دربارِ رسالت کے ایک بے باک سپاہی حضرت سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ

M. Tariq Nouman Garrangi
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

صحابہ کرام جانثارانِ مصطفی تھے،وہ ہر وقت اللہ اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاکی تلاش میں تھے ان کا ہر قدم رضائے الٰہی میں اٹھتا تھا۔صحابہ کرام کی دین کے لیے محنت اور میدانِ عمل میں مشقت کو دیکھا جاتاہے تو دل اس بات کی گواہی دیتاہے یہ لوگ رب کے خوشنصیب بندے ہیں جنہیں دنیامیں ہی جنت کی بشارتیں مل چکی ہیں بعض صحابہ کرام کے واقعات پڑھ کر عجیب سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے آج ان صحابہ کرام میں سے ایک صحابی رسول کے ذکر خیر کوقلم و قرطاس کے حوالے کر رہاہوں جو آپ کے ایمان کوتازگی بخشے گا تو جی ہاں یہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ قبیلہ اشہل کے سردار اور معزز صحابی ہیں جن کی وفات سے اللہ رب العزت کا عرش ہل گیا تھا۔

نام ونسب

سعد نام،ابو عمر وکنیت،سید الاوس لقب، قبیلہ عبد الاشہل سے ہیں سلسلہ نسب یہ ہے،سعد بن معاذ بن نعمان بن امر اء لقیس بن زید بن عبد الاشہل بن حشم بن حارث بن خزرج

والدہ کا نام: کبشہ بنت رافع تھا، جو ابو سعید خدری کی چچا زاد بہن تھیں، قبیلہ اشہل،قبائل اوس میں شریف ترین قبیلہ تھا اور سیادت عامہ اس میں وراثت چلی آتی تھی۔
والد نے ایام جاہلیت ہی میں وفات پائی،والدہ موجود تھیں ہجرت سے قبل ایمان لائیں اورسعد ؓکے انتقال کے بعد بہت دنوں تک زندہ رہیں۔

حضرت سعد بن معاذؓکلمہ شہادت پکاراٹھے

عقبہ اولیٰ میں یثرب میں اسلام آ چکا تھا،لیکن حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی وجہ سے بہت لوگ مسلمان ہوئے شروع میں حضرت سعد بن معاذرضی اللہ عنہ ابھی حالت کفر میں تھے، ان کوحضرت مصعب رضی اللہ عنہ کی کامیابی پر سخت حیرت اور اپنی قوم کی بے وقوفی پر انتہا درجہ کا حزن وملال تھا۔

اسعد بن زرارہ نے حضرت مصعب رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ سعد بن معاذ مسلمان ہوجائیں گے تو کوئی کافر نہ رہ سکے گا، اس لیے آپ کو ان کے مسلمان کرنے کی فکر کرنی چاہیے، سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ حضرت مصعب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں،آپ بیٹھ کر سن لیجئے،ماننے نہ ماننے کا آپ کو اختیار ہے حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے منظور کیا تو حضرت مصعب ؓنے اسلام کی حقیقت بیان کی اور قرآن مجید کی چند آیتیں پڑھیں جن کو سن کرحضرت سعد بن معاذرضی اللہ عنہ کلمہ شہادت پکار اٹھے اورمسلمان ہو گئے۔ قبیلہ عبد الاشہل میں یہ خبر فوراً پھیل گئی۔
حضرت سعدرضی اللہ عنہ نے سب کو کہا جب تک مسلمان نہیں ہوگے میں تم سے بات چیت نہیں کروں گا،آپ رضی اللہ عنہ کو اپنی قوم میں جو عزت حاصل تھی اس کا یہ اثر ہوا کہ شام ہونے سے قبل تمام قبیلہ مسلمان ہو گیا۔ مسلمان ہوکرحضرت سعدرضی اللہ عنہ نے حضرت مصعب ضی اللہ عنہ کو اسعد بن زرارہ کے مکان سے اپنے ہاں منتقل کر لیا۔

حضرت سعدؓ کا مقام و مرتبہ

اخلاقی حیثیت سے حضرت سعدبن معاذرضی اللہ عنہ بڑے درجہ کے انسان تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنھافرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بڑھ کر عبد الاشہل کے تین آدمی تھے،سعدبن معاذ، اسید بن حضیر اور عبادہ بن بشر۔ وہ خود کہتے ہیں کہ یوں تو میں ایک معمولی آدمی ہوں لیکن تین چیزوں میں جس رتبہ تک پہنچنا چاہیے پہنچ چکا ہوں،پہلی بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث سنتا ہوں اس کے منجانب اللہ ہونے کا یقین رکھتا ہوں،دوسرے نماز میں کسی طرف خیال نہیں کرتا، تیسرے جنازہ کے ساتھ رہتا ہوں تو منکر نکیر کے سوال کی فکر دامن گیر رہتی ہے۔

حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ خصلتیں پیغمبروں میں ہوتی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اعمال پر جو اعتماد تھا وہ اس حدیث سے معلوم ہو سکتا ہے جس میں مردہ کو قبر کے دبانے کا ذکر آیا ہے،اس کا ایک فقرہ یہ بھی ہے کہ اگر قبر کی تنگی سے کوئی نجات پاسکتا تو سعد بن معاذ نجات پاتے۔
سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ وہ عظیم و جلیل القدر بدری صحابی ہیں کہ ان کی وفات سے اللہ رب العزت کا عرش ہل گیا تھا
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی موت سے رحمن کا عرش ہل گیا (رواہ بخاری رقم الحدیث ۳۸۰۳، رواہ مسلم رقم الحدیث ۲۴۶۶)
حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا!عرش کا ہلنا سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی محبت کی وجہ سے ہے۔(سیراعلام النبلا جلد ۱ صفحہ ۲۹۷)
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ریشمی حلہ (جوڑا)تحفہ آیا، صحابہ کرام اسے چھونے لگے اور اس کی نرمی پر تعجب کرتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تم اس کی نرمی پر تعجب کرتے ہو؟ جنت میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے رومال اس سے بہتر اور اس سے زیادہ نرم وملائم ہیں (رواہ بخاری رقم الحدیث ۳۸۰۲، رواہ مسلم رقم الحدیث ۲۴۶۸)
نیز آپ نے فرمایا:اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے۔جنت میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے رومال اس سے زیادہ حسین وخوبصورت ہیں (رواہ مسلم رقم الحدیث ۲۴۶۹)
روایات میں ہے کہ ایک قوم (یہود بنوقریظہ)نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے انہیں بلانے کے لئے ایک آدمی بھیجا اور وہ ایک گدھے پر سوار ہوکر آئے جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اپنے بہترین شخص یا اپنے سردار کی طرف کھڑے ہو (کر بڑھو)
پھر آپ نے فرمایا:اے سعد!بلاشبہ انہوں نے تمہیں ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیے ہیں (سعد رضی اللہ عنہ)فرمایا:پھر میرا فیصلہ ہے کہ ان کے جنگی لوگوں کو قتل کیا جائے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنالیا جائے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم نے اللہ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا ہے یا فرشتے کے فیصلے کے مطابق(رواہ بخاری رقم الحدیث ۳۸۰۴)

غزوات میں شرکت

حضرت سعد رضی اللہ عنہ عمرہ کی غرض سے مکہ روانہ ہوئے اور امیہ بن خلف کے مکان پر (جو مکہ کا مشہور رئیس اوران کا دوست تھا)قیام کیا(امیہ مدینہ آتا تھا تو ان کے ہاں ٹھہرا کرتا تھا)اورکہا کہ جس وقت حرم خالی ہو مجھے خبر کرنا، چنانچہ دوپہر کے قریب اس کے ساتھ طواف کے لیے نکلے راستہ میں ابو جہل سے ملاقات ہوئی،پوچھا یہ کون ہیں؟

امیہ نے کہا”سعد” ابو جہل نے کہا تعجب ہے کہ تم صابیوں (بے دین،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ مراد ہیں)کو پناہ دے کر اوران کے انصار بن کر مکہ میں نہایت اطمینان سے پھر رہے ہو،اگر تم ان کے ساتھ نہ ہوتے توتمہارا گھر پہنچنا دشوار ہوجاتا، سعد نے غضب آلود لہجہ میں جواب دیا، تم مجھے روکو پھر دیکھنا کیا ہوتا ہے؟ میں تمہارا مدینہ کا راستہ روک دونگا امیہ نے کہا “سعد!ابو الحکم (ابو جہل)مکہ کا سردار ہے،اس کے سامنے آواز پست کرو”

حضرت سعدرضی اللہ عنہ نے فرمایا،چلو ہٹو، میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مسلمان تم کو قتل کریں گے،بولا کیا مکہ میں آکر ماریں گے؟ جواب دیا اس کی خبر نہیں۔
اس پیشن گوئی کے پورا ہونے کا وقت غزو بدر تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو صحابہ سے مشورہ کیا، حضرت سعدرضی اللہ عنہ نے اٹھ کر کہا یا رسول اللہ!(صلی اللہ علیہ وسلم) ہم آپ پر ایمان لائے، رسالت کی تصدیق کی،اس بات کا اقرار کیا کہ جو کچھ آپ لائے ہیں حق اور درست ہے سمع اورطاعت پر آپ سے بیعت کی پس جو ارادہ ہو کیجئے، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو نبی بنا کر بھیجا اگر آپ سمندر میں کود نے کو کہیں تو ہم حاضر ہیں ہمارا ایک آدمی بھی گھر میں نہ بیٹھے گا، ہم کو لڑائی سے بالکل خوف نہیں اور اان شاء اللہ میدان میں ہم صادق القول ثابت ہوں گے، خدا ہماری طرف سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کرے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس تقریر سے خوش ہوئے قبیل اوس کا جھنڈا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حوالہ کیا، غزوہ احد میں انہو ں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آستانہ پر پہرہ دیا تھا۔ غزوہ احد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ ثابت قدم تھے اورآپ کے ساتھ دو اصحاب تھے انہی میں حضرت سعد بن معاذرضی اللہ عنہ بھی تھے۔

وفات

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ جنگ خندق میں زخمی ہوگئے ایک (ابن عرقہ نامی)شخص نے ان کے بازو کی رگ پر نشان مارا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے مسجد میں خیمہ لگوا لیا تاکہ قریب ہی سے ان کی عیادت کرتے رہیں (رواہ بخاری رقم الحدیث ۴۲۳، ابوداؤد ۳۱۰۱)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا زخم خشک ہوکر اچھا ہونے والا تھا کہ انہوں نے دعا کی اے اللہ!تو جانتا ہے کہ مجھے تیری راہ میں ان لوگوں کے خلاف جہاد کرنے سے زیادہ کوئی چیز پسند نہیں جنہوں نے تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا اور(مکہ سے)نکالا۔اے اللہ!اگر قریش کی لڑائی ابھی باقی ہے تو مجھے زندہ رکھ میں ان سے جہاد کروں گا
اے اللہ!میں سمجھتا ہوں کہ تو نے ہمارے اور ان کے درمیان لڑائی ختم کردی ہے اگر اسی طرح ہے تو اس زخم کو کھول (کر تازہ کر)دے اور میری موت اسی میں (شہادت والی)کر پھر وہ زخم (اسی رات)ہنسلی کے مقام سے بہنے لگا مسجد میں ان کے ساتھ بنوغفار کا خیمہ تھا اور خون ان کی طرف بہہ کر آرہا تھا وہ خوف زدہ ہوکر کہنے لگے اے خیمہ والو!یہ تمہاری طرف سے ہماری طرف کیا چیز بہہ کر آرہی ہے؟ جب انہوں نے دیکھا تو سعد رضی اللہ عنہ کا زخم بہہ رہا تھا پھر وہ اسی میں فوت ہوگئے (رواہ مسلم رقم الحدیث ۱۷۶۹)
جب آپ رضی اللہ عنہ کا جنازہ روانہ ہوا تو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ ساتھ تھے، فرمایا کہ ان کے جنازہ میں ستر ہزار فرشتے شریک ہیں،لاش بالکل ہلکی ہو گئی تھی، منافقین نے مضحکہ کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کا جنازہ فرشتے اٹھائے ہوئے تھے۔(سبحان اللہ)

Short URL: https://tinyurl.com/2ogeymzf
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *