کامیابی کی سیڑھی: انگریزی یا اردو۔۔۔؟

Zulfiqar Ali Bukhari

تحریر: ذوالفقار علی بخاری

دورحاضر میں کسی بھی شعبہ ہائے زندگی میں کامیابی کے لیے انگریزی زبان زیادہ اہم ہے یا پھر اردو۔
اِس کے بارے میں بحث گزشتہ کئی برسوں سے چلتی آرہی ہے اورمجھے لگتا ہے کہ یہ ایسے ہی برقرار رہے گی کہ یہ دونوں بہت زیادہ طاقت ورہوتی چلی جا رہی ہیں۔
انگریزی زبان بین الاقوامی سطح پر بولی جاتی ہے تو اسی تناظر میں اسے بہت خاص سمجھا جاتا ہے اورحقیقت بھی یہی ہے کہ آج کسی ہنر کو سیکھنے کے لیے انگریزی کتب یا پھر یوٹیوب پر انگریزی زبان میں بیان کیا گیا مواد اردو زبان کی بہ نسبت زیادہ دستیاب ہے اوریہی اِس کی مقبولیت کو عیاں کرتا ہے۔دوسری طرف اردومیں پیش کیا جانے والا مواد سیکھنے والوں کو بہت کچھ سمجھارہا ہے یعنی کہا جاسکتا ہے کہ دونوں زبانیں اپنی اپنی جگہ پر لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کر رہی ہیں۔اگرچہ انگریزی میں پیش کیا گیا مواد قابل اعتماد زیادہ قرار دیا جاتا ہے لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ اردو میں جو کچھ پیش کیا جا رہا ہے وہ کارآمد نہیں ہے۔اگرچہ اردو زبان کو سیکھنے والوں کی کمی نہیں ہے لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ اسے ماسوائے چند اہم ممالک کے اور کہیں زیادہ پذیرائی بطور”عوامی زبان“ حاصل نہیں ہے اوریہی چیز اردو کو انگریزی سے کچھ پیچھے رکھتی ہے۔
پاکستان میں دل چسپ بات یہ ہے کہ 1956کے آئین میں قومی زبان کے طور پر اردو اوربنگالی کا انتخاب ہوا اور مزید لطف کی بات یہ ہے کہ محض سات فی صد(کم و بیش) افرادکی مادری زبان اردو ہے۔ جب کہ دوسری طرف 2017کی مردم شماری کے مطابق38فی صد لوگ پنجابی زبان بولنے کی اہلیت رکھتے ہیں لیکن پنجابی قومی زبان کے طور پر ابھی تک منتخب نہیں ہو سکی ہے۔حیران کن طور پر اردو سرکاری زبان قرار دیے جانے کے باوجود انگریزی کے بوجھ تلے پھنسی ہوئی ہے اوراکثر سرکاری خط و کتابت انگریزی زبان میں ہوتی ہے۔جہاں تک انگریزی اسکولوں کی بات ہے وہاں تو اردو میں بات کرنا جرم قرار دیا جاتا ہے۔ میرے علم میں ایسی بہت کم مثالیں ہوں گی جس میں انگریزی زبان کی بجائے اردو کی ترویج و ترقی میں نجی اداروں نے کوئی اہم ترین کام کیا ہو۔بزم ادب کا سلسلہ تو ماضی کا سہانا خواب بن گیا ہے جس کے ذریعے بچوں کو اردو پڑھنے اوربولنے پرمائل کیا جاتا تھا۔ راقم السطور کو گزشتہ دنوں 19اکتوبر1970کا ایک شوکازنوٹس ہاتھ لگا جو کراچی کے معروف اور قدیم ترین اسکول کے استاد کودیا گیا تھا۔جس میں پرنسپل صاحب کی جانب سے لکھا گیا:
“To day, we conducted the final heats. I was shocked to see the boys selected by you for final heats. Not only were the selected boys unable to recite the poems byheart but some of them were not even able to read them properly from printed pages.”
یہ ایک قابل مسرت مثال ہے کہ تعلیمی ادارے کے سربراہ کی جانب سے اردو زبان کے حوالے سے بچوں کی تیاری نہ ہونے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا۔اس بات سے قطع نظر کہ ایک استاد کو دیا جانے والا شوکاز نوٹس درست تھا یا نہیں، ہمیں کچھ اوراہم نکات پر گفتگو کرنی ہے کہ ادارے کا نظم و ضبط اس وقت موضوع بحث نہیں ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا آنے والے برسوں میں اس طرح کی مزید مثالیں قائم ہوئی ہیں؟کیا مذکورہ تعلیمی ادارے میں اب ایسے طلباء موجود ہیں جو اردو زبان نہ صرف اچھی طرح سے سمجھ سکتے ہیں بلکہ بول بھی لیتے ہیں؟اگر ایسا ہو رہا ہے تو یہ بہت بڑی بات ہے اورایسے اداروں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے جہاں بچوں کو اردو زبان سیکھنے پر مائل کیا جا رہا ہے۔
اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا یہ مناسب فیصلہ نہیں تھا کہ جواب طلبی کے بارے میں انگریزی کی بجائے اردو زبان میں لکھا جاتا؟
مزید براں کیا یہ صرف ایک استاد کی ذمے داری ہے کہ نونہالوں کو اردو زبان اچھی طرح سے پڑھائے اورانھیں اس میں دل چسپی پیدا کرنے کا فرض سونپا جائے کہ وہ درست اردو پڑھ سکیں؟کیا والدین کو اِس سے بری الذمہ قرار دیا جاسکتا ہے؟کیا انگریزی میڈیم اسکولوں میں طلباء کو اردوزبان کی تدریس ایسے انداز میں کی جا رہی ہے کہ وہ کل کو کچھ اردو میں لکھ سکیں؟
یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات تلاش کرنے چاہئیں۔
حیران کن بات یہ ہے کہ راقم الحروف کو کئی برسوں سے یہی شکوہ سننے کو مل رہا ہے کہ اردو پڑھنے والے کم ہو رہے ہیں یا بچوں کے اردو میں شائع ہونے والے رسائل کی اشاعت کم ہو رہی ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر1970میں تعلیمی ادارے اردو زبان کے فروغ کے لیے شوکاز نوٹس تک جاری کر رہے تھے تو کیا وجوہات ہیں کہ آج بچوں کا رجحان قومی زبان کو پڑھنے میں دکھائی نہیں دیتا ہے؟
چین میں کیا انگریزی کا غلبہ زیادہ ہے جو وہ اتنی ترقی کرچکا ہے۔ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں کئی اہم عوامل کا کردار ہوتا ہے جس میں زبان بھی شامل ہے۔لیکن اردو سے ناانصافی کرنے والوں کو کٹہرے میں لانا چاہیے تاکہ وہ نوجوان نسل کو اردو سے دور نہ کر سکیں۔ایک وقت تھا جب اردو اور ہندی کا جھگڑا تھا اورآج اردو، انگریزی کے جھگڑے کی بدولت کچھ مذہوم مقاصد کے حصول کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔انگریزی زبان ہو یا پھر اردو یہ دونوں ہی کہیں نہ کہیں زندگی میں نہ صرف مطالعہ کرنے بلکہ عملی امتحانات میں کامیابی کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ اِس لیے دونوں کو بیک وقت سیکھنا چاہیے تاکہ ہم کسی میدان میں دوسروں سے پیچھے نہ رہ جائیں۔کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد اردو زبان میں درخواست نہیں لکھ سکتے ہیں اوراسی طرح سے کچھ انگریزی میں لکھا گیا داخلہ فارم بھی درست طور پر نہیں سمجھ سکتے ہیں۔
قصہ المختصر، انگریزی اور اردو دونوں زبان کو سیکھیں اوراپنی قابلیت کو بڑھائیں،یہی دورحاضر میں کامیابی حاصل کرنے کا راز ہے۔ تعلیمی اداروں میں بھی انگریزی اور اردو دونوں پر یکساں توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے بچوں کو انگریزی اور اردو میں شائع ہونے والے رسائل منگوا کر دیے جانے چاہئیں تاکہ وہ دونوں زبانوں کو پڑھنے اورسمجھنے کی اہلیت پیدا کریں بصورت دیگر زندگی میں کسی مقام پر انھیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کہ ایک درخواست لکھوانے کے لیے وثیقہ نویس کے پاس جانا پڑے گا اورہماری تعلیمی قابلیت پر انگلی اٹھے گی۔

Short URL: https://tinyurl.com/25ffsv6w
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *