چھوٹو کیسے چھوٹو بنتا ہے۔۔۔۔ تحریر: سید انور محمود

پر میڈیاا?جکلغلام رسول عرف غلام ہے، ہورہا چرچا بہت کاچھوٹو رسول نیبیس اپریل2016 پاک صبح کیء4 فوج کی جانب سے ہتھیار پھینکنے کی وارننگ کے بعد ہتھیار ڈال کر خود کو کیفوج حوالے علاوہ کے چھوٹو عرف رسول غلام ہے۔کردیا ہمیشہ چھوٹو مجھے پڑھا، میں بارئے اسکے یا ملا سے چھوٹو کسی بھی جبمیں احساس یہ اور لگا ساعجیبجاگا مل ہمارئے کہ کو بچوں ہمارئے حالات کیک کیسے چھوٹو ہیں بناتے ہے۔ بنتا چھوٹو کیسے چھوٹو یا 1980 تین ، کراچی میں عشرے کےء کیھٹی سرکاری گھر کے روڈ مین کے کواٹرمارٹن کووں د توڑ نے حکومتیا تین ، لوگوں گئی، بھول حکومت تھا کام کا حکومت تھا، کرنا روڈچوڑا گرومندرتک سیھٹی ہوئے ٹوٹینے گھروں کے گھر میرئے کردیے، شروع کاروبار کرکے قبضے پر یہ تعریف کی گیراج موٹر اس گیا، کھل موٹرگیراج ایک میں مکان کے روڈ مینسامنے فنکار معروف کے وی ٹی پی تھے، کرتے ٹھیک کو گاڑیوں مرسٹیز صرف یہ کہتھی کا گیراج اس تھے، ا?تے کرانے ٹھیک مرسٹیز اکثراپنی بھی جیدی عرف خان شاہاطہر تھا، ماہر کا کرنے دور خرابی کی مرسٹیز جو تھا بچہ کا سال بارہ ایک کاریگراصل تقریبا سے ا?ج اور تھے پکارتے کر کہہ چھوٹو سب کو کاریگر ماہراس36 قبل سال اس چھوٹو کاریگر تنخواہکی3000 سامنے کے اس مالک کا گیراج اس اور تھی روپے اس نے میں تو ا?یا لینے پانی گھر ہمارئے چھوٹو یہ دن ایک تھا۔ ہوتا کھڑا باندھیہاتھ تھا کا سال چھ جب میں تھا جواب کا چھوٹو نہیں، کیوں پڑھا نے اس کہ پوچھاسے تو سیکھ کام کا میکینک موٹر سے وجہ کی بہنوں تین اور والدہ ہوگیا، انتقال کا والدمیرئے لیا۔ اگر اس چھوٹو کو صیح تعلیم ملتی تو وہ ایک قابل میکنیکل انجینر بن سکتا تھا۔ بھییہ1980 بس کیلیے جانے ا?فس میں صبح دن ایک کہ ہے بات کی عشرے کےء4 بیٹھامیں کے گرومندر نے ڈرائیو بسہواتھا، بعد منٹ پانچ ، کردی کھڑی بس پراسٹاپ کرنے مطالبہ کا چلانے بس سے ڈرائیو بس اور کردیا شروع مچانا شور نیمسافروں رہا بیٹھا خاموش ڈرائیو بس لیکنلگے۔ سال بارہ یا بیٹھیدس میں برابر میرئے اچانک میں بعد اور لگا والا کرنے کام میں گیراج موٹر کسی سے حلیے جو نے بچیکے میری دئے جانے ‘‘ابے بولا کرکے مخاطب کو ڈرائیو بس سے زور ہوگئی بھیتصدیق غصے بہت اور چھوڑی سیٹ اپنی نے ڈرائیو بس کہ تھا سننا یہ بھائی’’، کے والیگھر یہ کہ سمجھایا کو ڈرائیو بس نے میں ا?یا، مارنے کو بچے اسمیں بچہ موٹرکسی کو کسی نے استاد کے اس میں دن تین دو گذشتہ ہے ہوسکتا ہے، چھوٹو کاگیراجایساہی کچھ اور لگا اچھا کو اس تو ہو کہا اب نے اس تو پوچھا جب سے بچے دیا۔ کہہ کو ا?پ رہا کہہ سے چھوٹو والے لانے چائے کل اور ہے کہتا چھوٹو کو اس استاد کا اس کہبتایا بھائی’’۔ کے والی گھر میری ا? لے چائے دو سے ‘‘جلدیتھا کا حالات شاید بھی چھوٹو یہ کیا اور نہیں پتہ تھا، کررہا کام وہ پاس کے استاد کے طرح جس اور ہوگا ہواشکار کیابرایئاں سیکھیں ہونگی۔راجن پور کیغلام رسول صرف عمرکی13 ناگہانی پر خاندان کے اس جب تھی سال پڑی ٹوٹمصیبت۔ دو کے علاقے کے اس قبائل چاچڑ اور بدترین میں ا?پس جوکوش قبیلے کوش میں نتیجے کے جس لڑپڑئے میں ا?پس سے وجہ کی عورت ایک تھیدشمن غلام گئے۔ مارئے افراد ا?ٹھکے رسول کے ایک بھائی رسول بخش شوبی چاچڑوں کا دوست تھا، کوشوں نے غلام رسول کو والوں اورگھر شوبی بھائیکے تشدد بنایا نشانہ کااور گھر کو آگ لگا دی، انھوں نے اپنے آٹھ لوگوں کے قتل میں شوبی کا نامبھیلیا، پولیس نے شوبی کو گرفتار کر لیا، اس کا خاندان گاؤں سے بھاگ گیا اور لوگوں نے اس کے گھر اور زمینوں پر قبضہ کر رسول غلاملیا۔ جیل میں بھائی سے ملنے گیا، پولیس نے اسے گرفتار کیا اور اس پر موٹر سائیکل چوری کا مقدمہ بنا دیا۔ غلام رسولتین سال بعدجیل سے نکلا تو پولیس نے اسیپھر گرفتار کرلیا، تھانے میں تشدد کے دوران اس کی ایکٹانگ ٹوٹ گئی، کیپولیسبیجا تشدد نے غلام رسول کو میں دنیا کیجرمدھکیل دیا۔ کیچھوٹو کہ ہے کہنا کا لوگوں کے علاقے غلام چھوٹو عرفرسول تو مزدورایک بچہ تھا جو مزدوری کی خاطر کیہوٹل چائیایک پر تھا کرتاکام۔ میں شروع اپنے ا?پ کو تحفظ دینے کے لئے چھوٹو نے علاقہ کے سردار کے پاس بطور گارڈ بھی کام کیا اور پولیس کے لئے مخبری کا کام بھی کرتا رہا۔پھر وہ خود مویشی چوروں اور دوسرے جرائم پیشہ افراد کے ساتھ کام کرنے لگا اور بوسن گینگ کے ساتھ رابطوں کے بعد اغواء4 برائے تاوان کے گھناؤنے دھندے میں اپنے علاقہ میں محفوظ پناہ گاہ ہو نے کی وجہ سے بڑا نام بن گیا۔ توچھوٹو ا?ئے باہر سے جیل دوست والے بننے میں جیل کے اس کے گینگ کے اس اور یہ لیے اس ہے نفرت سخت اسکو سے پولیس بنالیا، گینگ اپنانے مار گولی ہی دیکھتے کو ان یا کرتے تشدد بدترین پر ان کرکے اغوا کو پولیس لوگ دیتے۔ اسے رہا، ا?تا کام یہ کے جاگیرداروں اور سرداروں مختلف جرائم کی دنیا میں اہم مقام دلانے میں پولیس کی زیادتیوں، قبائلی رسم و رواج اور سرداری نظام نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ چھوٹوں تمام گئے کیے ذکراوپر ہمارئے طرح کسی نہ کسی راء میں ملک ج خراب ہیں، پیداوار کینظام کے اس میں بچپن اور ملتا موقعہ کا تعلیم کو چھوٹو پہلے اگر ہوتا، ثابت اثاثہ ایک کیلیے قوم و ملک وہ شاید تو جاتے کردیے حل مسائلمعاشی ثابت اثاثہ کا قوم و ملک وہ کہ سکتا کہہ نہیں تو یہ میں میں بارئے کے چھوٹودوسرئے ہوتا، دونوں استاد اسکے اور وہ چونکہ کہ ا?یا خیال ہی یہ تو ا?یا یاد وہ مجھے بھی جب ہاں دوسر لہذا تھے دور سے تعلیمہیا کردار شاید بلکہ ہوگا بنا برا کا زبان صرف نہ چھوٹو تیسر بھی۔کاا اصل میں بنانے چھوٹو کو اس ہے رسول غلام نام اصل کا جس چھوٹو اس لیکن ہے کا پولیس زمانہ بدنام ہماری توکردار چھوٹو کچا جزیرے ایککو کاجمال یقیناً کام کا بنانیبادشاہ علاقیاس کے کا دانوں سیاست اور داروں جاگیرسرداروں، ہے، کہ ہے وجہ ہی یہپولیس اپنیمتعدد آپریشن نے اس جو ہوئی نہیں کامیابمیں چھوٹو کو پکڑنے کے لیے کیے تھے۔ چھوٹو کا پور راجن اب تھا، چکا بن علامت ایک کی دہشت اور خوف جو کیقانون ہے پاس کیرکھوالوں۔ تمام وہ سے ساتھیوں اسکے اور چھوٹو کو ماہرین کے قانون بیضررسا ایک کیسے کہ چاہیے کرنا حاصلمعلومات13 کی جوچائے بچہ کا سال فرض کا ماہرین کے قانون گیا۔ بن ڈاکو چھوٹو خطرناک ایک تھا کرتا مزدوری پردوکان نے جنہوں کریں تعین کا داروں ذمہ ان وہ کہہے پر بننے چھوٹو کو رسول غلام موجودہ کہ ہونگی دینی بھی تجاویز وہ کو ماہرین کے قانون ہی ساتھ کے اس کیا،مجبورنظام میں وہ کونسی بنیادی تبدیلیاں کی جایں کہ معصوم بچے چھوٹو بننے سے بچ سکیں۔










Leave a Reply