رشتوں کے چونچلے۔۔۔۔ مصنف:ڈاکٹر علی حسنین تابشؔ، چشتیاں

میں ششدر سا ہو کر رہ گیا۔ لوگوں کا اِک بہت بڑا ہجوم تھا ۔حد نظر تک بے شمار لوگ ہی لوگ دکھائی دے رہے تھے ۔ کچھ لمحوں کے بعد اک زور دار نعرہ ’’کلمۂ شہادت ‘‘ گونجتا اور لوگ اپنے قدم بڑھاتے ہوئے منزل کو رواں دواں تھے۔
وء معمول کی اِک صبح تھی اور میں اپنے کلینک پر جا رہا تھا ۔ گھر سے کچھ ہی فاصلے پر بڑا چوک آتا تھا ۔ اس ہجوم کا رُخ بھی اسی چوک کی طرف تھا۔ میرے دماغ میں بہت سے سوالات جنم لیتے اور کافور ہوتے رہے ۔ ایسی کونسی بڑی شخصیت وفات پا چکی جسکے جنازے میں اتنے لوگ شامل ہیں ؟ ایسے بہت سے سوالات کا جھرمٹ میرا طواف کرتا رہا ۔ خیر میں بھی ان لوگوں میں شامل ہو گیا ۔ یہ بڑا ہجوم چوک میں سے ہوتا ہوا مین روڈ پہ پہنچ گیا ۔ اب اس کا رُخ قبرستان کی طرف تھا ۔ سب لوگ میت کو کندھا دینے کی غرض سے اِک دوسرے کو پیچھے کی طرف دھکیل رہے تھے۔ میرے قدم بھی بے خودی سے اس ہجوم میں آگے بڑھتے گئے ۔ اِک بزرگ بھی میرے ساتھ ہی ہاتھ میں لاٹھی پکڑے ہوئے آہستہ آہستہ چل رہے تھے ۔ ان کے لب مسلسل حرکت میں تھے ۔پہلے سوچا ان سے پوچھتا ہوں لیکن پھر خاموش رہا۔ کچھ دیر بعد وہ بزرگ خود مجھ سے مخاطب ہوئے ۔’’بیٹا ! تمہارے من میں بہت سے سوال ہیں ۔لچھ پریشان نظر آرہے ہو؟‘‘ ان کی بات سے میں بہت حیران ہوا کہ انہیں کیسے معلوم پڑا؟ ان سے کپکپاتے ہونٹوں سے پوچھا ۔ ’’ بابا جی ! یہ کون فوت ہوا ہے ؟ ‘‘ اس سے زیادہ میں کچھ اور نہ کہہ سکا ۔ انہوں نے اِک نگاہ مجھ پہ ڈالی اور لمبی سانس لی۔’’لگتا ہے تم اجنبی ہو یا پھر اس پُر اسرار واقعے کے بارے میں نہیں جانتے ۔ ‘‘ میں نے بابا جی کی طرف دیکھا اور ان کو بتایا میں یہاں کا ہی رہنے والا ہوں مگر اس واقع سے ناآشنا ہوں جس کا آپ ذکر کر رہے ہیں ۔ اتنا کہہ کر میں خاموش ہو گیا ۔ ’’ بتاؤں گا میں تمہیں سب کچھ جنازہ پڑھنے کے بعد ۔ ‘‘ بابا جی نے کہااور ہم دونوں ہی خاموش ہو گئے ۔میرے دماغ میں یہ الفاظ بار بار برقی لہروں کی طرح چکر کاٹتے رہے ’’پراسرار واقع ‘‘ ۔ بے چینی تو پہلے ہی تھی کچھ اور بڑھ گئی تھی ۔ہم چلتے گئے اور قبرستان پہنچ گئے ۔ ساتھ میں ہی جنازگاہ تھی ۔میت کو جنازگاہ میں رکھ دیا گیا جب جنازہ پڑھایاگیا تب معلوم پڑا کہ یہ عورت تھی ۔تدفین کے بعد بابا جی میرے پاس ہی بیٹھے تھے۔ اِک حیرت کا جھٹکا اور لگا اُس عورت کی قبر عام قبروں سے چار فٹ لمبی تھی ۔ لگتا تھا ۹ یا ۱۰ فٹ لی لمبی قبر تھی ۔ یہ چیز مجھے اور حیرت کی وادیوں میں لے گئی ۔ سب لوگ واپس جارہے تھے اور ہر کوئی اِک دوسرے سے سرگوشیاں کر رہا تھا ۔ مجھ پہ حیرت کے دریچے کھلتے گئے ۔ بابا جی نے کہا ۔ ’’ بیٹا ! تم شہر میں کہاں رہتے ہو اور تمہارا نام کیا ہے؟ ‘‘ میں نے اپنا نام اور کلینک کا اڈریس بتادیا ۔ وہ میرے ابو کے پرانے دوست نکلے ۔پھر معلوم ہوا کہ وہ اِک لمبا عرصہ سعودی عرب میں گزار گر آئے تھے ۔ جسکی وجہ سے وہ مجھے پہچان نہ سکے تھے ۔ کیونکہ جب انہوں نے مجھے دیکھا میں ایک سال کا تھا۔ بابا جی میرے ساتھ چلتے چلتے روڈ تک آگئے تھے ۔ بابا جی مجھ سے اجازت لے کر کہنے لگے ۔ ’’ تم سے مل کر خوشی ہوئی اب مجھے اجازت دو میں باقی لوگوں کے ساتھ واپس جاؤ ں ۔‘‘ لیکن میں نے ان کو روک لیا اور کہا ۔
’’بابا جی !آپ نے مجھے اس عورت کے بارے میں نہیں بتایا ؟‘‘ آپ میرے ساتھ کلینک پہ چلیں ۔بابا جی راضی ہو گئے اور ہم کلینک پر آگئے۔ میری کولیک پہلے سے موجود تھی ۔ میرے کہنے پر چائے منگوائی گئی ۔ اب میں بابا جی کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا ۔’’بابا جی اب بتائیں یہ عورت کون تھی؟ ‘‘ بابا جی نے گہری سانس لی اور کہنے لگے ۔ ’’ بیٹا! یہ اِک عجیب وغریب سی کہانی ہے ۔‘‘ اتنا کہا تھا کہ چائے آگئی اور بابا جی نے اپنی بات جاری رکھی۔
’’ سکینہ کا تعلق امیر گھرانے سے تھا ۔سکینہ دو بھائیوں سے چھوٹی اور سب کی لاڈلی تھی ۔ سب گھر والے اس سے بہت پیار کرتے تھے ۔ اس کی پرورش ،تعلیم و تربیت کا خاص خیال رکھا گیا ۔لاہور کے اک اچھے پرایویٹ اسکول میں سکینہ کو داخل کروا یا ۔وہ اک ذہین لڑکی تھی ۔ہر سال اپنی کلاس میں ٹاپ کرتی تھی ۔ اس کی کزنیں اس سے جلا کرتی تھیں ۔سکینہ کو اس بات کی پرواہ نہ تھی ۔وہ اپنی پڑھائی میں مکمل طور پر محو تھی ۔ اسکول سے ٹیوشن اور رات کو بھائیوں کے ساتھ پارک جانا اسکے معمول میں شامل تھا ۔ سکینہ زندگی خوشگوار انداز میں جی رہی تھی ۔
……. ……….. ………….. …………… …………..
سکینہ نے میٹرک میں ٹاپ کیا تو اسکے سب گھر والے بہت خوش ہوئے ۔ سکینہ نے اس خوشی کے موقع پر بڑی دعوت کی خواہش ظاہر کی ۔
اسکے والدین راضی ہو گئے ۔ اس پارٹی میں سکینہ کی تمام سہیلیاں ، اساتذہ اور رشتے دار شامل تھے ۔ دونوں بھائیوں نے بھی اپنی لاڈ لی بہن کو قیمتی تحائف دئیے ۔ وہ دن بھی آگیا جس دن پارٹی تھی ۔ سکینہ کی سب کزنیں اسکی یہ کامیابی دیکھ نہ سکیں ۔اور حسد کی آگ میں اس قدر جھلسیں کہ سکینہ کی ساری زندگی تباو کر ڈالی ۔
پارٹی کے روز جب سکینہ اپنے خاص مہمانوں کے ساتھ باتوں میں مصروف تھی ۔اسکی اک کزن سب کے لئے مشروب لائی اور ایک خاص گلاس سکینہ کے ہاتھ میں بھی تھما دیا ۔ جسے سکینہ نے خوشی سے پی لیا ۔ اسکی کزن کے چہرے اور آنکھوں میں اک چمک نے انگڑائی لی ۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اسکے مقصد کی تکمیل ہو گئی ہو ۔ پارٹی ختم ہوئی اور سب مہمان جاچکے تھے ۔ رات کو سکینہ اپنے بھائیوں کے ساتھ ٹی وی دیکھ رہی تھی کہ اسکے سر کو بڑا سخت چکر آیا اور وہ اک جھٹکے سے زمین پہ جا گری ۔ دونوں بھائیوں نے جلدی سے اسے اٹھایا اور کمرے میں بیڈ پر لٹا دیا ۔ ایک نے ڈاکٹر کو فون کیا ۔ ڈاکٹر جلدی سے دوڑا دوڑا آیا ۔ چیک کرنے پہ اس نے بتایا ’’ زیادہ مسئلہ نہیں ہے ۔سر کو چکر آیا ہے تھکان کی وجہ سے ۔آرام کی ضرورت ہے ۔‘‘ ڈاکٹر تو سب کو مطمئن کر کے جاچکا تھا ۔ سکینہ کی طبعت کچھ نارمل تھی ۔ لیکن جو انہونی ہونی تھی وہ تو ہو ہی چکی تھی۔ کزن کا پلایا ہوا مشروب اپنا کام کر چکا تھا ۔ رات گئے سکینہ کو اس قدر گرمی محسوس ہوئی کہ برداشت نہ ہو سکی ۔حالانکہ کمرے میں اے سی لگا ہوا تھا۔ گرمی اتنی بڑھ گئی کہ سکینہ کے پسینے چھوٹنے لگے ۔بے چینی بڑھتی گئی ۔سکینہ نے فوراََ نہانے میں عافیت سمجھی ۔ وہ نہانے چلی گئی ۔ نہاتے وقت اس کے بال ہاتھوں میں آنے لگے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے اسکے سارے بال جھڑ گئے ۔ اسکا سر بالکل گنجا ہو چکا تھا ۔اسکی چیخیں سن کر اسکی امی کمرے کی طرف بھاگیں۔ واش روم کا دروازہ کھولتے ہی اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔وہ بھی اپنے حواس کھو بیٹھیں۔ بہت مشکل سے سکینہ کی امی نے خود پہ قابو پایا ۔ سکینہ زور زور سے روئے جا رہی تھی ۔ امی نے اُسکو تسلی دی اور کپڑے پہنا کر کمرے میں لے آئیں۔
… … … … … … … … … …
اُسکی حالت دیکھ کر گھر کے سب لوگ بے حد پریشان تھے ۔ سکینہ کو اِک چپ سی لگ گئی ۔وہ سارا دن کمرے میں بند بس چھت کو ہی گھورتی رہتی تھی ۔ ہوا میں وہ پتا نہیں کس سے باتیں کرتی تھی ۔ اسکی اس حالت سے والدین اور بھائی بہت پریشان تھے ۔ مقامی ڈاکٹروں سے علاج کرواتے ہوئے ایک سال کا عرصہ گزر چکا تھا ۔ کوئی شفاء یابی نہ ہو سکی ۔ بہت سے آئلز استعمال کروائے لیکن مایوسی کا ہی سامنا رہا ۔ اسکے بال واپس نہ لوٹ سکے۔یہاں تک کہ اسکی یاداشت بھی ختم ہو تی جا رہی تھی ۔ پریشانی دن بدن بڑھتی چلی گئی ۔ سکینہ کے والدین نے اب انگلینڈ سے علاج کروانے کا فیصلہ کیا ۔ وہ سکینہ کو لے کر انگلینڈ چلے گئے ۔ کافی علاج کے باوجود نااُمیدی کا ہی سامنہ کرنا پڑا ۔ وہ وطن واپس لوٹ آئے ۔ سکینہ کی حالت دن بدن بگڑتی جارہی تھی ۔ اسکا علاج اب عاملوں سے شروع کروایا گیا ۔ کو ئی آسیب کا سایہ بتائے تو کوئی کہے اس پہ جن عاشق ہے ۔ ہر عامل اس معصوم بچی پہ اپنے ہی قانون مسلط کرتا رہا ۔ ہر در سے نا اُمید ہو کر وہ گھر بیٹھ چکے تھے ۔ لیکن رب کریم کے در سے ان کو آج بھی شفاء کی اُمید تھی ۔
اک روز وہی کزن اور اسکے گھر والے سکینہ کے گھر آئے ۔ اسکے دل میں آج بھی ترس کا نام تک نہ تھا ۔ کہنے لگی اک بہت بڑے بابا ہیں ۔ ہو سکتا ہے انکے علاج سے شفاء یابی ہو جائے ۔ سکینہ کے والدین تو پہلے ہی ایسی ضیاء کے متلاشی تھے کہ جس سے انکی اندھیر نگری میں اُجالا ہو سکے ۔ سکینہ کی امی نے اس سے اس بابا کا اڈریس پوچھا تو سکینہ کی کزن نے کہا ۔ ’’ نہیں نہیں انکے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ میں ان سے بات کروں گی ۔ ‘‘ اس کے دماغ میں اک اور شیطانی سوج رہی تھی ۔ چند دن بعد وہ پھر آئی تو کہنے لگی ۔ ’’ آنٹی بابا نے کہا کہ اک بڑا سا سانپ مار کر زمین میں دبائیں ۔اس پر سرسوں اگائیں ۔ جب وہ پک جائے تو اسکا تیل نکلوا کر سکینہ کے سر پہ لگائیں۔ بابا بتا رہے تھے کہ سیاہ لمبے اور گھنے بال آئیں کے ۔ سکینہ کی امی اس بے رحم کزن کی باتوں میں آگئیں ۔ انہو ں نے اک بہت بڑا سیاہ سانپ منگوا کر اپنی زمینوں میں دفن کروا دیا ۔ اب اس پہ سرسوں اگائی گئی ۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ۔ یہی حال اب سکینہ کے والدین کا تھا ۔ وہ اپنی جان اپنی بیٹی کو ہر حال میں ٹھیک دیکھنا چاہتے تھے ۔ اﷲ اﷲ کر کے انتظار کے دن ختم ہوئے ۔ سرسوں کا تیل نکلوا کر سکینہ کے سر پہ لگایا گیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کے لمبے اور سیاہ بال آنے لگے ۔ جو تیزی سے بڑھنے لکے ۔ بالوں کے بڑھنے کی تیزی دیکھ کر سب حیران تھے ۔اس دوران سکینہ مسلسل روئے جا رہی تھی ۔ اس کی آواز میں اس قدر درد تھا کہ جیسے برہنہ اندام کو کانٹوں پہ لٹا کر گھسیٹا جائے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کے بال پورے بیڈ پر پھیلتے گئے ۔ حیران کن بات یہ کہ اسکے بال آگے سے دو شاخہ ہوتے گئے ۔ پھر وہ سنپولیئے بنتے گئے ۔ ان سنپولیوں کی آنکھیں آگ کے شعلوں کی طرح جل رہی تھیں ۔ یہ منظر دیکھ کر سب پہ خوف و حراس اور سکتہ طاری ہو گیا ۔ انہی سنپولیوں نے سکینہ کے بدن کو کاٹنا شروع کر دیا ۔ اسکی آواز ،چیخ و پکار اس قدر درد ناک تھی کہ کوئی بڑے سے بڑے دل والا بھی اس درد ناک آواز کو نہ برداشت کر سکے ۔سکینہ کی چیخیں بلند ہوتی گئیں ۔ اب تو محلے والے بھی کوٹھی میں جمع ہو گئے ۔ یہ ہولناک منظر کوئی بھی برداشت نہ کر سکتا تھا ۔کچھ لوگ بے ہوش ہوکئے ۔ کچھ لوگوں پہ ایسا سکتہ طاری ہوا کہ دیر تک وہ کچھ نہ بول سکے ۔ چند گھنٹوں بعد یہ قیامت تھمی ۔ ایک زور دار دھماکہ ہوا اور سب لرز کر رہ گئے ۔ کمرے میں ہرطرف بال ریشہ نما ہو کر اُڑ رہے تھے ۔ سکینہ کا نامکمل جسم بیڈ پر پڑا تھا ۔ اسکے پاؤں الٹے ہو چکے تھے ۔ ہاتھوں کی انگلیوں کی جگہ سنپولئے نمودار ہو چکے تھے ۔ یہ ہولناک منظر دیکھ کر سکینہ کے والدین بے ہوش ہو گئے اور اب وہ کومہ میں ہیں۔وہ اپنی بیٹی کے جنازے میں بھی شریک نہ ہو سکے ۔ یہ انکا آبائی قبرستان ہے ۔اس لئے میت کو یہاں لایا گیا ہے ۔یہ خبر تیزی سے پھیل گئی ۔ یہ ہجوم بھی سکینہ کو دیکھنے کیلئے اکٹھا ہوا ۔مگر ان کو روک دیا گیا ۔ جب اسکا سر ہی نہ تھا تو لوگوں کو کیا دکھاتے ۔
کہانی سنتے وقت مجھ پہ بھی سکتہ طاری ہو چکا تھا ۔میرا ہاتھ چائے کے کپ سمیت ایک جگہ جامد تھا۔ بابا جی مسلسل روتے رہے اور اس معاشرے کے حاسد لوگوں کو بد دعائیں دے رہے تھے ۔بابا جی نے بتایا کہ قبر پانچ فٹ بنائی تھی ۔ تدفین کے بعد وہ دس فٹ کی ہو گئی ۔ اس بات سے بابا جی اور میں حیرت زدہ تھے ۔ جانے اس میں کیا راز ہے۔ مجھے دلی صدمہ ہوا ۔مجھے رہ رہ کر سکینہ کی کزن پہ بہت غصہ آرہا تھا ۔ اس نے آخر ایسا کیوں کیا ۔۔۔۔؟ سکینہ نے اسکا کیا بگاڑا تھا ؟ بہت سے الجھن میں ڈالنے والے سوالات میرے ذہن کے آنگن میں رقصاں ررقصاں تھے ۔
بابا جی نے بتایا کہ وہ انکی بھانجی تھی ۔ جس کزن کی وجہ سے یہ سب ہوا ۔ سکینہ کے بھائی نے اسے گولی مار دی ۔اب وہ جیل میں ہے ۔ میں نے بابا جی کو حوصلہ دیا ۔ انکے آنسو صاف کئے ۔ چند منٹ بعد انہوں نے مجھ سے اجازت لی ۔ پھر وہ دعائیں دیتے ہوئے رخصت ہو گئے ۔ لیکن میں دیر تک سوچوں کے سمندر میں غوطہ زن رہا ۔
میں اپنے سوالات کے جواب تلاش نہ کر سکا ۔ کیا ہے انسان……؟کسی کی ترقی ، خوشحالی ، دوسرے سے برداشت کیوں نہیں ہوتی ؟ غریبی اور امیری تو رب کریم کی طرف سے ہے ۔ اس میں کسی دوسرے کا کیا قصور؟ رب کریم کی عنایت پہ راضی رہنا چاہیئے ۔ جب رسولِ پاک ﷺ نے فرمایا ۔’’ کسی گورے کو کالے پر ،کالے کو گورے پہ،عربی کو عجمی پہ ، عجمی کو عربی پہ کوئی برتری حاصل نہیں۔ ‘‘ تو پھر ہم نبی پاکﷺ کے اراشادات کی پیروی کیوں نہیں کرتے …….؟ ہم کہاں کے مسلمان ہیں؟ ہر روز سود کا کاروبار کرنا، چغلی کرنا، غیبت کرنا ، جھوٹ بولنا ہمارا معمول ہے ۔ ایک دوسرے کیلئے دل میں حسد رکھنا۔ کیا ہمیں دین اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے ؟ارے رب کریم کا ارشاد ہے ’’ تم دوسروں کا بھلا سوچو میں تمہارا بھلا کروں گا ‘‘ ۔
سکینہ کا کیا قصور تھا ؟ وہ امیر تھی ؟ بے حد خوبصورت تھی ؟ اک ذہیں لڑکی تھی ؟اور اسکی کزن حرام موت ماری گئی ؟ سکینہ کو برباد کر کے اسے کیا ملا؟ رب کریم کے فیصلے نرالے ہوا کرتے ہیں ۔ میں انہی الجھنوں کو سلجھاتا رہا ۔ کب شام ڈھلی کچھ خبر تک نہ ہوئی ۔
کچھ دن بعد بازار میں بابا جی سے اتفاقی ملاقات ہوئی ۔ خیریت دریافت کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ سکینہ کے والدین بھی اس دنیا سے پردہ کر گئے ہیں ۔سکینہ کے ایک بھائی کو سزاِ موت ہو گئی ۔ دوسرا ان تمام غموں کی مالا گلے میں پہنے زندگی کے پہئے کو آگے دھکیل رہا ہے ۔
اک با ر پھر سے سوالات نے میرے ذہن کا حصار باندھنا شروع کیا ۔ ایک لڑکی کی وجہ سے کتنی زندگیاں برباد ہوئیں …..؟

Short URL: http://tinyurl.com/hlfjspo
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *