مقدس فاروق اعوان صاحبہ نے اسلام اور آج کی عورت کے عنوان پر عورت کا اسلامی اور موجودہ دور کے حساب سے موازنہ کیا ہے۔اور خاتون قلم کار اقراء اعجاز نے اسلام ، عورت اور پردے کے عنوان پر اپنی قلم کے جوہر دکھائے ہیں۔اسی طرح خاتون قلم کار پروفیسر رفعت مظہر نے پنجاب اسمبلی کے تحفظ خواتین بل کو اپنا موغوع گفتگو بنایا ہے ۔ جبکہ زینب ملک ندیم صاحبہ نے مقصد حیات کے نام سے اپنا عنوان منتخب کیا ہے۔عالیہ کاشف عظیمی نے بے اولاد ، دکھی خواتین کی دکھ بھری داستان بیان کی ہے۔اور طاہر حبیب نے جنگ سنڈے میگزین میں میاں بیوی کے لڑائی جھگڑوں میں بچوں کے غیر محفوظ ہونے کی وجوہات بتائی ہیں۔بالکل اسی طرح دیگر متعدد قلم کاروں اور مراسلہ نگاروں نے خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے اپنی اپنی کاوشوں کو شامل کیا ہے ۔ تمام کے تمام کالم نگاروں کا انداز تحریر الگ الگ ہونے کے باوجود نقطہ گفتگو ایک ہی رہا ہے کہ عورت کو اس کے حقوق ملنے چاہئیں۔اس محبت و احترام کی حامل شخصیت کو بھی عزت و احترام ملنا چاہیے۔اس پر بے جا اور بلا وجہ کا تشدد اور ظلم و ستم ختم ہونا چاہیے۔کسی بھی طرح کا جبری سلوک اسلام میں ہر گز جائز نہیں ہے۔یہ عظیم شخصیت ( عورت ) مختلف صورتوں میں اپنے حلقہ احباب میں موجود یعنی اپنے سے منسلک مردوں کے لیے اپنا تن، من ، دھن قربان کرنے کے لیے ہمیشہ تیار کھڑی ہوتی ہے تو پھر اس پر بے جا تشدد کیوں؟ ۔ یہ عورت ماں کی صورت میں ہو تو اپنی اولاد کے لیے جنت بن جاتی ہے اور یہی عورت جب بیوی کی صورت میں ہوتی ہے تو مرد کی تسکین بن جاتی ہے ۔اور یہی عورت جب ایک بیٹی کی شکل میں ہوتی ہے تو رحمت خدا وندی کا ذریعہ بن جاتی ہے اور بہن کی صورت میں عورت ایثار و قربانی کا بہترین ثبوت ہے۔ایک وقت میں اگر گھر میں پانچ افراد موجود ہوں اور کھانا چار افراد کا ہو تو صرف یہ عورت ( ماں ) ہی کہتی ہے کہ مجھے بھوک نہیں ہے۔یہ عورت چاہے کسی بھی روپ میں ہو عزت و احترام ، پیارومحبت ، ایثار و قربانی کی مثال ہوتی ہے تو پھر اس پر ظلم و تشدد کیوں کیا جاتا ہے؟ ۔ عورت کو اس کے حقوق ضرور ملنے چاہئیں۔اس پر ہر طرح کا تشدد ختم ہونا چاہیے۔ عورت کو مرد کی طرف سے محبت و احترام ملنا چاہیے۔دنیا بھر کے قلم کاروں کا خواتین کے حوالے سے تحریں لکھنے کا اصل مقصد یہی ہے کہ اس پر ہونے والے ظلم و ستم کا خاتمہ ہو نا چاہیے۔اور اسی لیے عالمی سطح پر خواتین کے حقوق کے تحفظ کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔عورت کو اس کے تمام جائز حقوق دینا مرد کی مکمل ذمہ داری ہے اور ایک اسلامی ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان کے حکمرانوں کی جانب سے عورت کے حقوق کے تحفظ اور اس پر ہونے والے ظلم و ستم کا مکمل خاتمہ کرنے کی یقین دہانی کروائی جانی چاہیے۔اور یہی بندہ ناچیز نے تمام قلم کاروں کی تحریروں میں پایاہے ۔

Short URL: http://tinyurl.com/j239228
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *