عمرہ اور رمضان المبارک۔۔۔۔ تحریر: ڈاکٹر خالد محمود

Dr. Khalid Mehmood
Print Friendly, PDF & Email

عمرہ کو حج اصغر بھی کہا جا تا ہے۔عمرہ کی فضیلت کے متعلق بہت سی احادیث مبارکہ میں ذکر آیا ہے لیکن رمضان المبارک میں عمرہ ادا کرنے کے متعلق حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا رمضان المبارک میں عمرہ کرنا مستحب اور افضل ہے(بخاری ، مسلم )۔ حضرت ابو داؤد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا رمضان کے عمرہ کا ثواب ایک حج کے برابر اور اس حج کے برابرجو میرے ساتھ کیا ہو۔ عمرہ ماسوائے 9ذی الحجہ سے13ذی الحجہ پورے سال میں اداکیا جا سکتا ہے۔عمرہ کی فضیلت کے بارے میں چند مزید احادیث مبارکہ کا ترجمہ درج ذیل ہے۔حضرت ابن مسعود اور حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا لگاتا ر حج و عمرہ فقراور گناہوں کو ایسے دور کرتے ہیں جیسے آگ کی بھٹی لوہے کی میل کو دور کرتی ہے۔(ترمذی ، نسائی )۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ایک عمرہ دوسرے عمرے کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے۔(بخاری ، مسلم )۔حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جو شخص احرام کی حالت میں مرے گا وہ روز محشر لبیک پکارتا اُٹھے گا۔(نسائی ) عمرہ صا حب استطاعت مسلمان کو زندگی میں ایک دفعہ کرنا سنت موکدہ ہے عمرہ کے لغوی معنی زیارت کے ہیں۔ اور زیارت کرنے والاعامر اور معتمر کہلاتا ہے شریعت کی اصلاح میں عمرہ کی میقات سے احرام باندھ کر بیت اللہ کا طواف اور صفامرہ کی سعی کرنے کا نام عمرہ ہے ۔حج ا ور عمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے خاص مہمان ہوتے ہیں ۔ عمرہ کرنے والوں پرواجب ہے کہ اپنے عمرہ میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کو اپنا مقصد بنائیں۔محض عمرہ کرنے سے حج فرض نہیں ہو جاتا۔ عمرہ پر جانے سے پہلے دنیاوی اغراض اور مباہات سے دور رہیں۔نمازبروقت اور با جماعت اداکریں اور لوگوں کے ساتھ اخلاق حسنہ سے پیش آئیں۔ گناہوں اور نافرمانیوں سے توبہ کریں جو گناہ سر زد ہو چکے ہوں ان پر شرمسارہوں اوْر آئندہ گناہ نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ لوگوں کے حقوق لوٹا دے ، کسی کا دل دکھایا ہو تو اس سے معافی طلب کریں تمام گناہوں سے دور رہے اپنے عمرہ کیلئے حلال اور پاک مال میں سے خرچ کریں۔ کہ اللہ تعالیٰ پاک چیزوں کو پسند فرماتا ہے اور قبول فرماتاہے۔ جھوٹ سے پرہیز کریں ،غیبت سے بچےٖں اور بغیر علم کے کوئی دینی بات نہ کہیں اور یہ سوچیں کہ آپ کس کے دربار پر حاضری دینے جا رہے ہیں آپ کو اپنے گھر کس نے بلایا ہے ۔عمرہ کرنے والوں پر لازم ہے کہ وہ عمرہ پر جانے سے قبل اللہ تعالیٰ کے گھر کی حاضری کیلئے مکمل تیاری کریں اپنا ذہن تیار کریں عمرہ کے احکامات اور مناسک سیکھیں۔عمرہ کو حج اصغر بھی کہا جا تا ہے۔ عمرہ کے متعلق لٹریچر کا مطالعہ کریں ۔ پا کستان سے جا کر جو پہلا عمرہ ادا کیا جا تا ہے وہ آپ کا واجب عمرہ ہوتا ہے۔اسی طرح مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ آکر جو عمرہ ادا کیا جاتا ہے وہ بھی وا جب عمرہ ہوتا ہے۔مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران جو عمرے ادا کیے جاتے ہیں وہ نفلی عمرے کہلاتے ہیں۔ نفلی عمرہ زندہ اور فوت شدہ عزیزوں کیلئے بھی کیا جا سکتا ہے۔ عمر ہ پر جانے والوں کو حج اور عمرہ میں فرق بھی معلوم ہوناچاہیے۔ حج اور عمرہ میںیہ فرق ہے :حج فرض ہے عمرہ سنت ہے،حج کی میقات حرم ہے جبکہ عمرہ کی میقات حِل ہے۔حج کیلئے ایک خاص وقت معین ہے۔ عمرہ کیلئے خاص وقت معین نہیں ہے۔حج کے ایام 8ذی الحجہ سے 12ذی الحجہ تک ہو تے ہیں عمرہ9 ذی الحجہ سے13 ذی الحجہ تک کرنا مکروہ ہے، عمرہ کے مناسک حرم شریف خانہ کعبہ میں ادا کیے جاتے ہیں۔حج کے مناسک خانہ کعبہ کے علاوہ منٰی عرفات اور مزدلفہ میں ادا کیے جاتے ہیں، حج کے تین فرض اور چھ واجب ہیں جبکہ عمرہ کے دو فرض اور دو واجب ہیں۔حج میں تلبیہ یعنی لبیک احرام باندھنے احرام کے نفل پڑھنے اورحج کی نیت کرنے کے بعد پکارنا شروع کی جاتی ہے۔ اور جمرہ عقبیٰ کی رمی کرنے سے قبل پکارنا بندکی جاتی ہے جبکہ عمرہ میں تلبیہ یعنی لبیک احرام باندھنے احرام کے نفل پڑھنے اورعمرہ کی نیت کرنے کے بعد پکارنا شروع کی جا تی ہے اور طواف بیت اللہ شروع کرنے سے قبل پکارنا بند کر دی جا تی ہے حج میں احرام ،احرام باندھنے ،احرام کے نفل پڑھنے اور حج کی نیت کرنے کے بعد قیام منٰی ، وقوف عرفات، وقوف مزدلفہ، رمی جمرہ عقبیٰ ،قربانی اور حلق /قصر کے بعد کھولا جا تاہے۔عمرہ میں احرام ،احرام باندھنے احرام کے نفل پڑھنے اورعمرہ کی نیت کرنے کے بعد طواف بیت اللہ، صفا مروہ کی سعی ،اور حلق/قصر کے بعد کھولا جاتا ہے۔حج میں وقوف عرفات اور وقوف مزدلفہ ہے جبکہ عمرہ میں یہ نہیں ۔ حج میں طواف وداع ہوتا ہے عمرہ میں نہیں ہوتا۔ حج پانچ دنوں میں مکمل ہو تا ہے جبکہ عمرہ تقریباََ پانچ گھنٹے میں مکمل ہو جاتا ہے۔جب آپ عمرہ پر جانے کا ارادہ کر لیں تو پھر عمرہ کے مناسک اور مسائل سیکھنا واجب ہو جاتے ہیں۔
پہلی بار عمرہ پر جانے والے مرد اور خواتین کو چاہیے کہ وہ سعودی عرب روانگی سے قبل مناسک عمرہ کی ادائیگی کی سمعی و بصری تربیت لازمی لیکر جائیں تاکہ ان کا عمرہ صحیح طور پر ادا ہوسکے ۔عمرہ کے منا سک سیکھنا انتہائی ضروری ہیں۔ عازمین عمرہ کی تربیت کے لئے عمرہ سیزن میں حکومتی یا پرائیویٹ سطح پر مناسک عمرہ کی تربیت کا کوئی انتظام نہیں کیا جاتا۔ ۔عازمین عمرہ کی تربیت بھی اتنی ہی لازمی اور ضروری ہے جتنی کہ عازمین حج کی اور مناسک عمرہ کی تربیت خواتین کے لئے بھی اتنی ہی لاز می اور ضروری ہے جتنی کہ مردوں کے لئے ۔ مناسک حج و عمرہ کی اہمیت اور ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے1978 ؁ئسے قائم شدہ بصری تربیت گاہ مناسک حج و عمرہ F-765 ، کالج چوک،سیدپور روڈ، سیٹلائٹ ٹاؤن، راولپنڈی میں عازمین حج و عمرہ کی سمعی و بصری تربیت کے انتظامات کئے جاتے ہیں۔ یہ تربیت گاہ راولپنڈی بلکہ پاکستان بھر میں اپنی نوعیت کی پہلی اور واحد تربیت گاہ ہے جہاں عازمین حج وعمرہ کو انتہائی جدید انداز میں مناسک حج و عمرہ کی عملی و بصری تربیت دی جاتی ہے ۔مناسک عمرہ کی سمعی و بصری تربیت کے پر وگرام عمرہ سیزن میں ہر اتوار کو صبح 10بجے منعقد ہوتے ہیں اور حج سیزن مناسک حج کے تربیتی پروگرام ہر اتوار کو صبح 9بجے منعقد ہوتے ہیں ۔ یہ تربیت فی سبیل اللہ دی جاتی ہے ۔ تربیت گاہ میں عازمین حج و عمرہ کو بذریعہ ملٹی میڈیا وڈیو پریزینٹیشن تربیت دی جاتی ہے جس میں عازمین حج و عمرہ کومناسک حج و عمرہ، احرام باندھنے کا عملی طریقہ،طواف بیت اللہ کرنے کا عملی طریقہ،صفامروہ کی سعی کرنے کا طریقہ حج کے پانچ دن اور مدینہ منورہ میں حاضری، مسجد نبویؐ کی زیارت اور بارگاہ رسالتؐ میں صلوٰۃ و سلام پیش کرنے کے آداب اور طریقے بتائے جاتے ہیں۔ ہر پروگرام مکمل تربیت پر مبنی ہو تا ہے ۔ گروپ کی صورت میں جانے والے عازمین حج و عمرہ پورے گروپ سمیت پیشگی وقت اور دن طے کر کے تربیت لیتے ہیں۔ تربیتی پروگرام کے دوران عازمین حج و عمرہ کو لٹریچر،اور ڈاکٹرریاض الرحمٰنؒ بانی بصری تربیت مناسک حج و عمرہ کا لکھا ہوا معروف اور مقبول کتابچہ ترتیب عمرہ بلامعاوضہ تقسیم کیا جاتا ہے ۔ خواہشمند عازمین عمرہ اپنا جوابی پتہ لکھا ہوا ڈاک کا لفافہ ارسال کر کے کتابچہ ترتیب عمرہ بلا معاوضہ منگوا سکتے ہیں۔ تربیت گاہ میں طواف کے سات چکروں اور سعی کے سات پھیروں کی دعاؤں کے کتابچے اور مناسک عمرہ کی تربیتی فلم بھی دستیاب ہوتی ہے خواتین عازمین کیلئے تربیت گاہ میں خواتین ماسٹر ٹرینر خواتین کو ان کے مخصوص مسائل کے بارے میں ایک علیحدہ نشست میں آگاہ کرتی ہیں ۔یہ تربیت گاہ عازمین حج و عمرہ کی تربیت اور راہنمائی کے لئے پورا سال کھلی رہتی ہے ۔
آخر میں عازمین عمرہ سے گزارش ہے کہ وہ جب حرمین شریفین اور مقامات مقدسہ پر اپنے لئے دعائیں کریں وہاں اپنے ملک کیلئے اور امت مسلمہ کیلئے بھی دعائیں کریں۔اور جب آپ عمرہ یا حج کرکے واپس آئیں تو آپ کو اپنے اندر اور دیکھنے والوں کو بھی آپکے اندر ایک واضح تبدیلی نظر آنی چاہئیے اور یہی تبدیلی آپ کے حج اور عمرہ کی قبولیت کی نشانی ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سبکو حج و عمرہ ادا کرنے کی سعادت نصیب فرمائے آمین۔

Short URL: http://tinyurl.com/h6wv6vo
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *