غربت اور بےقوفی

Zia Ullah Gilgiti
Print Friendly, PDF & Email

تحریر:ضیإاللہ گلگتی
وہ نم آنکھوں سےدیوار کے طرف دیکھ رہےتھے۔شاہد وہ ماضی کی بےقوفی اور مسقبل کی تابناک کی گہراٸی میں کھو گٸے تھے۔انسان کے کچھ احساسات ایسے ہوتےہیں جو الفاظ سے زیادہ اہمیت رکھتےہیں۔ان کےساتھ بھی ایساہی ہواتھا۔وہ رمضان المبارک کے دن دس بجے اپنے چارپاٸی پہ لیٹے ہوٸی کرواٹے بدل رہیں تھے۔ لکین نیند اسے اپنے گود میں لینے سےانکار کررہی تھے۔
وہ کوشش کررہےتھے۔ نیند آٸیں تو تاکہ دماغی سکون ملے لکین غریب کےلے نیند بھی بہت مہنگی ہوتی ہے۔وہ اپنے اوپر چادر اڑھتےہوٸے آنکھیں بند کرتاہے آخر کار ناکامی ہوٸی اس کے چہرے کے تصورات بتارہےتھے کہ وہ کسی بڑی بلا میں مبتلاتھا۔
جب میں نے ہمت کرکے قریب جاکر سلام کیاتو جواب دیا وعلیکم سلام ! علیک سلکہ سے اندازہ ہوا کہ بندہ بہت علمی اور سمجھ دار لگا۔میں نے تشریف رکھنے کی آجازت مانگا تو ہاں میں سر ہلادیا۔نہچے بیٹھ کر کچھ سوالات کرنے کی آجازت مانگا اس نے کہا جی بالکل پوچھ سکتےہیں۔
ہم نے موقع کو غنمت جان کر جلد سے پوچھا بھاٸی آپ میں اعلی قسم کی صلاحیت موجود ہیں۔آپ پھر بھی پریشان لگ رہےہو؟
اُس نے تھوڑی دیر میرے طرف گھورتے ہوٸے عجیب نظروں سے دیکھا اور پھر پانچ منٹ کےلیے خاموش ہوگیا شاہد وہ سوچ رہاہوگا جواب دوں یا نہ دوں۔اتنے میں جواب دیا جناب ”غربت ہر صلاحیت کولاچار بنادیتی ہے۔
میں سمجھ گیا کسی معاشی مسلہ ہیں۔میں نے مزید اصرار کر کے پوچھا کہ بھاٸی آپ کو تو ڈیم کے پیسے بھی بہت ملے تھے۔
بس اتنا ہی کہنا اس کے بعد اس نے اپنے کہانی شروع کیا شاہد دیامر کے اکثر متاثر لوگوں کے ساتھ یہی ہوا جو اس نوجوان کے ساتھ پیش آیا ہے۔
کہانی کچھ یوں ہےکہ ہم آٹھ بھاٸی ہے۔ہمارے کافی زمینں دیامیر بھاشہ ڈیم کے زد میں آگیاہے۔جس کی معاوضہ تقریباً چھ کروڑ تک ملے تھے۔پیسے ملتےہی ہم نے آٹھ گاڑیاں خریدں ہر بھاٸی کی اپنی ہی گاڑی ہوگٸے روزانہ ہم چلاس جاتے اور شام کو گھر کا رخ کرتےتھے۔انکم ایک روپیے نہیں آرہےتھے اور روزانہ کے حساب سے دس ہزار ہمارے خرچہ تھے،کچھ پیسے سود میں لگایا اور کچھ پیسے ڈاسو ڈیم میں لگایاتاکہ ڈاسو ڈیم کے پیسوں میں بھی حصہ ہوگا۔کچھ پیسے دوستوں میں بانٹا اور خود بھی ہاتھ بہت کھولا رکھا اس کے بعد دیکھا تو آکاونٹ میں صرف دو کروڑ روپے رہےگیا۔پھر آہستہ آہستہ گاڑیاں بھچنے شروع کیا وہ بھی قسط وار دس پندرہ ہزار میں،تھوڑے کھچ پیسے بچے تھے تو وہ بیماری اور گھر کے خرچے میں ختم ہوگیا۔
 ایک سال بعد کوٸی زمین خریدا تھا اس کےلیے پیسے نکالنے کےلیے بینک میں جاکر معلوم کرنے پہ پتہ چلا کہ اکاونٹ میں صرف 250 رہےگیاہے۔بینک سے باہر نکالا تو ایسا لگا کہ زمین مجھے نگل رہاہے۔ اور خون کی سپڈ بڑھنے سے پریشر بھی بڑگٸ۔
آج کل رمضان المبارک کے مبارک مہنہ میں میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے یہاں تک مجبور ہوں کہ افطاری کےلیے بھی دوسروں کے اسرا پہ ہوں۔
پچھے کٸ دنوں سے بخار میں مبتلا ہوں لکین دواٸی لینے کی گنجاٸش نہیں ہے۔اور ساتھ ہی سات لاکھ کا مقروض بھی ہوں۔ یہی میری داستان ہیں۔
کسی دانا کا قول ہے پیسے کمانے سے بھی زیادہ مشکل پیسے سنبھالنا ہے۔یہی فارمولا دیامر والوں پہ جھچتا ہے۔پیسے تو ملے لکین پیسوں کو استعمال کرنے کے طریقے سے ناواقف ہوٸے۔
 دنیا میں ایسے بھی بہت کم لوگ ہونگے جن کو کروڑں میں پیسے ملے لکین عیاشی اور بدمعاشی کی وجہ سے سب اڑادیے ہونگے۔
غربت وافلاس بہت بری بلا ہے۔اور مصیبت ہے۔یہ کتنی پریشان کن چیز ہوتی ہے۔یہ غریب اور مفلس و متحاج ہی لوگ جانتےہیں۔جب انسان غریب اور مفلس بن جاتاہے۔تو یہی نہیں کہ اس کی عزت و آبرو داو پر لگ جاتاہے۔بلکہ اس کے دین ودھرام اور ایمان بھی خطرے میں پڑجاتاہے۔
 یہاں پہ اپنے بےقوفی اور نااہلی کی وجہ سے پیسے کسی مناسب جگہ پہ لگا کہ کاروبار کرنے کےبجاٸے گاڑویوں کی بھرمار اور عیاشوں میں ختم کردیا۔اگر ایک بندہ آمدن ایک ہزار روپے تک نہیں پھر اس کو 20 لاکھ کی پراٸیوٹ گاڑی رکھنے سواٸی جہالت اور بےقوفی کے علاوہ کیا ہوسکتی ہے۔
کچھ نے بعض بےقوف دوستوں کو بطور قرض دیکر پھنس گٸ جو بعض میں واپس نہیں کرسکے۔
اس حوالے سے قرآن مجید میں بھی احکام ہیں۔قرآن مجید کی سورة النسإ پارہ نمبر 4 آیات نمبر 5 میں ”فرمایاہےکہ اپنا وہ مال جو اللہ نے تمہارے کھڑا رہنے اور زندہ رہنے کا زریعہ بنایاہے،بیوقوں کو مت دو“مطلب اس بات کی واضع ہے اپنا مال اپنے پاس سنبھال کر رکھو اور مناسب جگہ پر خرچ کرو.
دیامر والوں کو اللہ نے پیسے اور قدرتی وساٸل سے مالامال کیاہے۔لکین ان کو صیح طرح سے استعمال کرنے سے محروم رہیں۔

Short URL: http://tinyurl.com/y67p8g56
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *