سیاست دانوں نے قومی احتساب بیورو کے پر کاٹ دیے

Mir Afsar Aman
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: میر افسر امان

پارلیمنٹ نے صدرمملکت عارف علوی صاحب کے پاس نیب اورانتخابی اصلاحات کا ترمیمی بل دستخط کرنے کے لیے بھیجا تو صدر نے کئی اعتراضا ت لگا کر واپس پارلیمنٹ کے پاس بھیج دیا۔ صدر کے اعترضات کو قابل عمل نہ سمجھا گیا ۔ ملکہ صدرمحترم پر شدید تنقید کی گئی۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر یہ دونوں بل پاس کرا لیے گئے۔ذرایع کے مطابق موجودہ حکومت کا این آر او (2)ہے۔ پارلیمنٹ میں حقیقی اپوزیشن نہ ہونے کی وجہ سے سیاست دانوں نے نیب کے پر کاٹ دیے ہیں۔
ایوان بالا یعنی سینیٹ اور ایوان زرین یعنی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے انتخابی ترمیمی بل2022ءاور قومین احتساب بیورو ترمیمی بل2022ءمنطور کر لیا۔نوٹیفیکیشن جاری ہونے سے اب یہ قانون بن گیا ہے۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق آئین کی دفعہ 75 شق( 2) کے تحت مشترکہ اجلاس میں دونوں قانون منظور کیے گئے۔ جماعت اسلامی کے ایوان بالا میں اکیلے ممبر نے ان بلوں ترمیم پیش کیں۔ مگر اس کو بلڈاز کر دیا گیا۔اس قانون کے مطابق قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کی ریٹائرمنٹ کے بعد ڈپٹی چیئرمین قائم مقام چیئر مین کے فرائض ادا کرے گا۔ڈپٹی چیئرمین کی عدم موجودگی پر نیب کے کسی بھی سینئر ممبر کو چیئر مین کے فرائض ادا کرنے ہو نگے ۔ڈپٹی چیئرمین کا تقرر صدر مملکت کے بجائے حکومت کرے گی۔نئے قانون کے مطابق چیئرمین کی تقرری کی مشاورت دو ماہ پہلے شروع کی جائے گی۔جو 45 دن میں مکمل ہو جائے گی۔وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان اتفاق نہ ہونے پر معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گا۔پارلیمانی کیمٹی 30 روز میں چیئرمین کا نام فائنل کرے گی۔چیئرمین کے تین سال پورے ہونے پر ان کو ایکسٹیشن نہیں دی جائے گا۔ایکٹ کے مطابق ٹیکس ،فاقی صوبائی کابینہ،کونسلر اور اسٹیٹ بنک کے فیصلے نیب کے داہرہ اختیار سے باہر ہونگے۔مالی فائدہ نہ اُٹھانے کی صورت میں وفاقی یا صوبائی کابینہ کے فیصلے اب نیب کے داہرہ اختیار میں نہیں آئیں گے۔مالی فائدہ اُٹھانے کی صورت میں وفاقی یا صوبائی کابینہ کے فیصلے نیب کے داہرہ اختیار میں نہیں آئین گے۔مالی فائدہ لینے کے ثبوت کے بغیر طریقہ کار کی خرابی پر نیب کی کاروائی نہیں ہو گی۔وفاقی اور صوبائی ٹیکس معاملات بھی نیب کے داہرہ اختیار سے نکال دیے گئے ہیں۔ترمیمی بل کے مطابق وفاقی صوبائی قوانین کے تحت بنی ریگولیٹری باڈیز کے کیسز پر نیب کا اختیار ختم کر دیا گیا ہے۔کسی بھی ریگولیٹری ادارے کے فیصلوں پر نیب کاروائی نہیں کرے گا۔نیب کے قوانین پر محض گمان پر ملزم کو سزا کی شق( 14) ختم کر دی گئی۔ہے۔چیئرمین ملزم کے فرار ہونے پر یا شہادتیں ضائع کرنے پرٹھوس شواہد پر ورنٹ جاری کر سکے گا۔نیب افسران پر انکواری یا انوسٹی گیشن کی کاروائی عام کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ عام کرنے کی صورت پر نیب کے افسرپر ایک سال قید اور دس لاکھ جرمانہ ہو گا۔احتساب ایکٹ کے مطابق احتساب عدالتوں میں ججز کی تعیناتی تین سال کے لیے ہو گی۔ مقدمات کے فیصلے ایک سال میں ہونگے ۔
احتساب عدالت کے جج کو ہٹانے کے لیے متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت ضروری ہو گی۔گرفتاری سے قبل نیب شواہد کی دستیابی یقینی بنائے گی۔جھوٹا ریفرنس داہر کرنے پر پانچ سال کی قید ہو گی۔
قومی احتساب بیورو ایکٹ میں یک طرفہ ترمیم کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ تو این آر( 2) ہے۔اس سے حکمرانوں کو کسی قسم کے احتساب سے دور رکھنا ہے۔احتساب کرنے والے نیب کے افسران کو خوف زدہ کرنا ہے۔نیب اب لوٹ مار کرنے والوں کا احتساب کرنے پر سو دفعہ سوچے گا کہ کہیں خود احتساب کے شکنجے میں نہ پھنس جائے۔غلطی سے ریفرنس داہر کرنے پر اس نیب افسر کا پانچ سال کی سزا ہو گی۔کسی تحقیقی افسر کی تحقیق غلطی سے سامنے آ گئی تو اسے ایک سال کی سزا اور دس لاکھ جرمانہ ہو گا۔
صاحبو!کیاہماری عدالتوں میں آئے روز جھوٹ مقدمے سامنے نہیں آتے۔بعض اوقات تو عدالتیں میںکئی لوگ جھوٹے مقدموں میں قید کرلیے جاتے ہیں برسوں قید رہنے کے بعد اعلیٰ عدالت سے انصاف ملتا ہے۔مگر جھوٹا مقدمہ داہر کرنے والے کسی شخص کو کبھی سزا ملی ہے؟کسی جھوٹی گواہی والے سے باز پرس ہوئی ہے؟غلط تحقیق کرنے والے اور بے گناہوں کو سزا دلوانے کسی افسر کو آج تک کوئی سزا ملی ہے؟ان قوانین کے ہوتے ہوئے نیب کا کوئی افسر کسی بھی کرپشن کرنے والے حکمران پر ہاتھ نہیں
ڈال سکے گا۔ جب کہ ملزم اقتدار میں بھی ہو۔بات جہاں بھی ختم نہیں ہوتی۔ترمیم کے مطابق دفعہ( 21) جی کے تحت بیرون ملک سے آیا ہوا ثبوت نیب عدالتوں میں قابل قبول

نہیں ہوگا۔دفعہ( 14) کے تحت ملزم کے ذمہ بار ثبوت پیش کرنے کے بجائے استخاثہ پر یہ ذمہ داری ڈال دی گئی ہے کہ ملزم کے یہ اثاثے ناجائز ہیں۔دفعہ(9)ایکس الف اور دفعہ( 5) ایس کے مطابق مفادعامہ کیس میں متاثرین کی کم از کم تعداد سو ہونا لازم کر دیا گیا ہے۔دفعہ( 4) کے تحت ریگورلیٹریز اور ببےروکریسی کی بدنیتی پر مبنی فیصلوں کا احتساب نہیں ہو سکے گا۔دفعہ( 23) کے مطابق ملزم دوران تفتیش اپنے اثاثے فروخت کر سکے گا۔
احتساب بیوروپہلے صدرمملکت کے تحت تھا۔اب اسے حکومت کے محکمہ داخلہ کے تحت کر دیا گیا ہے۔اس طرح ہر طریقے سے احتساب کو مشکل سے مشکل ترین کر دیا گیا ہے۔اس قانون میں ملزم کو ہر طرح کی سہولتیں دے گئیں ہیں۔مگر احتساب پرمامور ر نیب افسران کو کسی قسم تحفظ مہیا کرنے کا سوچا بھی نہیں گیا۔عملاً ملک میں احتساب کے عمل کو ختم اور نا ممکن بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ایسی کوشش کو کوئی بھی انصاف حلقے سراہا نہیں سکتے۔بلکہ یہ کہنا بجاہو گا کہ سیاست دانوں نے قومی احتساب بیورو کے پرکاٹ دیے۔اپنے لیے خود این آر او (2)حاصل کر لیا۔

Short URL: https://tinyurl.com/2ll5asxp
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *