خالی پیٹ

Print Friendly, PDF & Email

مصنف: علی حسنین تابشؔ ،چشتیاں


غربت و افلا س ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔ غریب تو شاید سب ہی ہیں۔ اس جہاں میں کوئی رشتوں کی دولت سے محروم ہے توکوئی دولت سے۔ ہر شخص کی زندگی میں کسی نہ کسی چیز کی کمی ضرور ہے۔ آج کل کے جدید دور میں تو صرف پیسے کو سلام ہے۔ تعلیم کو دیکھا نہیں جاتا ۔ فرسٹ پوزیشن حاصل کرکے بھی ڈگریاں کس کام کیں۔ ۔۔۔۔۔۔؟انصاف تو بکتا ہے۔ ملتا نہیں ہے۔ جو پیسہ دکھاتا جائے وہ بڑے سے بڑے عہد ے پر فائز ہو سکتا ہے اور جو غریب ہو وہ کبھی پکوڑ ے لگا کر کبھی چائے کا کھوکھا لگا کر تو کبھی سٹرکوں پر غبارے بیچ کر اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے۔
ارباب خان کے ذہن میں خیالات کی جنگ جاری تھی اوروہ اک نئی واردات کا پلان ملنے کے بعد اپنے مشن پر رواں دواں تھا۔ رستے میں اسکی بائیک رُک گئی اوردیکھنے پر معلوم ہو ا کہ پٹرول ختم ہو چکا ہے ۔ ارباب خان نے بائیک کو ہاتھ میں پکڑااور اسکے ساتھ ساتھ پیدل چلنے لگا ۔ کچھ ہی فاصلے پر ایک پٹرول پمپ تھا ۔ ارباب خان کی نظر پڑتے ہی پمپ کی طرف قدم تیزی سے بڑھتے گئے۔ جو کام اسے سونپا گیا تھا ۔ وہ اس کام کے لیے لیٹ ہو رہا تھا۔ پمپ کے قریب پہنچتے ہی ارباب خان نے لڑکے سے پٹرول ڈلوایا ۔ جو کہ لڑکے نے مقدار میں کچھ زیادہ ڈال دیا تھا۔ یہاں پر پیسے دیتے وقت ارباب خان اور لڑکے میں تکرار ہو گئی ۔غلطی ارباب خان کی ہی تھی۔کیونکہ ایک نقاب پوش لبوں سے آواز بہت مدھم نکلتی ہے جس کی وجہ سے شور میں شاید لڑکے کو کچھ زیادہ سمجھ آئی ہوگی ۔سلمان کو چند ہی دن ہوئے تھے۔ وہ اس پمپ پر ملازم لگا تھا۔ تکرار بڑھنے پر دو سینئر لڑکے ان دونوں کے پاس آئے اور معاملہ ٹھنڈا کروایا ۔ کچھ دیر اور گزرتی تو شاید ارباب خان اپنا ریو الور نکال کر سلمان کو اڑاد یتا ۔ معاملہ کچھ زیادہ تو نہ تھا۔ کچھ پیسے ہی تھے وہ زیادہ دے کا بات ختم کرتا۔
سلمان نے معذرت بھی کرلی لیکن ارباب خان کے فولادی بدن کی گرمی جو ش میں آچکی تھی اور اب اس کے دماغ میں انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی ۔ بات کچھ یوں ہوئی کہ سلمان نے بھی ار باب خان کی باتوں کا جواب کچھ گرمی سے دیا جس کی وجہ سے ارباب خان نے یہ اپنی شان میں توہین سمجھی ۔ سینئر لڑکوں کے کہنے پر ارباب خان وہاں سے روانہ ہوگیا اور بات آئی گئی ہوگئی ۔ کچھ دن بعد سلمان کی طبیعت خراب ہوئی اور بخار نے آن گھیر ا ۔جس کی وجہ سے پمپ سے چھٹی کرنی پڑی
ارباب خان اپنے مشن پر کام کرنے کے لیے کالے گودام کی طرف جارہا تھا اور اب اسکے دماغ میں سلمان کا چہرہ بار بار گھوم رہاتھا اور اس سے بدلہ لینے کی آگ زور سے اس کے دل میں بھڑک رہی تھی ۔ کالے گودام میں پہنچتے ہی اس نے اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ مل کر گاڑی اسلحے سے فل کی۔ مکمل طور پر تمام چیزیں گن کر لسٹ جیب میں ڈال کر اپنے استاد کو فون کر دیا۔
’’ استاد مال تیا رہے ۔ تم ایڈریس بتاؤ۔ ‘‘ ارباب نے فون پر استاد سے آگے کی پلائنگ مانگی ۔‘‘
’’ ہا ں اب اس گاڑی کو اشرف بھولے کے ذریعے میرے خفیہ گودام میں بھیج دو تمہاری محنت وہاں اس گودام میں اک بریف کیس میں پڑی ہوئی، جو کہ تم وہاں جا کر لے لینا۔
اتنا کہہ کر استاد نے فون بند کر دیا اور ارباب اپنے ساتھیوں کو بائیک پر سوار کرکے واپس اڈے پر جانے کا حکم دے کر خود اس گاڑی پر اشرف بھولے کے ہمراہ استاد کے خفیہ گودام کی طرف چلا گیا۔ رستہ کافی لمبا تھا۔ شہر سے 6گھنٹے کی دوری پر استاد کا دوسر اگودام واقع تھا۔ رستہ کا فی خطرناک اور راستے میں تین پولیس کی چوکیاں بھی آتی تھی۔ ارباب ایسے خطروں کا کھلاڑی تھا۔ وہ ایسے خطرات کو آسانی سے عبور کر نا جانتا تھا۔ گاڑی میں رکھے اسلحے کی پیکنگ کاٹن میں کی گئی تھی۔ یعنی کاٹن کے بڑئے تھیلے اور اس کے درمیان اسلحہ رکھا گیا تھا۔ تاکہ چیکنگ کے دوران پولیس کی نظروں میں صرف کاٹن ہی آئے اور اس کے اندر موجود اصل مال ان کی نظروں سے اوجھل ہی رہے اور پھر چند پیسوں کی خاطر ہمارے محافظ بک بھی تو جائے کرتے ہیں۔ کچھ خاص شک نہ ہو آخری چوکی پر کھڑا سپاہی کچھ زیادہ ہی سر پھرا سا لگ رہا تھا۔ کا فی خوش مزاج آدمی تھا۔ ارباب نے اسے چند نوٹوں کی خوشبو سنگھائی تو اس نے فوراً رستہ چھوڑ دیا اور گاڑی آگے کو بڑھ گئی ۔
رات کا آخری پہر چل رہا تھا۔ سردی بھی زوروں پر تھی ۔ تھر تھر کا نپتا جسم سردی کی شدت کو برادشت کرنے سے قاصر تھا۔ لیکن گاڑیوں کے شیشے مکمل طور پر بند کیے گئے تھے۔ سورج کی ننھی شفق اِک نئی کروٹ بدل چکی تھی اور رفتہ رفتہ سحر اپنا آپ منوانے کو تیار ہوتی جارہی تھی۔ کچھ کے راز جو رات کے اندھیروں میں پردہ اُوڑھے تھے۔ سحر کی بے رحم آمد نے ان رازوں سے پردہ اٹھا دیا تھا اور قدرت کی بے شمار نعمتیں دکھائی دے رہیں تھیں ۔ سفر ابھی ایک گھنٹہ اورباقی تھا۔ استاد کمانڈو کا فون پھر سے آیا اور ارباب کی غنودگی پر قاتلانہ حملہ کر گیا۔
’’جی استاد حکم !ارباب نے کا پنتے ہو نٹوں سے کہا ارباب خان کچھ بوکھلایاہو ا بھی تھا۔ رات بھر جاگتے رہنے کی وجہ سے اس پر نیند کا غلبہ تھا۔
’’ہاں کہاں تک پہنچے جلدی جاؤ وہاں میری اِک پارٹی تمہارا انتظار کر رہی ہے جی استاد بس ایک گھنٹہ اور ارباب خان نے چونکتے ہوئے کہا اور فون بند ہوگیا۔ ایک گھنٹے بعد خفیہ گودام کے سامنے جا کر گاڑی رکی اور ہارن دیا۔ فوراً گیٹ کھل گیا۔ گاڑی گودام کے اندر داخل ہوئی اورسامنے کے چند لو گ اُسے آتا دیکھ مسکرائے جیسے انھیں ارباب خان کی آمد کا ہی انتظار تھا۔ ارباب خان نے گاڑی سے قدم ابھی باہر ہی رکھا کے استاد کماندؤ کا فون پھر سے آگیا۔ ہاں ٹھیک ہے اب ان لوگوں کو وہ چیزیں دے دو جن کی یہ ڈیمانڈ رکھتے ہیں۔ باقی تمام تہ خانے کے گودام میں رکھ کر اپنا بریف کیس لے کر یہاں سے روانہ ہو جاؤ ارباب نے جی استاد جوحکم یہ کہہ کر فون بند کر دیا ۔ اب نظر ان آدمیوں پر ڈالی ۔ ان کے ہاتھ میں اِک لسٹ تھی۔ وہ لسٹ اشرف بھولے نے پکڑی اور ارباب کے اشارے پر تمام سامان گاڑی سے نکال کر ان کے سپر د کیا۔
دو کروڑ کا سامان ان آدمیوں کے سپر د کرنے کے بعد باقی سامان گودام میں بنے ہوئے تہہ خانے کے اندر رکھ دیا۔ گودام کے کمرہ نمبر4 میں بیڈروم تھا۔ اسکی سیف میں پڑا بریف کیس ارباب خان کی محنت تھی۔ اس نے وہ بریف کیس لیا اور وہاں سے واپس اپنے شہر لوٹ آیا۔ 50لاکھ کا مال ابھی ارباب خان نے اور گودام میں پہنچانا تھا۔ جسکی پلاننگ کے لیے کمانڈو استاد نے اسے 1ماہ بعد رابطہ کا کہا۔
شہر لوٹتے ہی ارباب خان نے چند آدمیوں کو تیار کیا اور بڑی گاڑیوں پر اسی پٹرول پمپ پر پہنچ گئے۔ وہاں پہنچتے ہی انہوں نے ہوائی فائرنگ کی جسکی وجہ سے لوگ ادھر اُدھر بھاگنے لگے ۔ پمپ کے تمام عملے کو پکڑ لیا گیا ۔ آفس میں پڑا 30لا کھ کا کیش لوٹا اور دفتر کا سارا فرنیچر بھی توڑ ڈالا ۔تمام اسٹاف کو لے کر گاڑی میں باندھ دیا اور وہاں سے رفوچکر ہوگئے ۔قسمت اچھی تھی سلمان اس دن بھی اپنی طبیعت کی خرابی کے باعث چھٹی پر تھا۔ سارے اسٹاف کی آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھ دی گئی اور ہاتھ بھی باندھ دیئے گئے ۔ رستہ کافی لمبا تھا۔ کمانڈؤ کے پاس جا کر یہ گاڑیاں رکیں
موقع پر موجود لوگوں نے ایسی گاڑیاں ایسی وردیاں کبھی نہیں دیکھی تھی۔ نہ تو یہ پولیس تھی نہ ہی رینجر کے لوگ تھے۔ پھر یہ کون سی فوج تھی۔ عجب قسم کی وردیاں میں ملبوس یہ نوجوان لگتے تو سپاہی تھے ۔سلمان کو خبر ہوئی تو اسکے والدین نے اللہ کا شکر ادا کیا ۔ ان کا بیٹا آج گھر پر ہی تھا۔ان کو باقی عملے کی گمشدگی کا بے حد افسوس تھا۔ وہ ان کی خیریت کے لیے دعائیں کر رہے تھے۔ ارباب خان نے کمانڈو سے کہا۔
’’ استاد ! یہ میرے مجرم ہیں ان کو کڑی سزادو‘‘
استاد کمانڈو نے مسکرا کر کہا۔’’واہ شہزادے تیرے مجرم ہیں۔ لے پھر ان کو ایسی سزا دوں گاکہ عمر بھر یاد رکھیں گے۔
کمانڈو نے پاس کھڑے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ ان سب کو الٹا لٹکا دواور ان پر گرم پانی انڈلیتے رہو اور ہاں ان کی زبردست ڈنڈ سروس بھی کرواؤ۔ ہمارا شہزادہ خوش ہو جائے۔
’’ ارباب خان مسکر ایا ۔ اسکے چہر ے پر اطمینان تھا۔ لیکن اِک بات کا غم تھا کہ سلمان ان میں شامل نہیں تھا۔ دس دن کی سزاکے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا۔لیکن سب کی حالت ان بے جان جسموں کی سی تھی ۔ ایک بڑی گاڑی میں سب کو بے رحمی سے پھینک کر واپس شہر کی مین سڑک کنارے چھوڑ کر گاڑی وہاں سے رفو چکر ہوگئی۔ ارباب خان کو اب سلمان کی تلاش تھی۔
اپنی مد د آپ کے تحت شہریوں نے اسٹاف کو ہسپتال پہنچایا ۔ ان میں سے دو کی حالت تشویش ناک تھی۔ جسکی وجہ سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے ۔ باقی افراد کی ٹرٹمنٹ شروع کر دی گئی۔ چند روز بعد خبروں میں معلوم ہو ا کہ اسی پارٹی کے ایک اور پمپ پر اس گروپ کوموقع پر ہی پولیس نے حراست میں لے لیا اور اب سارا گروپ حوالات کی ہوا کھا رہا ہے۔ ارباب خان کی گرفتاری کی خبر سن کر سلمان بہت خوش ہوا اور تھانے جا کر اس نے یہ بیان درج کر وایاکہ اس نے ہی ہمارے پمپ پر حملہ کروایا تھا۔ یہ ہی اصل مجر م ہے ۔ سلمان کے بیان دینے پر ارباب خان کی کافی دھلائی کی گئی اور اس سے تفیش کے دوران معلوم ہواکہ ارباب خان ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ غربت و افلاس کی اس قدر انتہا تھی کہ مشکل سے گھر کا چولہا جلتا تھا ۔ اربا ب خان کا اصل نام محمد بشیر تھا۔ بی اے کے بعد نوکری کی بہت تلاش کی مگر ہر طرف سے ناامیدی ہوئی ۔ اپنی انا کا قتل کرنے کے بعد اس نے اک چائے کے کھوکھے پر کام کرنا شروع کر دیا۔
وہاں کمانڈو گروپ کے بندے چائے پینے آتے تھے۔ ارباب خان اکثر ان کی باتیں سنتا تھا۔ اسکے دل میں بھی یہ خیال آیا کہ کیوں نا ان لوگوں سے کسی بڑی نوکری کی بات چلائی جائے ۔ اک روز ارباب نے چائے دیتے ہوئے کمانڈو گروپ کے آدمیوں سے یہ درخواست پیش کر دی کہ وہ نوکر ی لینا چاہتا ہے ۔ اسکی تعلیم بی اے ہے کمانڈو گروپ نے کہا تم ہمارے ساتھ چلو ہم تمھیں ایسی نوکری دلواتے ہیں کہ لاکھوں میں کھیلو گے ۔ ارباب کی طبیعت میں لالچ آگیا اور وہ ان کی ساتھ چل دیا۔ ان آدمیوں نے ارباب کی ملاقات کمانڈو سے کروائی اور پھر یوں اسکا سلسلہ چل پڑا۔ وہ جرائم کی دنیا میں 25سال کا تجربہ رکھتا ہے ۔ ارباب نے یہ بھی بتایا کہ اب وہ کمانڈو کے خاص آدمیوں میں شمار ہوتا تھا۔ اسکی ایک بوڑھی ماں اور بیوی بچے بھی ہیں ۔ 6بچوں کا وہ باپ تھا۔ جن کا پیٹ پالنے کے لیے وہ اس کام میں پڑ گیا۔ لالچ بڑھتا گیا تو جرائم کے خطروں سے ڈرنا بھی بھول گیا ۔ اسکے خلاف بہت سے کیس مختلف تھانوں میں درج تھے۔ اسکی بہت دھلائی کی گئی تھی۔
آخر برے کاموں کا برا ہی نتیجہ ہوتا ہے۔ پورے کمانڈو گروپ کو بدترین سزائیں دی گئیں اور عدالت نے انہیں عمر قید کی سز ا سنائی ۔ پمپ کے عملے میں مرنے والوں میں سے اِک لڑکا عمران جس کے پیچھے کمانے والا کوئی نہ تھا۔ اِک ماں اور بہن تھی جو کہ اب بے سہارا ہوچکی تھی ۔
ارباب کی تعلیم بھی اسکے کس کام آئی ؟ یہ غربت ہی ہے جو انسان کو دہشت گرد بنا دیتی ہے۔ ہر شخص کو چاہے وہ امیر ہے یا غریب پیسہ چاہیے اور اس پیسے کی خاطر انسان ہر حد پار کر جانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ پھر جہاں یہ کمانڈو بیٹھے ہیں۔ وہ انسان کو جنت کے خواب دکھلا کر بہکاتے ہیں۔ جس سے انسان کی دنیا ہی کیا آخرت بھی خراب ہو جاتی ہے۔خالی پیٹ شیطان کی آماجگاہ ہوتا ہے اور یہی پیٹ انسان کو کمینہ بنا دیتا ہے ۔

1,343 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/gmub9bo
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *