معراج النبی: فرش سے عرش تک خاتم الانبیاء ؐکامعجزاتی سفر

M. Tariq Nouman Garrangi
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: مولانامحمدطارق نعمان گڑنگی

معراج حضور نبی کریمﷺ کی حیات مبارکہ کا اہم ترین واقعہ وسفرہے اس عظیم سفر میں ہمارے لیے عظیم نشانیاں وداستانیں ہیں جہاں کوئی نہ جاسکااللہ پاک نے ہمارے پیارے نبی ﷺ وہاں بلالیا
اسرا اور معراج یہ دو لفظ ایک حیرت انگیزواقعے کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے گیارہویں سال میں پیش آیا، قرآن کریم میں اس واقعے کا ذکر اس آیت کریمہ میں کیا گیا ہے
سبحان الذِی اسری بِعبدِہ لیلا مِن المسجِدِ الحرامِ اِلی المسجِدِ الاقصی(بنی اسرائیل)
پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم)کورات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے گیا۔
اس آیت میں ایک ایسا واقعہ بیان کیا گیا ہے جو تاریخ انسانی میں نہ پہلے کبھی پیش آیا اور نہ آئندہ کبھی پیش آئے گا، سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے معمولی واقفیت رکھنے والے لوگ بھی جانتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی سخت مصائب وآلام میں گزری ہے، کوئی ظلم ایسا نہ تھا جو مشرکین مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کے جاں نثار صحابہ پر نہ ڈھایا ہو،
آخیر میں جب کوئی بس نہ چلا تو ان مشرکین نے بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب کے خلاف آپس میں یہ معاہدہ کرلیا کہ ان قبیلوں سے اس وقت تک کسی قسم کا کوئی تعلق، کوئی رابطہ، کوئی معاملہ نہیں رکھا جائے گا جب تک کہ وہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرکے ہمارے حوالے نہیں کریں گے اس معاہدے کے نتیجے میں ان دونوں قبیلوں کے تمام افراد (ابو لہب کے علاوہ کہ وہ مشرکین کے ساتھ تھا)شعب ابی طالب میں محصور ہوکر رہ گئے، حالات انتہائی ناگفتہ بہ تھے، اس معاہدے کے نتیجے میں سامان خورد ونوش کی آمد معطل ہوگئی، لوگ پتے اور چمڑے کے ٹکرے کھانے پر مجبور ہوگئے، بھوک سے بلبلاتے ہوئے بچوں اور عورتوں کی آوازیں گھاٹی سے باہر تک سنائی دیتی تھیں، یہ معاملہ پورے تین سال تک چلا نبوت کے دسویں سال یہ معاہدہ جو خانہ کعبہ کی دیوار پر آویزاں تھا اللہ کے حکم کے مطابق کیڑوں کے ذریعے صاف کردیا گیا، قریش کے بعض دوسرے قبیلوں کے سرکردہ افراد نے بھی اس ظلم سے توبہ کرلی اور ان کے دل بھی محصورین کے لیے نرم پڑگئے، اس طرح سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے گھر والے، دوست احباب جاں نثار صحابہ اور عزیز واقارب شعب ابی طالب سے باہر آئے، اس واقعہ کے چھ ماہ بعد آپ کے چچا ابو طالب وفات پا گئے، جن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کارِ دعوت میں بڑی تقویت حاصل تھی، اس حادثے کے چند روز بعد ام المومنین حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا وفات پاگئیں جو آپ کی بڑی غم گسار تھیں، ان مسلسل حوادث نے آپ کونڈھال کردیا، مگرآپ ان حالات میں بھی دعوت دین کی ذمہ داری ادا کرتے رہے مشرکین مکہ سے مایوس ہوکر آپ نے طائف کا رخ کیا، یہ شہر مکہ مکرمہ سے ساٹھ میل کی مسافت پرواقع ہے، آپ نے اس سفر کے دوران ہر قبیلے کو دعوت اسلام دی، لیکن کسی نے بھی آپ کی یہ دعوت قبول نہ کی، اس کے بجائے ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہر سے باہر نکالنے کے لیے آوارہ لڑکوں کو پیچھے لگا دیا، یہ بد نصیب لڑکے آپ پر آوازیں کستے اور پتھر برساتے پیچھے پیچھے چل رہے تھے، یہاں تک کہ آپ کے دونوں جوتے جسم کے خون سے رنگین ہوگئے تھے۔
یہ تھے وہ حالات جن کے بعد واقعہ معراج پیش آیا، مشہور قول یہ ہے کہ اس دن رجب المرجب کی ستائیسویں تاریخ تھی، سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ ایک طرف آپ کو عزیز چچا اور محبوب بیوی کی جدائی کا دوہرا صدمہ تھا، دوسری طرف اپنے ہی ہم وطنوں کی طرف سے مسلسل انکار کی اذیت تھی، بات صرف انکار ہی کی نہیں تھی بلکہ آپ کو طرح طرح کی اذیتیں بھی پہنچائی جارہی تھیں،ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غموں سے نڈھال ہوکر اپنے رب کے آگے ہاتھ پھیلا کر یہ دعا کی یا اللہ!میں تجھ ہی سے اپنے ضعف کا، اپنی بے بسی اور بے کسی کا اورلوگوں کے دلوں میں اپنی ناقدری کا شکوہ کرتا ہوں، اے اللہ!تو کمزوروں کا رب ہے اور تو ہی میرا رب ہے، تونے مجھے کس کے حوالے کردیا ہے؟
کیا کسی اجنبی بیگانے کے جو میرے ساتھ ترش روئی سے پیش آئے یا کسی دشمن کے جس کو تونے میرا مالک بنا دیا ہے، اگریہ حالات تیرے غیظ وغضب کا نتیجہ نہیں ہیں تب مجھے کوئی پرواہ نہیں،لیکن تیری پناہ گاہِ عافیت میرے لیے زیادہ کشادہ اور وسیع ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب رحمت حق کو جوش آیا اور اس نے طے کیا کہ جس قدر میرے بندے کو اس راہ میں ذلیل ورسوا کیا گیا ہے میں اسے اتنی ہی عزت اور سر بلندی عطا کروں گا اور اس کے سر پر عظمتوں کا تاج رکھوں گا، چنانچہ آپ کو اسرا ومعراج کی عزت سے سرفراز کیا گیا اور ایسے مقامات کی سیر کرائی گئی جو منتہائے کائنات ہیں اور اس قدر ارفع واعلاہیں کہ ملائکہ کے سردار حضرت جبرئیل کی رسائی بھی وہاں تک نہیں ہے۔
روایات میں ہے کہ ایک رات سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام ہانی کے گھر میں آرام فرما رہے تھے، نیم خوابی کی سی کیفیت تھی کہ اچانک کمرے کی چھت میں شگاف ہوا اور اس شگاف سے حضرت جبرئیل امین چند فرشتوں کے ساتھ اترے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھایا اور مسجد حرام کی طرف لے گئے، وہاں آپ کے سینہ مبارک کو شق کیا گیا اور آپ کے قلب مبارک کو زمزم کے پانی سے دھو کر سینے میں رکھ دیا گیا اور اسے برابر کرکے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت لگا دی گئی ہے یہ مہر ختم نبوت کی محسوس کی جانے والی اور ظاہر میں نظر آنے والی ایک علامت تھی، اس کے بعد آپ کو سفید رنگ کے براق پر سوار کیا گیا، آپ کے پیچھے حضرت جبرئیل امین تشریف فرما تھے، راستے میں مختلف مقامات سے گزر ہوا، متعدد جگہوں پر اتر کر آپ نے نوافل بھی پڑھے، یثرب (مدینہ)وادی سینا، مدائن، بیت اللحم ان تمام مقامات کی نسبت انبیا کرام کی طرف ہے، آپ ان جگہوں پر کچھ دیر ٹھہرے اور نفل نماز پڑھ کر آگے کے سفر پر روانہ ہوئے، ان مقامات کے علاوہ کچھ افراد واشخاص کے پاس سے بھی یہ برق رفتار سوار ی گزری، راستے میں ایک بڑھیا ملی، اس نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز بھی دی، حضرت جبرئیل نے عرض کیا آپ اس کی طرف توجہ نہ دیں، یہ دنیا ہے، بوڑھی عورت اس کی صورت مثالیہ ہے جس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ دنیا کی عمر بس اتنی رہ گئی ہے جتنی اس بوڑھی عورت کی عمر، اسی طرح ایک بوڑھا شیطان بھی نظر آیا، اس نے بھی آواز دی، حضرت جبرئیل نے اس کے متعلق بھی یہی کہا اور بتلایا کہ یہ شیطان ہے، ان دونوں کا مقصد آپ کو اپنی طرف متوجہ کرنا اور اس سفر سے روکنا ہے، راستے میں کچھ لوگ کھڑے ہوئے ملے جنہوں نے آپ کو سلام کیا، ان کے بارے میں بتلایا گیا کہ یہ لوگ جنہوں نے آپ کو سلام کیا ہے حضرت ابراہیم حضرت موسی اور حضرت عیسی علیہم السلام ہیں۔

ان مقامات پر ٹھہرتی ہوئی اور ان اشخاص کے پاس سے گزرتی ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ آسمانی سواری بیت المقدس پہنچی اوراس جگہ پر اس کو باندھ دیا گیا جہاں اس سے پہلے انبیائے کرام کی سواریاں باندھی جاتی تھیں، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد اقصی کے اندر تشریف لے گئے اور تحیۃ المسجد ادا فرمائی، یہاں آپ کے استقبال کے لیے انبیائے کرام پہلے سے سراپا انتظار اور دیدار کے لیے سراپا شوق بنے ہوئے تھے، مؤذن حضرت جبرئیل نے اذان دی، اقامت کہی گئی، صفیں ترتیب دی گئیں جبرئیل امین نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑا اور نماز پڑھانے کے لیے آگے کردیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام انبیا کی امامت کی جو اس سے پہلے مبعوث ہوچکے تھے، اس نماز میں شرکت کے لیے آسمان سے فرشتے بھی نازل ہوئے، جبرئیل امین نے حاضرین سے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ محمد رسول اللہ خاتم النبیین ہیں، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیائے کرام سے ملاقات کی، ان حضرات نے اللہ کی حمد وثنا بیان کی، آخر میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد کی، آپ کا خطبہ حمد سن کر جو نہایت جامع اور پر اثر تھا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے باقی انبیا علیہم السلام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا انہی فضائل وکمالات کی وجہ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے آگے بڑھ گئے ہیں، نماز سے فراغت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد اقصی سے باہر تشریف لائے، اس وقت آپ کی خدمت میں تین اور ایک روایت کے مطابق چار پیالے پیش کئے گئے ایک دودھ کا، دوسرا شراب کا، تیسرا پانی کا اورچوتھا شہد کا، آپ نے دودھ کا پیالہ پسند کیا حضرت جبرئیل نے فرمایاکہ آپ نے دین فطرت اختیار کیا ہے، اگر آپ شراب کا پیالہ پسند فرماتے تو آپ کی امت گمراہ ہوجاتی، پانی کا پیالہ پسند فرماتے تو پوری امت غرق ہوجاتی، مسجد حرام سے مسجد اقصی تک کے اس سفر کو سیرت کی اصطلاح میں اسرا کہا جاتا ہے، مسجد اقصی سے جو سفر آسمانوں کی طرف ہوا اسے معراج کہتے ہیں۔
اسرا کا ذکر سورۃبنی اسرائیل کی پہلی آیت میں موجود ہے اور معراج کا ذکرسور ۃالنجم کی آیات میں ہے، قرآن کریم میں اسرا اور معراج کا ذکر اختصار کے ساتھ ہے، روایات میں جو تواتر کے ساتھ صحابہ سے منقول ہیں ان کی مکمل تفصیلات ملتی ہیں، دونوں واقعا ت ایک ہی رات میں مختصر وقفے کے اندر بہ حالت بیداری پیش آئے، بلکہ اگر کہا جائے کہ یہ ایک ہی واقعہ ہے تو غلط نہ ہوگا، مسجد اقصی میں قیام سفر کے دوران کسی منزل پر کچھ دیر رک کر آرام کرنے کا وقفہ تھا، یہاں سے یہ قافلہ آگے بڑھا، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگلے سفر میں بھی آپ براق پر تشریف فرما ہوئے اوربعض سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد اقصی سے باہر تشریف لانے کے بعد آپ کے لیے زبرجد اور زمرد کی ایک سیڑھی لٹکائی گئی جس کے ذریعے آپ آسمانوں پر تشریف لے گئے اور براق وہیں مسجد اقصی کے پاس بندھا رہا۔
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم جب پہلے آسمان پر پہنچے تو حضرت جبرئیل نے دروازہ کھلوایا آپ کے لیے فرشتوں نے مرحبا کہہ کر دروازہ کھول دیا، آپ اندر داخل ہوئے وہاں آپ کی ملاقات حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی آپ نے انہیں سلام کیا، انہوں نے آپ کے سلام کا جواب دیا، مرحبا کہا اور دعا دی، اس وقت آپ نے دیکھا کہ جب حضرت آدم علیہ السلام دائیں جانب دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اور بائیں جانب دیکھتے ہیں تو روتے ہیں، معلوم ہوا کہ دائیں جانب سعادت مند اور بائیں جانب بد بخت روحیں ہیں، دوسرے آسمان پر آپ کی ملاقات حضرت یحی حضرت زکریا اورحضرت عیسی ابن مریم علیہم السلام سے ہوئی، آپ نے ان تینوں کو سلام کیا، انہوں نے جواب دیا اور مرحبا کہا، تیسرے آسمان پر حضرت یوسف علیہ السلام سے، چوتھے پرحضرت ادریس علیہ السلام سے، پانچویں پر حضرت ہارو ن علیہ السلام سے،چھٹے پر حضرت موسی علیہ السلام سے اورساتویں پر آپ کی ملاقات حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی، تمام انبیائے کرام نے آپ کو مرحبا کہا، ختم نبوت کی مبارک باددی اور دعائیں دیں۔
انبیائے کرام سے آسمانوں پرملاقات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سدرۃ المنتہی تک لے جایا گیا، یہ ساتویں آسمان پر بیری کا ایک درخت ہے، اس کا ذکر قرآن کریم میں بھی موجود ہے، اسے سدرۃ المنتہی اس لیے کہا جاتا ہے کہ زمین سے جو چیزیں اوپر جاتی ہیں، وہ سدرۃ المنتہی پر جا کر ٹھہر جاتی ہیں، پھر وہاں سے اوپر اٹھائی جاتی ہیں، اسی طرح جو چیز اوپر سے نیچے آتی ہے وہ بھی سدرۃ المنتہی پر آکر رک جاتی ہے، پھر نیچے اترتی ہے، اسی آسمان پر آپ کے سامنے بیت معمور ظاہر کیا گیا، اس کا ذکر بھی قرآن کریم میں ہے، بیت معمور فرشتوں کا قبلہ اور کعبہ ہے، ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر واقع ہے، فرشتے ہر دن اس کا طواف کرتے ہیں، سدرۃ المنتہی کے قریب آپ نے حضرت جبرئیل امین کو ان کی اصل صورت میں دیکھا۔جنت سدرۃ المنتہی کے قریب ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے
عِند سِدرِ ۃالمنتہی عِندہا جنۃ الماویٰ (النجم)
ترجمہ: سدرۃ المنتہی کے قریب اس کے قریب جنت الماوی ہے۔
یہاں سے آپ کو جنت کی زیارت کرائی گئی اور اس کے بعد جہنم کا مشاہدہ کرایا گیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جگہ لے جایا گیا جہاں صریف الاقلام کی آواز سنی جارہی تھی، یعنی وہ آواز جو قلم سے لکھنے کے وقت پیدا ہوتی ہے، گویا یہ جگہ وہ تھی جہاں فرشتے قضا وقدر کے خدائی فیصلے لوح محفوظ پر لکھنے میں مصروف تھے صریف الاقلام سے گزر کر آپ تجلیات کا مشاہدہ کرتے ہوئے بارگاہِ رب ذوا الجلال میں پہنچے اور اتنے قریب ہوئے کہ اللہ کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صرف دو کمان کا فاصلہ رہ گیا، اسی کو قرآن کریم میں اس طرح تعبیر کیا گیا ہے:
ثم دنی فتدلی فکان قاب قوسین او ادنی(النجم)
ترجمہ: پھر نزدیک ہوا اورلٹک آیا پھر رہ گیا فرق دو کمان کے برابر یا اس سے بھی نزدیک۔
یہ تفسیر صحابہ کرام میں حضرت انس اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، تفسیر مظہری میں

Short URL: https://tinyurl.com/2nfpkvgw
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *