انسان کو صبح کیسے کرنی چاہیے؟

Asif Iqbal Insari
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: آصف اقبال انصاری
کسی دانا کا قول ہے کہ آدمی جب صبح کرتا ہے تو اسے چار چیزوں کی نیت کرنی چاہیے: 
1۔ اللہ تعالی کے فرائض ادا کرنے کی۔ 
2۔ جن باتوں سے اللہ تعالی نے روکا ہے ان سے رکنے کی۔
3۔ تیسری معاملات والوں کے ساتھ انصاف کرنے کی۔
4۔ جن کے ساتھ جھگڑا ہے، ان کے ساتھ مصالحت کرنے کی۔
کسی بزرگ سے پوچھا گیا کہ آدمی کو اپنے بستر سے کس نیت سے اٹھنا چاہیے؟ فرمایا! کہ اس سوال سے پہلے تو یہ دیکھنا چاہیے، کہ سونا کس نیت سے چاہئے؟ اس نیت کا سوال تو پھر ہوگا۔ جو سونے کی حالت اور کیفیت سے واقف نہیں، وہ جاگنے کا طریقہ کیا جانے گا؟؟۔ پھر فرمایا کہ بندے کو اس وقت تک سونا مناسب نہیں جب تک چار چیزیں درست نہ کرلے۔ پہلی تو یہ کہ اگر کسی شخص کا اس پر کچھ مطالبہ ہے، تو اس معاملے کو ختم کیے بغیر سونا مناسب نہیں، کیا جانے کہ ملک الموت آجائے اور اس حال میں اللہ تعالی کے حضور پیشی ہو کہ کوئی عذر یا دلیل پاس نہ ہو۔ دوسری یہ کہ سونے سے پہلے دیکھ لے، کہ اللہ تعالی کے فرائض میں سے کوئی فرض باقی تو نہیں۔ تیسری یہ کہ سونے سے پہلے اپنے گناہوں سے توبہ کر لے،کہیں ایسا نہ ہو کہ اسی رات ملک الموت آجائے، اور توبہ کیے بغیر ہی موت کی آغوش میں چلا جائے۔ چوتھی یہ کہ سونے سے پہلے اپنی وصیت، صحیح اور جائز طریقے سے لکھی ہوئی ہو،مبادا ایسا نہ ہو کہ وصیت کے بغیر ہی مر جائے۔
حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کہ مجھے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ مجاہد! جب صبح کرے تو تیرے دل میں شام کا خیال نہ آئے، اور شام کرے تو دل میں صبح کا خیال نہ ہو، مطلب موت سے پہلے پہلے اپنی زندگی سے فائدہ اٹھا لے، بیماری سے پہلے پہلے اپنی صحت سے فائدہ حاصل کر لے۔
کہتے ہیں کہ لوگ تین حالتوں میں صبح کرتے ہیں: 
1۔ کچھ لوگ طلب مال میں۔
2۔ کچھ لوگ گناہ کی طلب میں۔
3۔کچھ لوگ صحیح طریق کی طلب میں۔
طلب مال میں صبح کرنے والے، اس مقدار سے زیادہ نہیں کھا سکتے ،جو مقدار اللہ تعالی نے ان کے لیے مقدر فرما دی ہو، گو وہ مال کتنا ہی جمع کر لیں۔ گناہ کی طلب میں صبح کرنے والا ذلت و رسوائی کا منہ دیکھتا ہے۔ صحیح طریقہ کے متلاشی کو اللہ تعالی حق کا راستہ عطا فرماتے ہیں۔ اور حکماء کا قول ہے کہ ہر صبح کرنے والے کو دو باتیں لازم ہیں امن اور خوف ،امن تو یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس کے رزق کی جو کفالت قبول فرمائی ہے، اس پر اطمینان ہو اور اللہ تعالی کے احکام کے معاملے میں خوف اور ڈر رکھے تاکہ ان کو اچھی طرح سے ادا کرسکے، بندہ جب یہ دو کام کرلیتا ہے، تو اللہ تعالی اسے دو چیزوں سے نوازتے ہیں؛ ایک اپنے دئیے ہوئے پر اسے قناعت عطا فرماتے ہیں اور دوسری اطاعت خداوندی میں احساس لذت عطا فرماتے ہیں۔
عامر بن قیس رحمۃ اللہ علیہ نے کسی سے پوچھا کہ تیری صبح کا کیا حال ہے؟ فرمایا: کہ میں نے اس حال میں صبح کی ہے،کہ اپنے اوپر گناہوں کا بوجھ لادے ہوئے ہوں اور اللہ تعالی کی نعمتوں میں دبا ہوا ہوں. کچھ پتہ نہیں کہ میری عبادت، میرے گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں یا نہیں؟؟
کہتے ہیں کہ محمد بن سیرین نے کسی سے حال پوچھا اس نے کہا کہ اس شخص کا کیا حال ہوگا جس کے ذمے 500 درہم کا قرضہ ہے، یہ سن کر محمد بن سیرین گھر تشریف لے گئے، اس کو ایک ہزار دراہم دے کر فرمایا کہ پانچ سو کا قرض ادا کر، باقی 500 اپنے اہل و عیال پر خرچ کر، اس کے بعد پھر کسی سے حال نہیں پوچھا کرتے تھے کہ مبادا وہ اپنا ایسا حال بتائے کہ جس کی اصلاح ان کے ذمہ واجب ہو جائے۔
حضرت ابراہیم بن ادہم رحم? اللہ علیہ فرماتے ہیں: کہ ہر صبح کرنے والے پر چار چیزوں کا شکر ادا کرنا واجب ہے:
پہلا تو بطور شکریہ کہے” سب تعریفیں اس ذات کے لیے ہے جس نے میرے دل کو نور ہدایت سے منور فرمایا اور مجھے اہل ایمان میں رکھا اور گمراہ نہیں کیا”
دوسرا شکر یوں کرے کہ ” تمام تعریفیں اس ذات کے لئے ہیں جس نے مجھے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بنایا” 
تیسرا شکر یہ کرے کہ “اس ذات کے لئے سب تعریفیں ہیں جس نے میرا دل کسی اور کے قبضے میں نہیں دیا”
اور چوتھا شکر یہ کرے کہ ” سب تعریفیں اس اللہ کی ہیں جس نے میرے عیبوں پر پردہ پوشی فرمائی”۔
کہتے ہیں کہ ہر روز ابن آدم پر اللہ تعالی کی طرف سے دس چیزیں لازم ہوتی ہیں: اول یہ کہ اٹھتے وقت اللہ تعالی کا ذکر کرے۔۔۔۔۔۔ اللہ فرماتے ہیں:” یعنی اٹھتے وقت اپنے رب کی تسبیح اور حمد کیا کیجئے”
دوسری چیز خود کے بدن کو چھپانا، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: “اے آدم کی اولاد تم مسجد کی حاضری کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو” تیسری چیز “اپنے وقت پر اچھی طرح سے وضو کرنا”۔
چوتھی چیز” اپنے وقت پر نماز اچھی طرح سے ادا کرنا”۔
پانچویں چیز “رزق کے بارے میں اللہ تعالی پر بھروسہ رکھنا”۔
چھٹی چیز “اللہ تعالی کی عطا پر قناعت کرنا اور اس پر راضی رہنا”۔
ساتویں چیز “اللہ تعالی پر توکل کرنا”۔ آٹھویں چیز “اللہ تعالی کے فیصلے اور حکم پر صبر کرنا”
نویں چیز “اللہ تعالی کی نعمتوں پر شکر کرنا”
دسویں چیز “حلال کھانا”۔
یاد رکھیں! اگر ہر دن کی ابتداء اچھی ہوگی تو انتہاء کے خیر ہونے کی بھی قوی امید ہے۔

Short URL: http://tinyurl.com/y6xtfo7x
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *