دوسرا موقع

Print Friendly, PDF & Email

آگ کی لمحہ بہ لمحہ حدت میرے وجود کو خاکستر کر رہی تھی۔تپش سے میری پگھلتی ہڈیوں کی آواز میرے کانوں تک آ رہی تھی۔تا حد نگاہ تک یہ آلاؤِ آتش پھیلا تھا۔میری آنکھوں پر پڑتا کھولتا پمجھے سوچ سے بیگانہ کر رہا تھا۔آدھ کھلی آنکھوں سے مجھے بخشو کا چہرہ نظر آیا جو نفرت سے اپنی کڑی نگاہ سے مجھے دیکھ رہا تھا۔
’’ب بچاؤ! ک ک کوئی ہے ؟ خدا کے واسطے کوئی تو مجھے نکالو یہاں سے۔۔بخشو تو میری مدد کیوں نہیں کر رہا؟ ب ب بخشو و و ‘‘۔
میری کربلاتی آواز پہ کوئی کان کیوں نہیں دھر رہا؟پتا نہیں زینت کہاں ہے؟ اور اور مصعب اس کا بھی کچھ پتا نہیں۔۔وہ وہ ضرور مجھے بچائے گا۔پر پہلے پتا تو چلے میں ہوں کہاں؟
ارے سنو ! کسی کی آواز آ رہی تھی۔کوئی کہہ رہا تھا۔
’’یہ آگ، یہ تپش سب تم نے اپنے ہاتھوں لگائی ہے۔اس الاؤ کے ذمہ دار تم خود ہو۔تمہیں سنبھلنے کے لئے، اس ابدی زندگی کو راحت بنانے کے لئے بہت سے موقع دئیے تھے۔پر تم اپنی خواہش کے غلام بنے رہے
کیا تمہیں معلوم نہیں تھا کہ اس کے لئے دو گنا عذاب ہے جس نے دوسرے کی دنیا کی خاطر اپنی آخرت تباہ کر ڈالی۔ آج اس حال کے ذمہ دار بھی خود ہو تم۔‘‘
آہ۔میرے سامنے میری زندگی کی کتاب سنائی جا رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں سیٹھ حشمت دین اپنے ذاتی سٹور کا مالک تھا۔رمضان آتے ہی میرے تیور اور اشیاء کے نرخ آسمانوں کو چھونے لگتے تھے۔ادھار اور چھوٹے لوگوں ،دونوں سے ہی مجھے چڑ تھی۔ادھر کسی بیچارے قسمت کے مارے نے ادھار کی بات کی ادھراسے میرے بگڑتے تیور اور گالیوں کے طوفان کا سامنا کرنا پڑا۔آخر کو میرا جمع کیا ’’سٹاک‘‘ ان جیسے مفت حوروں کے لئے نہیں تھا۔
ہر سال ماہ رمضان میں میرے سٹور پہ لگی قیمتوں کی لسٹ مختلف ہندسوں سے سجتی تھی۔یوں جیسے مہنگائی میرے بنک اکاؤنٹ میں اضافے کرنے کے لئے ہی آتی تھی۔
میری اماں اٹھتے بیٹھتے بولتی رہتیں
’’ پتر! سانوں سب نوں اللہ سوہنے نے بنایا اے۔ویکھ تو اج کسے دے کم آوے گا تے کل نوں ترارستہ ای سوکھا ہووے گا۔‘‘
میری بیوی زینت عقل کی ماری وہ بھی کہتی رہتی کہ میں ایسے نہ کیاکروں۔
’’آپ سمجھتے کیوں نہیں؟ اتنے مبارک مہینے کا تو خیال کریں۔ویسے بھی دوسروں کو برا بھلا بول کے آپ کی زبان کا روزہ تو ٹوٹ ہی جاتا ہے۔کیا فائدہ ایسے روزے رکھنے کا؟ جب آپ نے دنیا کمانی ہے۔اللہ کو ہماری بھوک پیاس سے کوئی غرض نہیں ہے‘‘۔
زینت سے روز ہی ایسی بحث ہوتی۔
پریہ میرا کاروبار تھا۔ وہ پاگل اتنا بھی نہیں سمجھتی کہ میں یہ سب ہمارے بیٹے کے لئے ہی تو کر رہا تھا۔ساری دنیا رمضان میں دوگنا کماتی ہے ۔میں نے کچھ انوکھا تو نہیں کیا ۔
اس دن سترھواں روزہ تھا۔جب سٹور پہ خستہ کپڑے پہنے بخشو آیا۔وہ میرا ملازم تھا۔میری عادت جانتے ہوئے بھی اس نے ادھار مانگا تھا۔شاید اس کا بیٹا بیمار تھا ۔اور پیسوں کی کمی کے باعث وہ مجھ سے ادھار سامان لینے آیا تھا۔۔
’’سیٹھ صاحب ! خدا کے لئے ۔۔مجھے ادھار پہ سامان دے دیں۔میرا یقین کریں ۔میں عید کے بعد دوگنی محنت کر کے سارا ادھار اتار دوں گا۔سیٹھ صاحب۔۔۔‘‘۔۔
’’حد ہوتی ہے۔سمجھ نہیں آتا تمہیں۔جو میں تمہیں اور تم جیسے لوگوں کو دوگنی محنت کی امید پہ سامان دینے لگوں تو بس ہو چکا کاروبار۔چلو نکلو یہاں سے۔میں نے تم لوگوں کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا۔‘‘۔
’’خدا کے لئے۔میری بات تو سنیں۔س س سیٹھ صاحب۔۔۔‘‘۔۔
’’اف ف ایک تو یہ لوگ۔چین ہی نہیں لینے دیتے۔ایسے منہ اٹھا کے مانگنے آتے ہیں جیسے انہی کے لئے یہ سٹور کھولا ہے۔ارے میں ان کے باپ کا نوکر ہوں ۔جو ادھار پہ سامان دوں۔ذلیل لوگ ۔‘‘
بخشو پہ مجھے بہت غصہ آ رہا تھا۔اس روز میں نے گھر آ کے افطاری کی پھر عشاء پڑھ کے سو
گیا اور آنکھ کھلی تو خود کو ایک بڑے آلاؤ میں گھرا پایا۔
’’ن ن۔نہیں۔‘‘۔۔۔ اندوہناک چیخ میرے حلق سے نکلی۔
’’کیا ہوا۔آپ ٹھیک تو ہیں؟میں کچن میں سحری تیار کر رہی تھی۔کہ آپ کے چیخنے کی آواز آئی۔‘‘ زینت پریشان کھڑی نظر آئی۔
’’اف اف یہ سب خواب تھا۔اگر کل کو یہی سب ہوا تو۔۔۔نہیں ۔اللہ نے مجھے ایک اور موقع دیا ہے۔مم میں یہ موقع ضائع تہیں کروں گا۔اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے مجھے سب ٹھیک کرناہو گا۔ میں ابھی نماز کے بعد بخشو کے گھر جاتا ہوں۔۔۔‘‘۔ میری آواز لرز رہی تھی۔
زینت کی آنکھ میں آنسو تھے۔وہ رب کی شکر گزار تھی جس نے اس کے مجازی خدا کو وقت رہتے سنبھلے کا موقع دیا تھا۔رمضان کی برکتیں دکھائی دے رہی تھی۔۔۔

(نوریہ مدثر، سیالکوٹ)

Short URL: http://tinyurl.com/jqocgku
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *