رونا

ہمیں رونا خوب آتا ہے روتے روتے کبھی کبھار بُرا حال بھی کر دیتے ہیں اپنا۔رونے دھونے میں ہمارا جواب نہیں اب تو بس ہمارا کام رونا دھونا ہی رہ گیا ہے۔پہلے کسی کی موت پر روتے تھےیا بہت خوشی میں روتے تھے اب خوشی کا رونا نصیب والوں کے ہی قسمت پہ لکھا ہوا ہے۔ بس اپنے نصیب پہ رونا رہ گیا ہے۔یہ نہ سمجھنا کہ رونا کوئی عیب ہے رونے سے بوجھ ہلکا ہوتا ہے روتے رہو اور اپنا بوجھ ہلکا رکھو ۔یہ بوجھ تو اپنا ہی پالا ہوا ہے اپنے کئے کا کیا علاج۔جو علاج کرنے والے ہیں وہ بھی تو رونے دھونے کی بات کرتے ہیں اور جب معالج ہی رونے دھوئے تو سمجھو کہ مرض لا علاج ہے اور ملک الموت سرھانے کھڑا ہےاور آخری سفر شروع ہونے والا ہے۔ ایسے میں اپنے گورنر کی بات کو پلے باندھتے ہوئے اپنی وصیت لکھنا نہ بھولیں اور اس بات کا ضرور ذکر کریں کہ میت کو استور روڈ اور سکردو روڈ سے نہ گزارا جائے کیونکہ ایسی صورت میں لوگوں کے رونے کے بجائےمرنے کے بعد بھی آپ ہی کو رونا پڑے گا۔ گورنر گلگت بلتستان بھی اسی روڈ سے گزرتے ہوئے بہت روئے ہیں اور جس کا اظہار انہوں نے بر ملا کیا ہےاس کے اس رونے کے بیان سے مجھے پھر رونے کا دورہ پڑا ہے رونے سے پہلے یہ بات پوچھنی ہے کہ میں کس پہ روئوں؟ بیان پر یا گورنر پر یا اپنے آپ پر؟لازمی بات ہے کہ جس کا کام اس روڈ کو بنانا ہے وہ خود رونے کی بات کرے تو اسی پہ رونا چاہئے ۔اگر رونے سے روڈ بنتے ہیں تو آئو سب مل کر گورنر گلگت بلتستان کا ساتھ دیں اور اتنا روئیں کہ استور اور سکردو روڈ مکمل ہو جائے









Leave a Reply