مغل اعظم کے دربار میں شنوائی؟۔۔۔۔تحریر: شفقت اللہ

Shafqat Ullah
Print Friendly, PDF & Email

پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک مسافر کاسفر کے دوران ایک گاؤں سے گزرہوا جو ٹھگوں کے گاؤں کے نام سے مشہور تھا وہاں اسے شام ڈھل گئی تو اسنے رات گزارنے کیلئے ایک شخص سے رہائش کا مطالبہ کیا جو کہ اسے با آسانی میسر ہو گئی ۔اس شخص کے پاس ایک گھوڑی بھی تھی جو پیٹ سے تھی اور اللہ کی کرنی ایسی ہوئی کہ اسی رات اس گھوڑی نے بھی بچہ دے دیا۔صبح ہوئی تو وہ مسافر اپنی گھوڑی اور اسکے بچے کو لے کر رخصت ہونے لگا تو اس شخص نے روک لیا اور بلا جھجک کہا کہ میری بھینس کا بچہ تم کیوں لے کر جا رہے ہو؟مسافر شخص بہت پریشان ہوا اور اسنے کہا کہ یہ تو کہیں سے بھینس کا بچہ لگتا ہی نہیں اور تم نے کوئی گھوڑی رکھی نہیں ہوئی تھی یہ بچہ میری گھوڑی نے رات پیدا کیا ہے کیونکہ وہ پہلے ہی پیٹ سے تھی!!لیکن وہ میزبان شخص اپنی بات پر بضد رہا اور اس مسافر کی ایک نہیں سنی اسی بحث میں جب لوگوں کا وہاں حجوم ہو گیا تو انہوں نے کہا چلو ہمارے سر پنچ کے پاس چلتے ہیں اس سے فیصلہ کروا لیتے ہیں اس بات پر دونوں فریق راضی ہو کر اس گاؤں کے سر پنچ کے پاس چلے گئے ۔ وہاں جب سر پنچ نے دونوں فریقین کی بات سنی تو اس نے فیصلہ کیا کہ مجھے یہ تو بچہ کہیں سے بھی گھوڑی کانہیں لگتا اسی لئے یہ مسافر کا نہیں ہے اور مسافر جھوٹ بول رہا ہے جس پر مسافر نے کہا نہیں تم سب ملے ہوئے ہو اس کا فیصلہ ساتھ والے گاؤں کے سر پنچ سے کرواتے ہیں ! جب بات اس تک پہنچی تو سر پنچ نے سنا کہ وہ گاؤں والے توویسے ہی ٹھگ ہیں اور اگر میں نے ان کی مخالفت کی جیسا کہ وہ جھوٹے ہیں اور اس مسافر شخص کی گھوڑی کے بچے پر قبضہ کر رہے ہیں تو آنے والے وقت میں مسافر تو یہاں نہیں ہو گا لیکن یہ لوگ میرے ساتھ بھی ایسے ہی فراڈ کر سکتے ہیں اسی ڈر کے تناظر میں جب اس کے پاس دونوں فریقین مسافر اور میزبان سمیت باقی پنچائیت گئی تو اس سر پنچ نے کہا کہ آج مجھے اپنے بزرگوں کی بات سچ ہوتی دکھائی دیتی ہے انہوں نے کہا تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ جب ساتھ والے گاؤں کی بھینسوں کے بچوں کی شکلیں گھوڑوں کے بچوں کی شکل کے پیدا ہوں گے اور آج یہ میرے سامنے ہے !!!!! یہ بات سن کر مسافر نے سوچا کہ یہاں تو سب ہی ٹھگ اکٹھے ہوئے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ گھوڑی بھی میرے ہاتھ سے چلی جائے اور میں دیکھتا رہ جاؤں اسنے حکمت جانی اور گھوڑی کا بچہ انہیں دے کر جان چھڑانے میں کامیاب ہوااس کے جانے کے بعد وہ میزبان اور اس کے گاؤں والے اس سر پنچ کے سامنے کھڑے رونے لگ گئے سر پنچ نے شش پنج ہو کر سوال کیا کہ کیا ماجرا ہے آپ لوگ کیوں رو رہے ہیں ؟؟؟ تمام لوگوں نے کہا کہ ہم یہ سوچ کر رو رہے ہیں کہ جب آپ نہیں رہیں گے تو ہمیں ایسا انصا ف کون دے گا جو آپ نے ہمیں دلایا ہے ۔
اسی طرح جو بھی کمیشن پاکستان میں بنائے گئے ہیں وہ اس پنچائیت سے الگ نہیں کہ جس میں کوئی نہ کوئی لائحہ عمل اختیار کر کے اپنے کار خاص کو بچانے لکا راستہ نکال لیا جاتا ہے ۔جب سے پاناما پیپرز کا معاملہ عالمی سطح پرزیر بحث ہے ملک بھر میں سیاسی سرگرمیاں اور جوڑ توڑ بھی معمول بن گیا ہے آئے روز جلسے ،دھرنے ،اور بیان بازی کے ساتھ ساتھ قوم سے بڑی بڑی سیاسی شخصیات نے اپنے سیاسی مستقل کے استحکا م کیلئے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کر رکھی ہے ۔اپوزیشن جماعتوں نے تو حد کر دی ہے پوری دنیا میں یہ ڈھنڈورا پیٹ کر کہ جس ملک میں وہ رہ رہے ہیں اس ملک کا وزیر اعظم انتہائی کرپٹ اور غریبوں کا استحصال کرنے والا ہے اور وزیر اعظم جواب میں کہتے ہیں کہ کمیشن بنایا جائے گا مطلب قوم کو نہ تو کوئی جواب دینا چاہتا ہے اور نہ ہی عوام کے وجود کو کوئی تسلیم کرتا ہے !!خیر وزیر اعظم نے اپوزیشن کے دباؤ میں آ کر کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں چارٹر ڈ اکاؤنٹینٹ اور حساس اداروں کے ٹاپ افسر تحقیقات کیلئے شامل ہونگے اور ا س کمیٹی کی سربراہی ایک ریٹائرڈ جج کریں گے لیکن اس تحقیقاتی کمیٹی کے سرپر بھی ایک ننگی تلوار لٹکا دی گئی ہے جسکا نام ٹی او آر
(TERMS OF REFERENCE )
ہے ۔آپکو بتا تا چلوں کہ یہ ٹی او آر ایسے شرائط و ضوابط ہیں کہ جو اس کمیٹی پر لاگو کئے جائیں گے اور ان کیلئے تحقیقات کیلئے ایک دائرہ کار اور حد قائم کی جائے گی کہ جس میں رہتے اور اس کی پیروی کرتے ہوئے کمیٹی اپنے فرائض سر انجام دے گی۔پاکستان اور انڈیا کی تاریخ کا ریکارڈ ٹوٹتا دکھائی نہیں دیتا کہ آج تک دونوں ممالک میں کبھی بھی کسی سیاسی شخص کو استحصا ل اورکرپشن کی مد میں سزا نہیں دی گئی ہے جبکہ چین میں کرپشن کی سزا چاہے وہ ایک روپے کی بھی کیوں نہ کی گئی ہو بلا امتیاز سزائے موت ہے اسی طرح دیگر ممالک میں بھی اس کیلئے سزا رکھی گئی ہے لیکن پاکستان میں اس کو غیر اخلاقی حرکت کہا جاتا ہے۔گزشتہ دنوں میں ٹی او آر دینے کیلئے ایک کمیٹی کا اجلاس وزیر خانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہوا جس میں وزیر اعظم کے اسسٹنٹ ،وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور وفاقی وزیر قانون کے ساتھ دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی جس میں تحقیقاتی ٹیم کیلئے بینکنگ ایکسپرٹ اورانٹیلی جنس ایکسپرٹس پر مشتمل لوگوں سے کام لیا جائے گا اس ٹی او آر کا لاگو ہونا عوام اور اپوزیشن کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے کہ جب کمیٹی بنائی گئی ہے تو اس کو اپنی مرضی سے کام کرنے دیا جائے نہ کہ اس پر پابندیاں عائد کر کے اسکے کام میں مداخلت کی جائے ہم پاکستان کی تاریخ میں دیکھ سکتے ہیں اور زیادہ دور نہیں جائیں تو اسی دور حکومت کی بات کر لیتے ہیں کہ جب سانحہ ماڈل ٹاؤن ہو ا تو اسکے لئے بھی ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کیا گیا ،اسی طرح باچا خان یونیورسٹی پشاور ،سانحہ پشاور اور لاہور گلشن اقبال پارک میں ہونے والے دھماکے پر بھی کمیشن تشکیل دیا جا چکا ہے لیکن کیا ان کمیشنوں کا آج تک کوئی فیصلہ بھی ہوا ہے؟کیا آج تک کسی بھی مظلوم کو انصاف ملا ہے؟اس کمیشن کا مستقبل بھی باقی تمام کمیشنوں سے کوئی الگ نظر نہیں آتا اگر دیکھا جائے تو یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ اس ملک میں بھی ٹھگوں کی سر پنچی ہے سب کے سب ملے ہوئے ہیں اور عوام کی امانت میں پوری پوری خیانت کر رہے ہیں اب عوام سمجھ داری کا مظاہرہ کرے اور کم سے کم گھوڑی بچا لے بچہ تو ہاتھ سے جا چکا ہے ۔

Short URL: http://tinyurl.com/hf6vesk
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *