صرف پریشانیاں ہی ہمارا مقدر کیوں؟؟؟ ۔۔۔۔ تحریر:ملک محمد شہباز

Malik Muhammad Shahbaz
Print Friendly, PDF & Email

آج کے دور میں جس طرف بھی نگاہ اٹھائی جائے ہر امیر ،غریب، چھوٹا، بڑا، مرد، عورت، جوان ا ور بزرگ پریشان نظر آتے ہیں۔اگر کسی بوڑھے اور بزرگ کو ٹٹولا جائے تو وہ اپنی اولاد کے حوالے سے پریشان نظر آتا ہے کہ اولاد کہنا نہیں مانتی، اپنی من مانی کرتے ہیں، بوڑھے والدین کی ضرورتوں کا خیال نہیں رکھتے، بد تمیزی اور دین سے غفلت بھی بزرگوں کی شکایات میں شامل ہیں۔اگر کسی نوجوان کے حالاتِ زندگی کا جائزہ لیا جائے تو وہ بزرگوں سے بھی زیادہ پریشان نظر آتے ہیں۔ جگہ جگہ درخواستیں جمع کروا کر تھک چکے ہیں مگرکہیں بھی کسی طرح کا کوئی روزگار نہیں ملتا، اپنا اور اپنے گھر والوں کا خالی جیب سے پیٹ کس طرح پالیں۔ اور اس کے برعکس اگر کسی امیر ترین اور دولت مند شخص کے حالاتِ زندگی کے بارے میں دریافت کریں تو بات ہی سمجھ سے بالا تر ہوجاتی ہے جب اس امیر ترین اور ظاہری خوشحال شخص کا جواب یہ ہوتا ہے کہ وہ ساری دنیا سے زیادہ پریشان ہے کہ اس کو کسی پر یقین نہیں ہے دولت کے لُٹ جانے کا خطرہ ہمہ وقت اس کے سر منڈلاتا رہتا ہے۔اس کی تو نیندیں حرام ہو چکی ہیں۔غرض یہ کہ جس کسی کو بھی ٹٹولا اور پھولا جائے اور پریشانی کی دہائی دے رہا ہوتا ہے۔مگر کیا ہم نے کبھی غور کیا ہے کہ پریشانیاں ہی ہمارا مقدرکیوں؟؟؟اگر ہم پاکستان کے علاوہ کسی دوسرے یورپی ملک کی طرف نظر دوڑائیں تو وہاں یہ رونا کم نظر آتا ہے اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے۔یہ سب کچھ ہمارے نصیب میں کیوں؟ میرے خیال میں یہ سارا کچھ دین اسلام سے دوری اور قوانین کے نفاذکی کمی کی وجہ سے ہے۔نہ ہی ہم اسلامی و ملکی قوانین پر عمل کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہماری پریشانیاں بھی ختم یا کم ہونے کا نام نہیں لیتی۔بلکہ دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے، ہر دوسرے دن کسی نہ کسی وجہ سے دھرنا ہورہا ہوتا ہے، کبھی ودہولڈنگ ٹیکس کی وجہ سے،تو کبھی ڈاکٹروں کے مطالبات وجہ بنتے ہیں۔کبھی کوئی مظلوم انصاف نہ ملنے کی وجہ سے خود سوزی پر مجبور ہوجاتا ہے تو کبھی ظالم کی حمایت میں قیادت کے آنے کی وجہ سے معاملہ بگڑ جاتا ہے ۔جوں جوں ہم دین اسلام سے اور اسلام کے نام پر بنائے جانے والے ملک پاکستان کے قوانین سے دور ہوتے جارہے ہیں پریشانیاں ہمارا مقدر بنتی جا رہی ہیں۔مین بات یہ ہے کہ ہم ان پریشانیوں کا حل بھی ٹھیک طریقے سے نہیں تلاش کرتے۔مثال کے طور پر اگر کسی شخص کو پاؤں میں موچ آجائے تو وہ شخص آرام کرنے اور آئیوڈیکس لگانے کی بجائے پیٹ درد کی دوائی کھالے یا کوئی دکھی سا گیت سن لے یا سٹار پلس کا کوئی جھوٹی کہانی پر مبنی ڈرامہ دیکھنے بیٹھ جائے تو اسے آرام خاک آئے گا۔بس یہی اور اس سے ملتی جُلتی وجوہات ہی ہیں جن کے باعث پریشانیاں ہمارا مقدر بن چکی ہیں۔
جیسا کہ چوری ، ڈاکہ ، لوٹ مار کا سلسلہ عام ہو چکا ہے جو کسی صورت تھمنے کا نام ہی نہیں لیتا۔نہ کسی کی عزت و مال محفوظ ہے نہ ہی کسی کی جان۔لٹیرے دن دیہاڑے واردات کر کے اور قتل وغارت کر کے چلے جاتے ہیں مگر ان کا سراغ تک نہیں ملتا ۔اور اگر کوئی مجرم پکڑا بھی جاتا ہے تو دو راتیں بھی حوالات میں نہیں گزرتی کہ پھر سے وہی صورت حال۔اسکی وجہ کیا ہے؟ یہ سب کچھ قوانین کا نفاظ نہ ہونے کی وجہ سے ہے اور اس کے ساتھ ساتھ رشوت، کرپشن، تعلق واسطہ، اور سفارش کا بھی بہت عمل دخل ہے۔اگر خالی چوری کے لیے ہی اسلامی تعلیمات کے مطابق سزا مقر ر کر دی جائے اور اس پر مکمل عمل کیا جائے ۔یعنی چوری ثابت ہو جانے پر صرف ایک چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے تو وہ لاکھوں چوروں کے لیے نشانِ عبرت بن جائے گااور پھر کوئی چور چوری نہیں کرے گا۔اورساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رکھنا پڑے گا کہ چاہے کوئی اپنا ہو یا بیگانہ، دوست ہو یا دشمن، اور بیشک کوئی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔جیساکہ حضور اکرم ﷺ کے دور میں ہوتا تھا۔
آپ ﷺ کی عدالت میں کیس آیا کہ فلاں قبیلے کی فاطمہ نامی عورت نے چوری کی ہے اور اس کی سفارش کے لیے کہا گیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس قبیلے کی فاطمہ تو دور اگر اس کی جگہ میری بیٹی فاطمہؓ بھی ہوتی تو میں محمد ﷺ اپنی بیٹی کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔ہا ں یہی اصل اصول ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے تب ہی مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔پریشانیوں میں کمی نہ ہونے کی ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ پریشانی کے عالم میں ہم لوگ مسئلے کا حل نکالنے اور پریشانی کا سدباب کرنے کی بجائے گانے سننا ، ڈرامے اور فلمیں دیکھنا شروع کردیتے ہیں۔اور ساتھ ہی کہا جارہا ہوتا ہے کہ موسیقی روح کی غذا ہے اس سے پریشانیاں اور بے چینی ختم ہوجاتی ہے ۔حالانکہ یہ بات سراسر بکواس ہے کیونکہ حضرت محمد ﷺ ایک مرتبہ سفر پر جارہے تھے کہ اچانک بانسری کی آواز آنے لگی تو آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں کانوں میں دے لیں تاکہ آواز نہ آئے اور آپ ﷺ نے اپنے ایک ساتھی کی ڈیوٹی لگا دی کہ جب آواز آنا بند ہوجائے تو بتادینا اور صحابی ؓ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اس وقت تک انگلیاں کانوں سے نہ نکالی جب تک بانسری کی آواز آتی رہی۔اور اس کے علاوہ بھی فرمان نبوی ہے کہ گانے سننے والوں کے کانوں میں روز قیامت سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا۔بھلا پھر کس لحاظ سے موسیقی روح کی غذا ہوسکتی ہے؟۔اسلامی تعلییمات میں پریشانی کے عالم میں صبر اور نماز سے مدد لینے کا کہا گیا ہے۔مگر ہم لوگ تو بالکل برعکس ہی چلتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پریشانیاں ہمارا مقدر بنی ہوئی ہیں کیونکہ ہم اسلامی تعلیمات سے بالکل دور ہوچکے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کیے جانے والے اس عظیم ملک پاکستان میں تمام قوانین بھی اسلام کے مطابق بنائے جائیں اور ان کا نفاذ ہر لحاظ سے یقینی بنایا جائے۔اسلامی قوانین کے عین مطابق جزا و سزا کا ایک مکمل نظام ہو ۔کسی سے کوئی رعایت ہ برتی جائے چاہے کوئی اپنا بھائی، بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔ہر ایک کو اس کے جرم کی پوری پوری سزا دی جائے ۔چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹ دیا جائے، زنا کرنے والے کو پتھر اور کوڑے مار مار کر سنگسار کیا جائے،ناحق قتل کرنے والے کو سرعام قتل کیا جائے،زکواۃ کے نصاب میں آنے والے شخص سے ڈنڈے کے زور پر زکواۃ لی جائے،بھرتیاں میرٹ پر کی جائیں ، حق والے کو اس کا حق دیا جائے، اسی طرح تمام شعبہ ہائے زندگی کے لیے تمام اصول اسلامی قوانین کے عین مطابق بنائے جائیں تو نہ ہی کوئی بے روزگار ، اور بے یارو مدد گار ہوگا نہ ہی کوئی بھوکا سوئے گا۔نہ کوئی چور چوری کرے گا نہ ہی کسی عورت کی عزت لوٹی جائے گی۔نہ زنا کاری و بدکاری ہوگی اور نہ ہی قتل و غارت ہوگی۔کرپشن، لوٹ مار، رشوت، سود، ظلم و زیادتی، دھوکہ دہی،بے ایمانی، حسد، بغض، نفرت، گلے ، شکوے، غیبت و چغلی، بے حیائی، بدتمیزی، لڑائیاں، جھگڑے، بے چینی اور ہر طرح کی پریشانیوں کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔امن ،خوشحالی ، روزگار، پیار، محبت، شفقت، عزت، سکون،چین،خوشی، اتفاق، اتحاد،اور ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہوں گی۔یہ سب کچھ صرف اور صرف اسلام کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کی وجہ سے ممکن ہوپائے گا۔اسی لیے میری تمام امت مسلمہ سے دلی اپیل ہے کہ خدارا آپسی اختلاف بھلا کر سب کے سب ایک ہوجائیں، شیعہ ، سنی، دیوبندی، اہلحدیث، قادری، چشتی، بریلوی،حنبلی،سیفی کے چکروں سے باہر آجائیں اور صرف اور صرف ایک مسلمان قوم بن جائیں۔جیسا کہ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ نے فرمایا۔
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے سب محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
اور اللہ رب العامین نے اپنے قرآن پاک میں بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ’’ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو‘‘۔ہماری ہر طرح کی بھلائی اور کامیابی صرف اور صرف اتحاد و اتفاق اور اسلامی ضابطہ حیات میں ہے لہذا پریشانیوں سے نجات کے حصول کے لیے ہمارے پاس کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے۔اس لیے ہمیں اپنے سارے آپسی اختلاف بھلا کر ایک ہوجانا چاہیے۔کسان اور اس کے بیٹوں والا قصہ تو ضرور ذہن میں ہوگا کہ وہ ہر بات پہ اختلاف رکھتے تھے ، چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑتے جھگڑتے تھے، ان کے درمیان اتفاق نام کی کوئی چیز نہ تھی، کسان نے ان کو سمجھانے کے لیے لکڑیاں اکٹھی کرنے بھیج دیا۔ جب لکڑیاں لے کر آئے تو ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک لکڑی توڑنے کی لیے دی ۔سب نے بڑی آسانی کے ساتھ اپنی اپنی لکڑی توڑ کر دکھا دی۔اس کے بعد کسان نے کچھ لکڑیوں کا ایک گٹھا باندھنے کو کہا ارو گٹھا بندھ جانے کے بعد اس بوڑھے کسان نے سارے بیٹوں کا باری باری اس گٹھے کو توڑنے کا حکم دیا۔مگر سب کے سب ناکام رہے اور کوئی بھی ان گٹھے کو نہ توڑ پایا۔تو اس پر کسان نے سمجھایا کہ اگر تم لکڑیوں کی طرح اکٹھے اور اتفاق سے رہو گے تو کوئی بھی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔لیکن اگر تم لڑتے جھگڑتے رہو گے اور ایک دوسرے کے ساتھ اختلاف رکھو گے تو ہر کوئی تمہیں نقصان پہنچا ئے گا۔درج بالا واقعات و حالات سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ ہمیں آپس کے تمام اختلاف ختم کر کے ایک امت مسلمہ اور پاکستانی بن جانا چاہیے۔اور ہمیں ہمارے ملک کی خاطر متحد ہو جانا چاہیے۔ اس کے بعد ایک انڈیا ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کے یہود و نصاریٰ اور کفار جمع ہوکر بھی اسلام اور پاکستان کا ایک بال بھی بانکا نہیں کرسکیں گے۔اور ملک پاکستان پر حملہ کرنے کا سوچنا تو دور بلکہ میلی نگاہ سے دیکھنے کی جرات بھی نہیں کرسکیں گے۔اور ملک کے ہر ایک دشمن کو منہ کی کھانی پڑے گی ۔ ایسے میں ہمارا یہ ملک پاکستان ترقی و خوشحالی کے لحاظ سے پوری دنیا میں سب آگے کھڑا ہوگا۔پھر تمام لوگوں کی تمام پریشانیاں ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گی اوروہ وقت انشاء اللہ ضرور آئے گا کہ جس وقت کسی کی زبان پر کبھی بھی یہ الفاظ نہیں آئیں گے کہ صرف پریشانیاں ہی ہمارا مقدر کیوں۔۔۔؟؟؟

Short URL: http://tinyurl.com/jhdxg57
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *