حصول ملازمت کے لیے چند تجاویز۔۔۔۔ تحریر: عبدالرحمن عاجز

Print Friendly, PDF & Email

۔17سے 23سال تک کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد اس وقت پاکستان میں ساڑھے 6کروڑ ہے، جبکہ مجموعی نوجوانوں کا شمار کہیں زیادہ ہے۔ اس تناسب سے برسرروز گار نوجوانوں کا اندازہ لگانا بہت آسان ہے کیونکہ بیروز گار نوجوان وافر مقدار میں دستیاب ہیں۔ جو انتہائی کسمپرسی کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کو گھر والے اور محلے والے بوجھ سمجھتے ہیں۔ نوجوان طبقہ عموماً میٹرک، ایف۔ اے کے بعد سے ہی حصول ملازمت کی تگ و دو میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ دن رات مختلف محکموں کے خالی آسامیوں والے اشتہارات دیکھنا ان کا مشغلہ بن جاتا ہے جبکہ اپنے ڈاکومنٹس والی فائل تیار کر کے رکھی ہوتی ہے۔ ایسے نوجوان ڈگریاں وصول کرنے پر حصول ملازمت کے لیے اپنے ذاتی کوائف (c.v) تمام میسر طریقوں سے مختلف سرکاری و پرائیویٹ محکموں میں صرف پہنچا کر ہی دم نہیں لیتے بلکہ پھر مطلوبہ محکموں میں ان کی آمدو رفت لگی رہتی ہے۔ جس سے وقت کے ساتھ ساتھ خطیر رقم بھی خرچ ہوتی ہے۔ جبکہ اس کشمکش سے دو چار ہونے والے لاتعداد نوکری کے متمنی خواتین وحضرات گھریلو معاملات میں خود کو مبرا سمجھتے ہیں اور دوسرا کوئی (عارضی یا مستقل طور پر)کام دھندابھی نہیں کرتے ۔ پوچھنے پر ایک ہی جواب دے کر سامنے والے کو مطمئن کر دیتے ہیں یا انہیں قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ’’جاب کے لیے اپلائی کیا ہوا ہے‘‘ ہمہ وقت جوابی کال یا لیٹر کے انتظار میں سرگرداں رہنا اپنا وطیرہ بنا لیتے ہیں۔ بلکہ ان کی بے چینی یہاں تک بڑھ جاتی ہے کہ آتے جاتے پوسٹ آفس والوں سے پوچھتے ہیں کہ میرے لیے کوئی لیٹر آیا ہے تو دے دیں یا اگر آئے تو جلد از جلد پہنچادینا۔ بسا اوقات بعض امیدواران جائز و ناجائز حربے استعمال میں لا کر منزل مقصود تک پہنچ بھی جاتے ہیں۔ میں حصول ملازمت کے خواہشمند خواتین و حضرات کو چند ایک کمپیوٹر سے منسلک پروگرامز کا مشورہ دینا چاہوں گا، جن کے سیکھنے سے آپ ہنر مند بھی بن جائیں گے اور حصول ملازمت کے مواقعوں میں بھی اضافہ ہو گا۔ مائیکرو سافٹ آفس(MS) ، ان پیج کمپوزنگ (اردو، انگلش)، ڈیزائننگ (کورل ڈرا، ایڈوب فوٹو شاپ)نیٹ ورکنگ، اخبارات کے لیے آرٹیکلز لکھنا، ویب ڈویلپنگ، آٹو کیڈ اور ویڈیو ایڈیٹنگ یا اس سے ملتے جلتے جو آپ کو زیادہ مناسب لگتے ہیں جس پر آپ جلد گرفت کر سکیں(کوکنگ کے حوالے سے اچھی مہارت حاصل کی جا سکتی ہے جس کا فائدہ کسی ملازمت کی صورت میں اگر نہ بھی ہوا تو تا زندگی گھر میں آپ کے شوہر کو یا آپ کی بیوی اور اہل خانہ کو کھانا کھانے کا مزہ دوبالا ہو جائے گا)میں ان سب کورسز سے پہلے آپ کو قرآن مجید کا ترجمہ اور انگلش بول چال میں مہارت حاصل کرنے کی ترجیح دوں گا۔ یہ وہ کمپیوٹر پروگرامز ہیں جسے چند دنوں یا ہفتوں میں سیکھ کر گھر سے ، محلے میں یا مارکیٹ میں دکان/ دفتر بنا کرذاتی کاروبار شروع کیا جا سکتا ہے، جس کے بے شمار فوائد ہیں اور دوررس نتائج بھی برآمد ہوں گے۔ (سیکھنے کے لیے کسی موزوں انسٹیٹیوٹ یا یوٹیوب سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے) جبکہ ساتھ ساتھ آپ حصول ملازمت کے لیے بھی اپنی توانائی صرف کر سکتے ہیں۔ بیروزگاری جیسے اژدھام کا قلع قمع کرنے کے بعد آپ جب ملازمت کی صورت میں برسرروزگاربن جاتے ہیں تو پھر آپ اپنے مجبوری کے عالم میں شروع کیے ہوئے ذاتی کاروبار کو پارٹ ٹائم رکھیں یا اسے خیر باد کہہ دیں یہ آپ کی ملازمت و طبیعت پر منحصر ہے۔ ویسے تو سرکاری و نیم سرکاری اچھی ملازمت ملنا مقدر کی بات ہے لہٰذا ’’کہیں نہ کہیں صرف قابلیت بھی کام آ جاتی ہے‘‘ دوسری صورت میں آپ حصول ملازمت کے چکروں میں ہی رہتے، یہ تو رب جانے کہ آپ کو jobجلد ازجلد میسر آجاتی یا ساری محنت ہی رائیگاں جاتی اور پھر کئی مہینوں اور سالوں کے بعد آپ کا اپنا کاروباربی۔ اے دہی بھلے، ایم۔ اے تکہ کباب یا کمپیوٹر برگر ہاؤس کی صورت میں منظر عام پر آ جاتا۔ واضح رہے کہ یہاں اس طرح کے کاروبار کی تضحیک کرنا میرا مقصود نہیں بلکہ حصول ملازمت کے لیے آمد و رفت پر خرچ کیے ہوئے روپے پیسے اور وقت کے ضیاع کے بعد ذاتی کاروبار کا خیال آنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ کہاں دن میں خواب دیکھنے والا امیدوار برائے ’’اعلیٰ ملازمت‘‘ اور اب وہ کچھ نہ کچھ کام کر رہا ہے جو انہیں ملازمت کی تلاش کے ساتھ ساتھ ہی آغاز کر لینا چاہیے تھا۔حالانکہ قابلیت کے لحاظ سے ملازمتیں دینا حکومت وقت کا کام ہے ۔ مگر یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑاہوا ہے۔ اور نوجوان طبقہ بھی اس طرح کے حالات میں ایک اچھی نوکری کا سپنا اپنی آنکھوں میں سجائے حصول ملازمت کے لیے ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔لکھاری خواتین و حضرات اس طرح کی مفید تحریریں قارئین کی نذر کرتے رہتے ہیں جس میں معاشرتی بھلائی کا عنصر موجود ہوتا ہے۔ کیونکہ کسی کو اچھا مشورہ دینا بھی ثواب کا باعث بن جاتا ہے۔

507 total views, 2 views today

Short URL: //tinyurl.com/gwejdjs
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *