منشیات کا بڑھتا استعمال، ہماری ذمہ داریاں

Print Friendly, PDF & Email

تحریر : محمد مظہررشید چودھری

پاکستان کی آبادی کا سب سے زیادہ حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے ”اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام“ (یو این ڈی پی) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی64 فیصد آبادی30 برس سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے جبکہ 29 فیصد آبادی کی عمر15 سے 29برس کے درمیان ہے۔ جنوبی ایشیا کے ممالک میں افغانستان کے بعد پاکستان دوسرا ملک ہے جس کی زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔افسوس کہ ان میں سے اکثر نوجوانوں کو معاشرے کے ناسوروں نے راتوں رات دولت کمانے کے چکر میں منشیات جیسی لعنت میں مبتلا کر رکھا ہے، انسداد منشیات کے عالمی دن کا آغاز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک قرارداد سے ہوا یہ قرارداد7دسمبر1987 ، 42/112جنرل اسمبلی ریزولیشن منظور کی گئی ،1989سے 26کو انسداد منشیات کا عالمی دن منایا جاتاہے ، سانچ کے وائین کرام !ہم میں سے بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ منشیات سے مراد ایسی اشیاء جو انسان کی ذہنی کیفیتوں اور رویوں کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ، آج سے دو دہائی پہلے تک نشہ کی جن اقسام کے بارے لوگ زیادہ آگاہ تھے وہ چرس ،افیم، ہیروئن، کوکین اور الکوحل تھے جبکہ اب سرنجوں سے(ٹیکوں) نشہ، شیشہ حقہ ،اور آئس کا نشہ بھی عام ہو چکا ،نشئی نشے کے بغیر اپنی زندگی کا تصور بھی نہیں کرسکتا جس کی وجہ سے بہت جلد جھوٹ بولنا، چوری کرنا خاص طور گھر کی اشیاءچوری چھپے بیچنا اور عزیز و اقارب سے دوری اختیار کرناشروع کر دیتا ہے اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ نشے کا آغاز سگریٹ نوشی سے شروع ہوتا ہے اور پھر چرس اور دیگر نشوں کا عادی بنا دیتا ہے ،نشئی افراد کو جب ہم کسی سڑک یا ڈھیر پر نشے کی حالت میں پڑا دیکھتے ہیں تو پہلا تصور جو ذہن میں آتا ہے کہ یہ شخص بری صحبت کا شکار ہو کر یہاں پہنچا ہے لیکن موجودہ دور میں دیکھا جائے تونشے کا آغاز بازار میں فروخت ہونے والی اشیاءجن میں سونف سپاری ، گٹکا ، مشروبات وغیرہ اور بعض دفعہ شدید کسی بیماری میں یاذہنی تکالیف ،خاندانی جھگڑوں سے تنگ آکر ذہنی سکون اور آرام کے لئے نشہ آوار ادویات کا سلسلہ شروع کیا جاتا ہے جو بڑھتا بڑھتا ان چیزوں کا عادی بنا کرپھر کہیں کا نہیں چھوڑتا ،بعض دفعہ جسمانی تکلیف دور کرکے سکون حاصل کرنے کے لئے بھی ایسی ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے جن کے مسلسل استعمال سے انسان ا±نکا عادی ہو جاتا ہے ،چند زرائع کے مطابق ایکسپائر ہوجانے والی پیراسیٹامول، پیناڈول اور دیگر نزلہ، زکام کی ادویات سے اسمگلرز ایفیڈرین (Ephedrine ) اور ڈی ایکس ایم یعنی ڈیکسٹرو میتھورفان نکالتے ہیں جس سے ”آئس“ نامی نشہ تیار کیا جاتا ہے جوکہ آجکل تعلیمی اداروں سمیت پوش علاقوں کے نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہورہا ہے ،”کرسٹل میتھ “یا ”آئس “ کیا ہے؟ ”کرسٹل میتھ“ نشے پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ” کرسٹل“ یا ”آئس“ نامی یہ نشہ ”میتھ ایمفٹامین“ نامی ایک کیمیکل سے بنتا ہے۔ یہ چینی یا نمک کے بڑے دانے کے برابر ایک کرسٹل کی قسم کی سفید چیز ہوتی ہے جسے باریک شیشے سے گزار کر حرارت دی جاتی ہے۔ اس کے لیے عام طور پر بلب کے باریک شیشے کو استعمال کیا جاتا ہے جبکہ نشہ کرنے والے اسے انجکشن کے ذریعے بھی جسم میں داخل کرتے ہیں۔ڈاکٹروں کے مطابق”آئس“ کے مسلسل استعمال سے انسان میں مسرت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور توانائی کے مشروب کی طرح جسم میں طاقت محسوس ہوتی ہے۔ ”آئس“ پینے کے بعد انسان کے اندر توانائی دگنی ہوجاتی ہے اور ایک عام شخص 24 سے لے کر 48 گھنٹوں تک جاگ سکتا ہے، اس دوران انہیں بالکل نیند نہیں آتی۔ ”آئس“ تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس نشے میں انسان کا حافظہ انتہائی تیزی سے کام کرتا ہے اور اس میں توانائی آجاتی ہے۔ تاہم جب نشہ اترتا ہے تو انسان انتہائی تھکاوٹ اور سستی محسوس کرتا ہے۔ یہ نشہ بالکل کوکین کی طرح کام کرتا ہے لیکن یہ کوکین سے سستا اور اس سے زیادہ خطرناک ہے ، ایک گرام ”آئس“ دوہزار روپے سے چارہزار روپے میں بھی فروخت ہورہی ہے۔ ”آئس“ کا نشہ کرنے والے اکثر افراد شدید ذہنی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور ان میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں کہ وہ ہر قریبی شخص کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں،کراچی میں پولیس اور رینجرز نے بعض ایسی لیبارٹریز پر چھاپے مار چکی ہے جہاں ”کرسٹل“ تیار کی جاتی تھی جبکہ اس کی ایک بڑی مقدار افغانستان سے اسمگل ہو کر آتی ہے۔ امیر گھرانوں کے نوجوانوں میں ”آئس“ کے استعمال کی ایک وجہ جنسی قوت میں اضافے کی خواہش بھی بتائی جاتی ہے، تاہم اس کے برعکس ”آئس ہیروئن“ کی لت انسان کو ذہنی اور جسمانی معذوری کر رہی ہے۔اس کا عادی انسان ذہنی، جسمانی اور سماجی طور پر معذور ہو جاتا ہے۔گھر کے کسی فرد کا نشے میں مبتلا ہونے کا اثر پورے گھر پر پڑتا ہے خاص طور پر وہ نوجوان جنھیں والدین اعلی تعلیم کے لئے کالجز اور یونیورسٹیوں میں بھیجتے ہیں تاکہ وہ معاشرے کا مفید شہری بننے کے ساتھ والدین کا سہارا بنیں لیکن افسوس کہ چند نادان ا±ن میں سے غلط راستوں پر چل نکلتے ہیں وطن عزیز پاکستان میں 1980کے بعد ہیروئن کا نشہ تیزی سے پھیلا جس کی سب سے بڑی وجہ افغانستان اور روس کی جنگ کے دوران اسلحہ اور منشیات کا پاکستان میں داخل ہونا قرار دیا جاتا ہے پوست کی فصل جوکہ پاک افغان باڈر کے قریبی علاقوں میں کاشت ہوتی تھی وہاں کے رہنے والوں کی آمدن کا بڑا زریعہ تھی اسی پوست سے ہیروئن اور دیگر نشے تیار کئے گئے پوست کی فصل پر پابندی اور اینٹی نارکوٹکس کنٹرول کی کاروائیوں سے بہت حد تک ہیروئن کی سمگلنگ بند ہوگئی لیکن ہیروئن (پاو¿ڈر)کا نشہ کم ہوا تو اور بے شمار نشوں نے معاشرے کے نوجوانوں کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیا ،وطن عزیز پاکستان میں اینٹی ناکوٹکس فورس ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی وجہ سے نشہ آور اشیاء کے خلاف بھر پور کارروائیاں کرتے ہوئے منشیات فروشوں کو گرفتار کیا گیا لیکن اس کے باوجود غیر سر کاری اعدادو شمار کے مطابق ایک کروڑ افراد مختلف قسم کے نشوں کا شکار ہیں جبکہ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ساٹھ لاکھ افراد نشے کے عادی ہیں وطن عزیز میں منشیات جیسی لعنت کے خاتمے اور اس کے خلاف آگہی دینے کے لئے بے شمار این جی اوز اپنا کردار ادا کر رہی ہیں جبکہ ٹریٹمنٹ سنٹر کی کمی شدت سے محسوس کی جاتی ہے جہاں مختلف نشوں کے شکار ان افراد کی بحالی اور علاج ممکن ہو سکے ،سول سوسائٹی نیٹ ورک برائے انسداد منشیات پاکستان تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خاتمہ کیلئے خصوصی آگہی مہم چلا رہی ہے،جس کے چیئرمین اکمل اویسی پیرزادہ اور جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمدریاض ہیں جنھوں نے پاکستان اور آزاد کشمیر میں منشیات کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کو ایک بینر تلے جمع کیا سول سوسائٹی نیٹ ورک برائے انسداد منشیات پاکستان نے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ، اینٹی نارکوٹکس فورس کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے منشیات کے خلاف ہر ضلع تحصیل میں آگہی کے کام کو آگے بڑھایا اور بعض جگہوں پر این جی اوز نے ٹریٹمنٹ سنٹر قائم کئے جہاں نشے کے عادی مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے ساہیوال ڈویژن میں صدر ساہیوال ڈویژن راقم الحروف (محمد مظہررشید چودھری صدر ماڈا ) ، جنرل سیکرٹری محمد اکرم معظم(عوامی فلاحی سوسائٹی )، ضلعی صدراوکاڑہ مس صائمہ رشید ایڈووکیٹ ، اپنا کام بخوبی سر انجام دینے کے لئے کو شاں ہیں ،امسال انسداد منشیات کے عالمی دن کے حوالہ سے اوکاڑہ میں قومی سماجی تنظیم “ماڈا “رجسٹرڈ نے آگہی کے لئے کامیاب پروگرام منعقد کئے اسی طرح اے ایم ویلفیئر سوسائٹی پنجاب نے رینالہ خورد اور عوامی ویلفیئر سوسائٹی بصیر پور ،ادارہ شعور اوکاڑہ نے لوگوں کو منشیات کے خلاف آگہی کے لئے کامیاب واک اور تقریبات کا انعقاد کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ منشیات کے خاتمے کے لئے قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے وطن عزیز کو منشیات کی لعنت سے بچائیں گے،منشیات کے استعمال کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسانی تہذیب کی، انسان نے اسکا استعمال کب شروع کیا اور سب سے پہلے کس نے منشیات (شراب، افیون، چرس،بھنگ ،ہیروئن وغیرہ) کا استعمال کیا اس بارے صحیح اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہے تاہم اس برائی نے جتنی تیزی سے اپنی جڑیں پھیلائی ہیں اس کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ تمام عالمی مذاہب نے اس کے استعمال کو منع کیا ہے ، دین ِ اسلام میں اللہ تعالیٰ نے شراب کے استعمال کو حرام قرار دیا ہے، حضرت محمد ﷺ نے معاشرے میں نشہ آور چیزوں سے پیدا ہونے والی خرابیوں کو روکنے کے لئے اس کااستعمال کرنے والے پر حد مقرر کی ،دین اسلام کی تعلیمات میں معاشرے سے منشیات کاقلع قمع کرنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے، اسلام نے اس کو ہر لحاظ سے ممنوع قرار دیا،اسکو’ ا±م الخبائث ‘ کا نام دیا اسلام نے اسے تمام جرائم کی ماں کا نام دے کر اس کے جملہ پوشیدہ عیوب و نقائص بیان کردیے، اسلام نے ہر اس چیز کو جو کسی بھی صورت میں نشہ کا سبب بنتی ہواس پر حرام کی مہر لگا کر اس کے استعمال کو ممنوع قرار دے دیا ،اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے ’اے ایمان والو!شراب اور جواور بت اور پانسے(یہ سب) ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں۔سوان سے بچتے رہنا ،تاکہ نجات پاو¿۔‘ اللہ تعالیٰ ایک دوسری آیت میں فرماتا ہے ”شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے سبب تمہاری آپس میں دشمنی اورر نجش ڈلوادے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو تم کو(ان کاموں سے)باز رہناچاہیے۔“(المائدہ ،آیت:91)۔حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ حضرت محمدﷺ نے فرمایاجو کوئی شراب پیے، اس کو درے مارواور اگر وہ چوتھی بار اس کا ارتکاب کرے تو اسے قتل کرو“۔حضرت جابر ؓ آگے فرماتے ہیں کہ ایک شخص کو بعد میں آپ ﷺکے سامنے لایا گیا جس نے چوتھی بار شراب پی لی تھی تو آپ ﷺ نے اس کو مارا، مگر قتل نہیں کیا۔(ترمذی،ابوداو¿د)۔حضرت ابن عباس ؓروایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ؓنے فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز جو عقل میں بگاڑ پیدا کردے شراب کے زمرہ میں آتی ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جس نے نشہ آور چیز کا استعمال کیا اس کی چالیس دن کی نمازیں ضائع ہوگئیں۔ حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص یمن سے آیا اورآپ ﷺ سے ایک شراب کے بارے میں پوچھا جو ایک اناج (جسے مضر کہتے تھے)نکالا جاتا تھااور جسے وہ اپنے ملک میں پیتے تھے۔آپ ﷺنے ان سے پوچھا کہ کیا اس میں نشہ ہے؟ تو اس نے جواب دیا،ہاں۔آپ ﷺ نے فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔بے شک اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو کوئی نشہ آور چیزپیے گا تو ان کو(تینتہ الخبل) پلایا جائے گا۔انہوں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! یہ”تینتہ الخبل“ کیا ہے؟آپ ﷺنے فرمایا جہنمیوں کا پسینہ یا پیپ۔(مسلم شریف) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہے کہ آپ ﷺ نے ہر نشہ آور اور مفتر(اعضاءکو بے حس کرنے والا)چیز سے منع فرمایا۔(ابو داو¿د)۔ 26جون 1999میں اوکاڑہ شہر میں منشیات کے خلاف آگاہی دینے کے لیے ایک تنظیم کاقیام عمل میں آیا، جس کا نام موومنٹ اگینسٹ ڈرگ ابیوز “ماڈا”رکھا گیا گزشتہ کئی برسوں سے منشیات کے خلاف آگاہی لیکچرز ،واک،سیمینار کا اہتمام کرنا اس تنظیم کا خاصہ ہے، اس تنظیم کی جنرل سیکرٹری مس صائمہ رشید ایڈووکیٹ جوکہ سابق سینئر نائب صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ہیں نے ضلع بھر میںمنشیات کے خلاف بھر پور آگاہی مہم جاری رکھی ہوئی ہے،سانچ کے قارئین کرام ! ہر سال 26جون کویو این او کی جانب سے انسداد منشیات کا عالمی دن منایاجاتاہے، اقوام متحدہ نے سال2022 کاتھیم “صحت اور انسانی بحرانوں میں منشیات کے چیلنجوں سے نمٹنا” رکھا ہے ،امسال انسداد منشیات کے عالمی دن کے موقع پر قومی وسماجی تحریک موومنٹ اگینسٹ ڈرگ ابیوز ’ماڈا ‘ اوکاڑہ (رجسٹرڈ) کے زیر اہتمام گورنمنٹ گریجوایٹ کالج کے ہال میں تقریب کا انعقاد کیاگیا ، بعدازاں واک کی گئی جسکی قیادت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل )عباس ذوالقرنین، پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر حمود لکھوی ، انجینئرمحمد اعظم بھٹی نے کی،اس موقع پرڈسٹرکٹ خطیب قاری سعید عثمانی ، صدر ’ماڈا‘ محمدمظہررشید چودھری ،ڈسٹرکٹ ایمر جنسی آفیسر چوہدری ظفر اقبال ، ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر خورشید جیلانی ، جنرل سیکرٹری ’ماڈا‘مس صائمہ رشید ایڈووکیٹ ، ڈی ایس پی محمد سلیم ، جنرل سیکرٹری ریجنل یونین آف جرنلسٹس عابد حسین مغل، پادری سول سیور فار کرائسٹ چرچ عوبید کرامت، موٹیویٹر محمد عثمان ہادی ،وائس پرنسپل محمد ارشد ،معروف کمپیئرپروفیسر ریاض خان ، پروفیسر حسن رضا اقبالی ،ڈپٹی ڈائریکٹرسوشل ویلفیئر آفیسر اشتیاق احمد خاںنے خطاب کیا ۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل ) عباس ذوالقرنین نے کہا کہ منشیات فروش معاشرے کے ناسورہیں جنہوں نے نوجوانوں کی زندگیاں اورخاندان برباد کر کے رکھ دیے جو کسی رعایت کے حق دار نہیں ہیں ، نوجوان نسل کو اس زہر سے بچانے کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا بھر پور کردار ادا کرنا ہوگا ،مس صائمہ رشید ایڈووکیٹ نے کہا کہ کرونا وبا کے دوران دنیا بھر میں منشیات کا استعمال بڑھا ، محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میںسالانہ چھ لاکھ افراد منشیات کا استعمال شروع کر رہے ہیں ، وطن عزیز پاکستان میں سالانہ چالیس ہزار افراد مختلف قسم کے نشوں کا شکار ہورہے ہیں ،جوکہ لمحہ فکریہ ہے، دین اسلام کی تعلیمات میں معاشرے سے منشیات کاقلع قمع کرنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے،اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر معاشرے کو منشیات سے پاک کیا جاسکتا ہے ،صدر ’ماڈا ‘محمد مظہررشید چودھری نے کہا کہ پاکستان میں غیر سرکاری رپورٹس کے مطابق ایک کروڑ دس لاکھ سے زائد افراد مختلف قسم کے نشوں کا شکار ہیں، گزشتہ چند سالوں میں سرنجوں اور آئس کے نشہ میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے ’آئس“ کا نشہ کرنے والے اکثر افراد شدید ذہنی بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں جن میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے ، ضلع بھر میں منشیات فروشوں کے خلاف بھر پور کاروائیاں کی جارہی ہیں۔تقریب میں کالج ہذا کے پروفیسر خالد جاوید مترو، پروفیسر نذر محمد، پروفیسر محمد حامد، پروفیسر افتخار سیال ،پروفیسرنویدعاصم ، ایگزیکٹو ممبران’ ماڈا‘ عرفان اعجاز ، عدنان اعجاز ،اسسٹنٹ پی آر او ڈی پی او اکبر علی ،ریجنل یونین آف جرنلسٹس کے رہنماعبداللہ سرور، سابق صدر اوکاڑہ پریس کلب شہباز ساجد سمیت طلبہ کی کثیر تعداد موجودتھی ، قبل ازیں بچیوں ارفع رشید اور آئرہ رشیدنے مہمانان کو گلدستے پیش کیے ، واک کے اختتام پر ’ماڈا ‘ اوکاڑہ کی جانب سے واک کے شرکاءمیں سوینئر تقسیم کیے گئے ،سانچ کے قارئین کرام ! گزشتہ سال سینٹ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ سب سے زیادہ عام نشہ چرس کا ہے جس کا شکار آبادی کا 3.6 فیصد حصہ ہے۔ نشہ استعمال کرنے والے افراد کی اکثریت 25 سے 39 سال کی عمر میں ہے اور سب سے زیادہ چرس کا استعمال 30 سے 34 سال کی عمر کے افراد میں دیکھا گیا ہے ،حکومتی اعدادوشمار کے مطابق چرس کے نشے کے شکار افراد کی تعداد 40 لاکھ ہے جبکہ آٹھ لاکھ 60 ہزار افراد ہیروئن کا شکار ہیں۔ ٹیکے کے ذریعے نشہ کرنے والے افراد کی تعداد چار لاکھ 30 ہزار جبکہ افیون کے نشے کے شکار افراد کی تعداد تین لاکھ 20 ہزار ہے ،،ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات مل کر اس زہر کے خاتمے کی کوشش کریں ٭

Short URL: https://tinyurl.com/2j8xehc8
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *