![]()
Justice and Fairness
تحریر: کوکب مشتاق، گجرات
عدل و انصاف کو تولنے کے لیے ترازو
قاعدے ہوں کبھی پورے ہے یہ آرزو
انصاف کی رٹ ہر اک انسان کی زبان پے ہمہ وقت رہتی ہے لیکن کیا ہم اس کام کی تقسیم بھی ٹھیک طرح سے کرتے ہیں جس کے لیے ہم انصاف مانگتے ہیں؟
جھوٹا جھوٹ بول کے کہتا ہے انصاف چاہئیے، قاتل قتل کر کے کہتا ہے انصاف دو، کرپٹ کرپشن کر کے روتا ہے انصاف نہیں ملتا، امیری اور غریبی کی جنگ میں غریب کا حق کھا کر بھی امیر انصاف مانگتے ہیں، گناہ کرتے ہوئے نامہ اعمال کے وزن کی فکر کس نے کی ہے اب تک؟دنیا میں انصاف بس نام کا رہ چکا ہے۔ اشیائے خوردونوش میں کمی بیشی بھی عدل انصاف کے قاعدے اور قانون سے ہوتی ہے مگر ہم سمجھتے ہیں کہ نہیں یہ انصاف صرف اس وقت کام آتا ہے جب کوئی بڑا معاملہ درپیش ہو۔ کیا ڈر نہیں لگتا کہ دنیا میں جھوٹی شہرت، ناحق فیصلوں سے اپنا نام بنایا جا رہا ہے اور حشر والے دن اعمال کا ترازو انہیں گناہوں کے بوجھ سے لد چکا ہو گا۔ کیا اس دن اپنے لیے انصاف مانگنے کے قابل رہ جائیں گے ہم لوگ؟ لمحہ فکریہ ہے نامہ اعمال کس ہاتھ میں تھمایا جائے گا؟ آج سیرتِ حضرتِ عمرؓ کی مثال ہر اس موقع پر دی جاتی ہے جہاں عدل و انصاف کی بات آئے مگر کیا ہم اس پے عمل کرتے ہیں؟ ایسے کئی سوالات کا انبار ہے مگر لاجواب ہوں میں۔کاش کے وہ دور واپس آجائے جہاں واقعی انصاف کا ڈنکا بجے، کوئی غریب رشوت خوروں کے ہاتھوں ذلیل و رسوا نا ہو، کوئی بہن، بیٹی سڑکوں پے عزت کی پامالی کا رونا نا روئے، کوئی ماں اپنے لختِ جگر کے ناحق خون کے بدلے کے واسطے عدالتوں میں چادر نا پھیلائے، کسی باپ کو اس کے جوان بیٹے کی میت کو کاندھا نا دینا پڑے کاش کے آج کی دنیا میں دورِ حضرتِ عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیساعدل اور انصاف قائم ہو سکے۔ آمین
